اس وقت 70 فی صد پاکستان سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے…… جس کی وجہ سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 3 کروڑ سے زیادہ انسان براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
اس وقت رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے ’’بلوچستان‘‘ کا باقی ملک سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ سندھ اور جنوبی پنجاب میں متاثرہ علاقوں میں کم و بیش یہی صورتِ حال ہے۔ لاکھوں اہلِ وطن بے یار و مدد گار کھلے آسمان تلے مدد اور امداد کے منتظر ہیں…… لیکن سیاست اور حکم رانی دونوں میں اتنی واضح دراڑیں اور تقسیم نظر آرہی ہے کہ پتا نہیں چل رہا کہ کون کیا کر رہا ہے اور ترجیحات کیا ہیں؟
قارئین! اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اتنی بڑی تباہی اور قومی چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی سیاست دان متحد نہ ہوسکے۔ وزیرِ اعظم کی اپنی جماعت صرف وفاق میں اتحادی حکومت میں شامل ہے۔ سندھ میں وفاقی حکومت میں اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی حکم رانی ہے۔ بلوچستان میں تو سدرن کمانڈ سے پوچھنا پڑے گا کہ وہاں حکومت کس کی ہے اور کہاں ہے؟ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی آبادی ملا کر پاکستان کی 60 فی صد سے زیادہ بنتی ہے۔
ایک طرف وزیرِ اعظم (یعنی وفاقی حکومت) اپنی طرف سے لگے ہوئے ہیں۔ آرمی چیف بھی دورے کر رہے ہیں اور اس طرح سندھ کی صوبائی حکومت بھی کچھ نہ کچھ کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ دوسری طرف پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتیں اور پی ٹی آئی بحیثیتِ سیاسی جماعت کی اولین ترجیح جلسے ہیں۔ تمام تر وسایل اور توانائی سیلاب زدگان کی بجائے ان جلسوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں…… لیکن عمران خان ہے کہ پانی میں ڈوبے ہوؤں کے لیے سب سے پہلے ’’حقیقی آزادی‘‘ پانے پر بضد ہیں۔ وہ آزادی جو صرف ان کے دماغ میں پائی جاتی ہے۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ بھئی! ڈوبنے والوں کو تنکے کا سہارا بھی کافی ہوتا ہے۔ آپ کی جماعت اس وقت 60 فی صد سے زیادہ پاکستان کی حکم ران ہے۔
مزید بر آ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں انتظامی اور مالی اعتبار سے کافی خود مختیار ہیں۔ پہلے مصیبت زدہ اور مفلوک الحال عوام کو پانی، بھوک پیاس اور بیماریوں سے بچائیں، اس کے بعد انھیں آزادی بھی دے دیں (جس طرح پہلے دی تھی)
یہ تو وہی بات ہوئی کہ زخمی کو ابتدائی مدد کی ضرورت ہو اور کہا جائے کہ ’’انتظار کریں، آپ کے لیے پورا ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔‘‘
قارئین! انسانی تاریخ اس قسم کی سیاست سے ناآشنا نہیں کہ خبطِ عظمت اور ہوسِ اقتدار میں مبتلا انسانوں نے ہمیشہ مسیحاؤں کا لبادہ اوڑھ کر بلا شرکتِ غیرے حکم رانی حاصل کرنے کی خواہش میں ’’فساد فی الارض‘‘ برپا کیا۔ اس قسم کے بہروپیے مسیحا کی شکل میں ہمیشہ ایسے اہداف متعین کرتے ہیں، جو عظیم الشان لگیں…… لیکن مذکورہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نہ وقت کا قید و بند ہو اور نہ تکمیل کا واضح پیمانہ…… کیوں کہ انھوں نے کون سا اہداف کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔
اگر ہم بیسویں صدی سے آغاز لیں، تو اس طرح کے دو بدنامِ زمانہ کردار واضح طور پر سامنے آتے ہیں:
٭ ایک، جرمنی کا ہٹلر۔
٭ دوسرا، اٹلی کا موسولینی۔
ہٹلر اور اس کی نازی جماعت سمجھتے تھے کہ اہلِ جرمن دنیا کی عظیم نسل ہیں اور دنیا پر ان کو حکم رانی کا حق حاصل ہے اور یہ ایک مطلق العنان سپریم لیڈر کے بغیر ممکن نہیں۔
اس طرح موسولینی کا بھی خیال (بلکہ سیاسی فلسفہ) تھا کہ اٹلی کو متحد رکھنے، شمالی اور جنوبی اٹلی میں بڑھتے ہوئے سیاسی و معاشی خلیج اور سیاسی خلفشار (جس کے لیے وہ اٹلی کی بائیں بازو کی سوشلسٹ پارٹی کو ذمے دار ٹھہراتا تھا) کو صرف ایک مردِ آہن لیڈر ہی ختم کرسکتا ہے۔
مگر اندرونِ خانہ دونوں یہ سب کچھ اپنی خبطِ عظمت کی تسکین کے لیے کر رہے تھے، جس کے لیے دونوں نے بے تحاشا خون بہایا اور روپیا بھی پانی کی طرح بہایا۔ یوں دونوں نے دنیا کی سلامتی اور اپنے لوگوں کی بقا کو خطرے سے دو چار کیا…… جس کا خمیازہ اب تک دونوں قومیں بھگت رہی ہیں۔
اپنے مقصد کے حصول کے لیے اس قسم کے فاشسٹ ذہنیت کے حامل افراد کو سب سے پہلے ایک بیانیہ، منظم پروپیگنڈا مشین، آزاد ذرایع ابلاغ کا کنٹرول اور اسے رفتہ رفتہ ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے ’’لیڈر‘‘ کو دیوتا اور مخالفین کو شیطان کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بیانیے کی بنیاد نفرت پر ہوتی ہے اور اس نفرت کے لیے ہدف یعنی ’’دشمن‘‘ لازم ہوتا ہے۔ کیوں کہ انسانی جذبات کو ضروریات کی بجائے خواہشات، احساسِ محرومی اور نفرت کی بنیاد پر بہت آسانی اور جلد اُبھار کر بھڑکایا جاسکتا ہے۔
ہٹلر نے جرمنی کے کمیونسٹوں اور بائیں بازو کے ان دیگر سیاسی قوتوں سے آغاز لیا جن کو موصوف اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھتا تھا۔ پارلیمنٹ کو خود آگ لگائی اور الزام کمیونسٹوں پر لگا کر ان کو ٹھکانے لگا دیا۔ پھر جب جنگ کے دوران میں ناکامی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوئے، تو وجہ یہودی سازش کو قرار دے کر عوام کے غصے اور نفرت ان کی طرف موڑ کر انھیں ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔ ٹھیک اسی طرح موسولینی نے اٹلی کی زبوں حالی کی ذمے داری سوشلسٹ پارٹی پر ڈال کر اس کو تختۂ مشق بنایا۔
مذکورہ دونوں شخصیات کا انحصار پروپیگنڈا مشین پر تھا، جس کے ذریعے وہ اپنا سچ تخلیق کرتے تھے…… اور وہ سچ یہ تھا کہ ’’جھوٹ اتنے تسلسل اور اعتماد سے بولو کہ لوگ اس کو سچ ماننے لگیں۔ اپنی غلطی اور ناکامی کو کبھی تسلیم نہ کرنا بلکہ اس کو سیاسی مخالفین کی سازش اور ریشہ دوانیوں کا نتیجہ قرار دے کر خود بری الذمہ ہوجانا۔‘‘
قارئین! ذہنی صلاحیت کے علاوہ عمران خان ذکر شدہ طریقۂ واردت کو مکمل طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ زمینی حقایق یہ ہیں کہ 72 سالوں میں ماضی کی تمام حکومتوں نے 22 ہزار ارب کے قرضے لیے اور خاں صاب کی حکومت نے صرف پونے چار سالوں میں 18 سے 20 ہزار ارب روپے لیے۔ خیبر پختونخوا میں پچھلے 9 سالوں سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس عرصہ میں ایک رپورٹ کے مطابق ’’جون 2022ء تک صوبائی حکومت نے 791 ارب روپے کے بیرونی قرضے حاصل کیے۔ یاد رہے کہ 2013ء تک خیبر پختونخوا کے بیرونی قرضے کا حَجم 97 ارب روپے تھا۔‘‘ لیکن بقول ہمارے عظیم لیڈر کے ’’ملک کو دو سیاسی جماعتوں کی سابق حکومتوں نے قرضوں میں ڈبویا۔‘‘
9 سالوں میں پی ٹی آئی حکومت نے بس دو قابلِ ذکر پراجیکٹ شروع اور مکمل کیے، پہلا بی آر ٹی اور دوسرا پراجیکٹ ’’سوات ایکسپریس وے‘‘، بدقسمتی سے دونوں معیار اور شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ مرکز میں پونے چار سالہ حکم رانی میں کوئی ایک میگا پراجیکٹ شروع اور مکمل نہیں ہوپایا…… بلکہ پچھلی حکومت کے کئی زیرِ تکمیل پراجیکٹوں کو سست روی کا شکار بنایا۔
بطورِ وزیر اعظم، عمران خان نے جو کام باقاعدہ اور تسلسل سے کیا، وہ میڈیا مینجمنٹ اور سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا، کردار کُشی اور ان کی سرکوبی ہے۔ ذرایع کے مطابق وہ دن دو بجے دفتر آکر اپنے میڈیا کے ساتھ میٹنگ کرتے اور اپوزیشن کے خلاف مقدمات پر معلومات لے کر واپس ہیلی کاپٹر پر بنی گالہ چلے جاتے تھے۔ ہاں! لیکن، عمران خان اور بیسویں صدی کے فاشسٹوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے معروضی حالات کی پیداوار تھے…… مگر موصوف مخصوص ہاتھوں کی مدد سے اپنے مقاصد کے لیے تراشے گئے ہیں۔ اب پتا نہیں کہ یہ تراشا ہوا صنم خود بھگوان بننا چاہتا ہے…… یا اب تک اس پر اپنے تراشنے والوں کی نظرِ کرم ہے؟ کیوں کہ یہ بھی طالبان کی طرح کا ایک ’’پراجیکٹ‘‘ تھا، اور جیسا کہ ایک بہت بڑی سیاسی اور مالی سرمایہ کاری کے بعد بنانے والے اب ’’طالبان‘‘ کو ختم کرنا نہیں چاہتے۔ صرف ’’نامساعد حالات‘‘ اور ’’دباو‘‘ کی صورت میں دکھاوے کے لیے ان کی جھلک دکھائی جاتی ہے…… یا پھر ان میں موجود وہ عناصر نشانۂ عبرت بنائے جاتے ہیں، جو حکم عدولی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جو بھی صورتِ حال ہو، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب اس طرح کی ذہنیت ایک دفعہ پروان چڑھ جاتی ہے، تو تباہی ضرور مچاتی ہے۔
بس دعا یہ ہے کہ اللہ سیلاب متاثرین کے حال پر رحم کرے…… اور ان کو جلد سے جلد اس آزمایش نکالے، آمین!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔