سوات میں ایک بار پھر جو کھیل شروع ہونے جا رہا ہے…… کیا یہ اچانک شروع ہورہا ہے؟ کوئی کچھ بھی کہے…… لیکن مقامی لوگ اب ماننے کو تیار نہیں…… کیوں کہ وہ سب کچھ سہ بھی چکے ہیں اور دیکھ بھی چکے ہیں۔
یہ کوئی راز تو نہیں جب پاکستان کے مغربی پڑوسی ملک میں کچھ لوگوں کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے، پھر یہ کہا گیا کہ کچھ لوگ آئے ہیں اور اپنے علاقوں میں امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ امن سے کیا رہنا تھا…… الٹا بدامنی کا سفر چل پڑا۔
13 ستمبر کو سوات کی تحصیل کبل میں ریموٹ کنٹرول دھماکا ہوا…… جس میں امن کمیٹی کے سربراہ سمیت دو پولیس اہل کار بھی جان سے گئے۔
14 ستمبر کو پھر سوات میں امن کمیٹی کا ایک ممبر قتل کیا گیا۔ ایک اور واقعے میں سوات سے نجی موبائل کمپنی کے اہل کاروں کو تاوان کے لیے اِغوا کیا گیا۔ ان واقعات کے خلاف گذشتہ جمعے کو سوات بھر میں عوام نکلے اور سب کا ایک ہی مطالبہ تھا:’’ہم اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں!‘‘
روایتی طور پر مگر قومی میڈیا نے اس سارے معاملے پر وہی معیار برقرار رکھا جو عموماً خیبر پختون خوا یا بلوچستان کے واقعات رونما ہوتے وقت رکھا جاتا ہے۔
کیا یہ واقعات نظر انداز ہونے کے قابل ہیں؟ الیکٹرانک میڈیا میں یہ ’’پلے ڈاؤن‘‘ کیوں اور کس کے کہنے پر ہو رہا ہے؟ ایک عرصہ سے میڈیا کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارے سامنے واضح ہے کہ قومی میڈیا پختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے ’’خاص ایجنڈے‘‘ پر کار بند ہے۔ یہاں کی مثبت چیزیں اور حقیقی مسایل شاید مرکز مایل میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں؟
ایسے میں سوات کے حالیہ واقعات اگر قومی میڈیا میں صرف ’’ٹِکر‘‘ یا ’’یک کالمی خبر‘‘ تک محدود رہتے ہیں، تو مرکزی نقطۂ نظر سے کوئی حیران کن بات نہیں…… لیکن اس علاقے کے لوگوں کے لیے یہ حیران کن ضرور ہے۔
وجہ اس حیرانی کی یہ بھی ہے کہ سوات میں بالخصوص اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں بالعموم گذشتہ دس پندرہ سالوں میں وہ کھیل کھیلا گیا ہے کہ لوگ اب ’’کھیل‘‘ کے نام سے ہی ڈرنے لگے ہیں۔ اس بدترین کھیل کی مدِ مقابل دونوں ٹیمیں اگر معلوم نہیں تھیں، تو ایک ٹیم ’’معلوم‘‘ ضرور تھی۔ لیکن ’’معلوم‘‘ اور ’’نامعلوم‘‘ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے تماش بینوں (عوام) کے ساتھ وہ کھیل کھیلا کہ اب لوگ کھیل کا نام سنتے ہی سہم جاتے ہیں۔ آخر آدم کی اولاد کب تک برداشت کرسکتی ہے اس بے معنی کھیل کو…… جس میں صرف خون اور بارود، جَلا وطنی، بربادی اور گم شدگی ہی انعام کے طور پر ملتی ہو۔ ابھی تو اہلِ سوات پرانے کھیل کے نشان ذہن سے مٹانے پر مامور تھے کہ ایک اور کھیل کے لیے ’’کھلاڑی‘‘ دروازے پر دستک دینے لگے۔
حالیہ دنوں میں پختون علاقوں میں بدامنی سمیت معلوم و نامعلوم کھلاڑیوں کے کھیل کے خلاف جو عوامی بیداری دیکھی گئی، وہ یقیناً حوصلہ افزا ہے۔ ایسے میں عام لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ سوات میں حالیہ واقعات کیا عوامی ردِ عمل کو ختم کرنے کی کوشش ہیں؟
قارئین! تازہ ترین دہشت گردی کے واقعات کے بعد میرا جہاں بھی جانا ہوا اور جس سے بھی پوچھا، اکثریت کا اشارہ اس طرف ہی رہا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قومی میڈیا کے کہنے نہ کہنے، کچھ دکھانے نہ دکھانے سے زمینی حقایق بدلتے نہیں۔ اس لیے نہیں لگتا کہ ایک دفعہ پھر معلوم و نامعلوم کھلاڑی سوات میں کھیل کھیلنے میں کامیاب ہوپائیں گے۔ سوات امن کمیٹی کا مارا جانے والا سربراہ پہلا نشانہ نہیں…… بلکہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں امن کمیٹیوں کے اکثر راہنماؤں کو مارا گیا ہے۔ نجانے کچھ لوگوں کو امن کے لفظ سے اتنی نفرت کیوں ہے کہ جو بھی امن کی بات کرتا ہے، اس کو امن کے لیے ہی خطرہ قرار دے کر راہی ملکِ عدم کیا جاتا ہے؟
گذشہ ہفتے سوات، کوہاٹ دھماکے اور کرم میں فوج پر سرحد پار سے حملہ یہ سب اس تشویش کو تقویت دینے کے لیے کافی ہے کہ سب کچھ ویسا ٹھیک نہیں جیسا حکومتی اور ادارہ جاتی رپورٹوں میں لکھوایا اور پیش کیا جاتا ہے۔ پختونخوا میں ملاکنڈ ڈویژن کے اندر سوات کے حالات بالخصوص تشویشناک ہیں۔
امید ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور متعلقہ ادارے عوام کو اصل صورتِ حال سے آگاہ کریں گے اور ضروری اقدامات بھی کریں گے۔ کیوں کہ نظر اندازی کی صورت میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مستقبل میں سوات میں ایسا کچھ پھر نہیں ہوگا۔
خدارا! ہوش کے ناخن لیں، وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ سنپولے کو نہ مارا نہ جائے، تو آخر میں سانپ مارنے پر لوگ مجبور ہوجایا کرتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔