اس دفعہ پھر جشنِ آزادی ’’روایتی جوش و خروش‘‘، ’’ملی جذبہ‘‘ اور ’’عقیدت و احترام‘‘ سے منایا گیا۔
ویسے مجھے اب تک یہ جوش و خروش اور عقیدت و احترام کی سمجھ نہیں آئی۔ہر موقع پر جہاں عوام کو احمق بنانا مقصود ہو، تو عزت و احترام اور جوش و خروش جیسے الفاظ بہت چالاکی سے استعمال کیے جاتے ہیں۔ بہرحال 14 اگست اس دفعہ بھی حسبِ سابق منایا گیا۔ فنکشنز، میوزک، ملی ترانے، تقاریر ان سب پر ایک مقروض ملک کا کروڑوں روپیا پھونکا گیا۔
مَیں نے کچھ عرصہ قبل ایک ذاتی سچا تجربہ بیان کیا تھا۔ آج لکھ رہا ہوں قارئین کی دلچسپی کی خاطر۔ یہ 14 اگست کی ایک روشن صبح تھی۔ مَیں 13 کو اپنے گاؤں میں ذاتی کام سے موجود تھا۔ 14 کو واپسی تھی شہر۔ صبح اُٹھا تو گاؤں کے باہر بھٹا خشت پر کام کرنے والے ایک خاندان کی خاتون نظر آئی۔ پھٹی ہوئی چپل اور لیرو لیر دوپٹا۔ اس آس پر کھڑی تھی کہ شاید کوئی اس کو گھر کی صفائی کی خاطر طلب کرلے، تاکہ اس کی بیمار بچی کی دوا کا بندوبست ہوجائے…… مگر شاید اُس کی مایوسی سکون میں نہ بدلنے والی تھی۔ اتنے میں علاقہ کی ایک معزز شخصیت اپنی چمکتی ہوئی گاڑی میں برآمد ہوئی اور مجھے دیکھ کر ان کی عنایت کہ گاڑی روک لی۔ وہ خاتون یہ سمجھی کہ شاید اس کے لیے کچھ کام کا امکان ہوا۔ وہ دوڑ کر آئی اور معزز شخص سے جھڑکیاں کھا کر دوبارہ سکول کی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئی۔ بہرحال مجھے اس معزز شخصیت کی قربت ملی اور قریبی قصبہ تک پہنچ گیا۔ قصبہ میں گہما گہمی تھی۔ ہر طرف قومی پرچم بچوں کے قہقہے وعلیٰ ہذاالقیاس۔
مَیں نے دیکھا کہ ایک پشتون بزرگ کچھ پلاسٹک کا سامان رکھے بیچ رہا تھا، اتنے میں ایک ٹریفک پولیس کی گاڑی رُکی اور پولیس والے نے اس کو ڈانٹا کہ وہ کس طرح سڑک کنارے یہ سٹال لگائے بیٹھا ہے۔ بابا جی نے منت کی کہ یہ جگہ ممنوع نہیں، مَیں سڑک سے دور ہوں…… لیکن پولیس والا اس کو ہٹنے کا حکم دیے جا رہا تھا۔ پھر اچانک اُس پولیس والے نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی ایک چھوٹی میز اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھی اور بابا پشتو میں بڑبڑاتا رہ گیا کہ اتنی تو اس کی دہاڑی نہیں لگتی، جتنا پولیس والا لے گیا۔ مَیں یہاں سے شہر کے لیے ویگن پر سوار ہوا۔ ویگن میں ایک بچہ ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا لیے ’جیوے جیوے پاکستان‘ گا رہا ہے۔ جب مَیں اپنے سٹاپ سے اُتر کر گھر کی جانب جاتا ہوں، تو مجھے علاقے کی ایک اہم شخصیت کی جانب سے ایک کیمپ لگا نظر آتا ہے، جہاں شاید ابھی ابھی تقریب ختم ہوئی ہے۔ سپیکر سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے اور ساتھ کھانا کھا کر جانے کی درخواست۔
وہا مجھے ایک دوست نظر آتا ہے، وہ مجھے تقریباً زبردستی پنڈال لے جاتا ہے، جہاں مرغ بریانی، مٹن کورمہ، کھیر، سلاد اور نان سے مہمانوں کی تواضع کا اہتمام ہے۔ پنڈال میں مجھے میرے جاننے والے کئی سیاسی انتظامی و سماجی ذمے داران نظر آتے ہیں۔ حسبِ ضرورت کھانے کے بعد مَیں باہر نکلتا ہوں، تو منظر عجیب ہے۔ پیچھے کی جانب والی کچی آبادی کے بے شمار بچے ہاتھوں میں گندے شاپر لیے منتظر ہیں کہ شاید ان کو بھی کچھ کھانے کو ملے…… لیکن ان کو بس جھڑکیاں مل رہی ہیں۔ انتظامیہ کے اہل کار ان کو باقاعدہ جسمانی طور پر دھکے دے کر باہر نکال رہے ہیں۔ مَیں محسوس تو کرتا ہوں، لیکن احتجاج کی جرات نہیں کر سکتا…… لیکن اس تجسس سے کہ آج کچی آبادی میں کیا جوش ہو سکتا ہے، جان کر وہ راستہ لیتا ہوں۔ پوری کچی آبادی میں قیامت کی خاموشی ہے۔ کچھ میلے کچیلے بچے ملے، پرچم ہاتھ میں لے کر لہرا رہے ہیں۔ ایک جگہ کچھ لوگ جمع ہیں، مَیں جا کر دیکھتا ہوں کہ ایک بھینس اوندھی پڑی ہے۔ پاس ایک عورت باقاعدہ رو رہی ہے۔ مَیں مشورہ دیتا ہوں کہ کسی اس شعبہ کے ڈاکٹر کو بلاؤ لیکن معلوم ہوا آج 14 اگست کی چھٹی ہے…… اور اس غریب کی بھینس کے مرنے کے قوی امکانات ہیں۔ مَیں مایوس ہوکر گھر کی جانب چلتا ہوں۔ گھر میں میرا بیٹا چیخ رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ میری چھوٹی بیٹی پارک جانا چاہتی ہے یومِ آزادی منانے…… لیکن بیٹا انکاری ہے کہ وہ شام کے بعد دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر جائے گا۔ شاید ون ویلنگ اور سائیلنسر پھاڑ کر جشنِ آزادی کا لطف زیادہ آتا ہے۔
دوسری طرف ٹی وی پر مختلف سیاسی شخصیات کے جشنِ آزادی کے حوالے سے پیغامات سنائے جا رہے ہیں۔ جہاں پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے قایدِ اعظم کی امیدوں اور اقبال کے خوابوں کے مطابق تعمیر کا عہد کیا جا رہا ہے…… لیکن میری نگاہوں میں کام والی عورت، چھابڑی والا پشتون بزرگ، کھانے کی امید لیے منتظر بچے اور بھینس والی خاتون کی تصاویر گھوم رہی ہیں…… جب کہ ٹی وی پر رنگ ترنگ کے ساتھ ملک کی ’’الیٹ کلاس‘‘ کی چمکتی گاڑیاں اور میوزک کی تال نظر آرہی ہے۔ مَیں اس معاشرتی تقسیم اور نا انصافی پر دل ہی دل میں احتجاج کر رہا ہوں کہ یکایک مَیں ہوش میں آجاتا ہوں۔ کیوں کہ ٹی وی پر مشہور ملی ترانہ ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘کی صدا آتی ہے۔ خوب صورت سٹوڈیو، بہترین میوزک، لائیٹنگ اور خوب صورت گلوگارہ…… کسی بھی لطیف جذبہ رکھنے والے کے لیے بہت پُرلطف ترانہ…… لیکن میں پتا نہیں کیوں یہ سن کر فرسٹریشن میں ٹی وی کو اس غصہ سے بند کرتا ہوں کہ جیسے سارا قصور اس بے جان مشین کا ہو۔ میری بیگم فوراً احتجاج کرتے ہوئے ٹی وی دوبارہ آن کرتی ہے کہ اتنا خوب صورت ترانہ بند کیوں کیا؟ میں منھ بسور کر اندر چلا جاتا ہوں اور چھت کو گھورنا شروع کر دیتا ہوں۔ ترانے کے خاتمے پر میری بیگم اندر آکر مجھ سے خیریت پوچھتی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ شاید بیٹی اور بیٹے کی بحث نے مجھے بے چین کردیا ہے…… لیکن میں اس کو بس طبیعت کے بوجھل ہونے کا بہانہ بنا کر جان چھڑاتا ہوں…… لیکن یہ ترانا مستقل مجھے بے چین کر رہا ہے کہ یہ کس نے لکھا اور کس نے اس کے دھن بنائے۔ اتنا پکا اور سفید جھوٹ آپ کس طرح بول سکتے ہیں؟ ہمیں سرکاری میڈیا اور اربابِ اختیار جانتے بوجھتے کہ یہ جھوٹ ہے، یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم ایک قوم اور خاندان کی طرح ہیں۔ ہمارا جینا مرنا، غمی خوشی سب ایک ہے…… لیکن عملی طور پر یہ بالکل غلط ہے۔ یار! کم از کم اور کچھ نہیں کرسکتے تو عوام سے سچ تو بولیں…… اور سچ یہی ہے کہ یہاں بس دو فی صد اشرافیہ کے لیے بہتری ہے باقی اٹھانوے فی صد کی حیثیت بالکل کمی کمین والی ہے۔ نہ ان کو معاشی تحفظ ہے، نہ تعلیمی سہولت…… نہ باعزت روزگار ہے نہ صحت کی ضمانت…… حتی کہ ان کے اپنے جان و مال اور عزت کی کوئی ضمانت نہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ کب ان کو زندہ در گور کیا جائے…… لیکن یہ ضد ہے کہ ہم نے ہر سال ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘مکمل ترنم اور جوش و خروش سے پڑھنا اور گاناہے۔
مَیں تو کم از کم یہ منافقت نہیں کر سکتا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔