طبیعت کی خرابی کے باعث آج کل مصروفیات محدود ہیں۔ حتیٰ کہ لکھنا بھی مشکل ہو رہا ہے…… لیکن کل کی دو خبریں بم بن کر گریں۔ اس لیے کچھ لکھنے بیٹھ گیا۔
پہلی خبر یہ تھی کہ سیلاب کے ستائے ہوئے پاکستان کے مظلوم عوام کے لیے بجلی چار روپے فی یونٹ مزید مہنگی کر دی گئی۔
دوسری خبر یہ کہ جناب وزیرِاعظم نے تھوک کے حساب سے اپنے مشیران مقرر کردیے۔ سو ان حالات میں عوام کی مشکلات اور زیادہ ہوں گی یا یا کم…… یہ ایک اہم سوال ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اس کا ذمے دار کون ہے؟ کیا اس کی ذمے دار ہماری حکم ران اشرافیہ ہے، کوئی ریاستی ادارہ ہے یا محکمہ…… یا پھر ہم عام عوام خود ہیں؟
میرے خیال میں اس کی تمام تر ذمے داری عوام پر ہے…… جو پچھلے 75 سال سے کبھی حب الوطنی، کبھی دین تو کبھی قومیت کے نام پر احمق بن رہے ہیں۔ پھر ہماری انتظامیہ، خاص کر انتظامی قیادت عوام سے ہی تو آتی ہے، کہیں آسمانوں سے یا امریکہ سے تو نہیں آتی۔
مثال کے طور پر ہم اگر پولیس پر تنقید کرتے ہیں، تو یہ پولیس والے ہم ہی میں سے تو ہیں۔ یہ ہمارے ہی دوست رشتہ دار ہیں۔ اس طرح اگر فوجی قیادت ہے، عدلیہ ہے یا پارلیمنٹ…… تو یہ سب ہم میں سے ہیں…… اور ان کو درست ہم ہی نے کرنا ہے۔ اس کی خاطر ہمیں تمام تعصبات سے ہٹ کر اپنے جایز حقوق کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔ دنیا کی قوموں کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ دنیا کی دوسری قومیں اپنی حکومتوں پر سو فی صد چیک رکھتی ہیں۔
اب آئیں، دنیا کی اقوام کا رویہ دو واقعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
میلان اٹلی کا ایک خوب صورت شہر ہے۔ صبح کے وقت جب لوگ کام پر جانے لگے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ شہر کی ایک گلی میں کچرا پڑا ہوا ہے۔ یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے پورے میلان میں پھیل گئی۔چند منٹوں میں میلان شہر کی ایک بڑی آبادی وہاں جمع ہوگئی اور اس اکٹھ نے ایک احتجاج کی شکل اختیار کرلی۔ پولیس چیف آیا۔ دوسرے سرکاری اہل کار آئے، لیکن لوگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ یا شہر کا مئیر آئے، یا وزیرِ صحت۔ بدقسمتی سے وزیرِ صحت میلان میں موجود تھا۔ سو وہ آگیا معافی مانگنے…… لیکن مجمع نے وزیر صاحب کو باقاعدہ باندھ کر کچرا کے ڈرم میں پھینک دیا اور یہ نعرے لگائے کہ تم سب سے بڑا کچرا ہو۔ اس کے بعد میلان میں کچرا نظر نہ آیا۔
دوسرے واقعے کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ کچھ عرصہ قبل میں ایران میں تھا اور جس ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ہم تھے، وہ بتا رہا تھا کہ شاہِ ایران کے دور میں ہم معاشی طور پر بہت خوش حال تھے…… لیکن اب دنیا کی معاشی و سیاسی پابندیوں کی بدولت ہم کافی پس ماندہ ہیں۔ جب مَیں نے اُس سے سوال کیا کہ پھر تم لوگ شاہ والے دور کے لیے آواز کیوں نہیں بلند کرتے؟ تو وہ بولا بالکل نہیں…… کیوں کہ تب ہمارا شاہ دوسروں کا غلام تھا اور ہم شاہ کے غلام تھے، جب کہ اب ہم سب ایک ہی ہیں۔ اس مشکل وقت کو ایران کے عوام اور حکم ران مل کر جھیل رہے ہیں۔ اور اس کا عملی مظاہرہ دوسرے دن ہی نظر آگیا۔ ہم تہران کے مشہورِ زمانہ آزادی چوک میں کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک پولیس والا آیا اور اس نے کچھ کہا۔ ہمیں بتایا گیا کہ ایران کا ایک انتہائی اعلا حکومتی عہدے دار آرہا ہے۔ شاید وہاں انقلاب میں شہید ہونے والے ایرانیوں کی دعائیہ تقریب ہے۔ اتنے میں وہاں کچھ عام سی دریاں بچھا دی گئیں اور پھر ایک پولیس کی وین آئی۔ ساتھ ایک عام سی کار…… وہ شخصیت اتری اور دریوں پر بیٹھ گئی۔ ساتھ میں وہاں موجود عوام کو بھی دعوت دی گئی۔ ہم بھی بیٹھ گئے۔ کچھ مذہبی دعائیں ہوئیں، ہلکی سے گفتگو ہوئی، پھر مہان شخصیت نے تین منٹ خطاب کیا اور ہمیں بتایا گیا کہ کھانا پیش کیا جائے گا۔ پھر کھانا چن دیا گیا۔ ایک چھوٹی پلیٹ میں اُبلے ہوئے چاول، ساتھ پانی والا گاجروں کا اَچار، دو مکمل بوٹیاں مرغی کی، چند ٹکڑے کھیروں اور ٹماٹر کا سلاد اور ساتھ ایک عدد ٹکڑا کیک…… جو کیک کی ایک قاش کا چوتھا حصہ ہوگا۔ ایک چھوٹی بوتل صاف پینے کا پانی۔ یہ کل لنچ ہم نے تناول مفت فرمایا اس تقریب میں۔ بعد میں اسی ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ یہ شخصیت اسلامی جمہوریہ ایران کے مضبوط ترین اور اہم ترین وزیر کی تھی۔ نہ اعلان، نہ ہٹو بچو، نہ ہنگامہ، نہ پروٹوکول۔ عام شہری اور ہم جیسے عارضی سیاح بھی اُتنے اہم اور وہ بھی اُتنا ہی اہم۔ وہی کھانا اس نے کھایا وہی عوام نے۔ تب میں نے سوچا کہ شاہِ ایران جیسے غاصب کے ٹینکوں کے آگے کھڑے ہو جانے والے ایرانی اس مشکل میں خاموش کیوں ہیں؟ کیوں کہ وہاں اصل معنوں میں خوشیاں سانجھی اور غم ایک ہیں۔
اور قربان جاؤں میں ہزارہا تعصبات کی شکار اس عظیم پاکستانی قوم کے کہ جو بس کچھ ظالم درندوں کی محبت کا شکار ہیں۔ ایک طرف موج مستیوں کی انتہا ہے، جب کہ دوسری طرف عوام کی بدحالی کی…… لیکن ایک ہم ہیں کہ پورا ملک تباہی کی جانب گام زن ہے۔ پہلے کرونا نے معیشت تباہ کی اور اب سیلاب نے ہماری زراعت کا ستر فی صد تباہ کر دیا ہے۔ ہم دنیا سے مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ ہمارے لوگ بے یارو مدد گار پانی میں پڑے ہوئے ہیں۔ باقی جو رہ گئے ان کو مہنگائی اور بے روز گاری نے برباد کیا ہوا ہے۔ حکومت اپنے روایتی اللے تلوں میں مدہوش ہے۔ کابینہ بڑھتی جا رہی ہے۔
آج بھی حکومت کا پروٹو کول دیکھیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی عرب کا بادشاہ جا رہا ہے۔ ضمیر کی آواز نہ خوفِ خدا۔ ہمارے عوام گھٹ گھٹ کے مر رہے ہیں لیکن مجال ہے کہ حکم رانوں کا گریبان پکڑنے والا کوئی ہو۔ سب کچھ قسمت اور تقدیر کے حوالے کرکے گویا ستو پی کے سوگئے ہیں۔ کاش! ہم میں کوئی انسانی رمق باقی ہو اور وہ اس ظلم و زیادتی پر بغاوت کا علم بلند کرے۔ ہمارے سابق وزیرِ اعظم ’’امام علی بن ابو طالب‘‘کا ایک قول بہت تواتر سے دہراتے تھے کہ ’’کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں۔‘‘ جب کہ اسی تناظر میں امام علی بن ابو طالب کا ایک اور قول مبارک ہے کہ ظلم کرنا تو ظلم ہے…… لیکن ظلم سہنا بھی ایک طرح کا ظلم ہی ہے۔
ہماری حکم ران اشرافیہ کبھی سیدھی طرح سے نہیں مانے گی کہ جب تک ان کا حشر اٹلی کے وزیر والا نہ کیا جائے گا۔ کیوں کہ ہماری اشرافیہ کو یہ عادت پڑگئی ہے، ان کا مزاج بن گیا ہے۔ وہ خود کا عیاشی کرنا اور غریبوں کو جانور سمجھنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ان کو جواب دہی کی عادت ہی نہیں اور ان کو جواب دِہ صرف بذریعہ طاقت ہی بنایا جاسکتا ہے۔ وگرنہ آج کے حالات میں دنیا کے ترقی یافتہ چھوڑیں، کسی ترقی پذیر ملک میں بھی یہ بات ممکن نہیں کہ پورا ملک ڈوب چکا ہو اوروزیرِ اعظم صاحب کابینہ میں اضافہ کیے جا رہے ہوں۔ اور کابینہ بھی وہ کہ جہاں کسی پروفیشنل ٹیکنو کریٹ کو نہیں بلکہ کچھ سیاسی مجاوروں کو ایڈجسٹ کیا جا رہا ہو، حلیفوں کو خوش کیا جا رہا ہو۔
ایک طرف قوم مر رہی ہے اور دوسری طرف پروٹوکول کی گاڑیوں میں اضافہ، سیکورٹی پرسنیل میں اضافہ، پھر ان کی میٹنگیں، دعوتیں اور خرمستیاں۔ سو اس حکم ران ایلیٹ سے توقع کرنا حماقت ہے۔ قوم کو خود کھڑے ہو کر اس بوسیدہ نظام کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرکے اپنے حقوق کو چھیننا شروع کرے۔ وگرنہ اسی طرح بھوکی اور ننگی حالت میں غلامی کرنا ہوگی…… اگر کرنا چاہتے ہیں، تو کرتے رہیں۔
حق بات تو یہ ہے کہ اصل مجرم ہم عوام خود ہیں…… کوئی اور نہیں!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔