تحریر: احمد سہیل
عمران اسلام، بنگلہ دیش کے ایک کم عمر شاعر ہیں۔ بچپن سے بنگلہ زبان میں شاعری کررہے ہیں…… اور اپنے منفرد اندازِ سخن سے اپنی قاری کو متاثر کرتے رہے ہیں۔
عمران اسلام اپنی شاعری کو ایک معاشرتی اور رومانی محرک قرار دیتے ہیں اور اس کے اظہار کو وہ محسوسات کا حساس اظہاریہ بناتے ہیں۔ ان کی شعری رومانیت کا مزاج حاوی ہے جو ایک ذہنی خودکاریت،رویہ اور تجربات و مشاہدات کا عمیق شعری ابلاغ ہے۔ کیوں کہ ان کا سروکار شاعری کے فنی تخلیقی متعلقات کے ساتھ منسلک ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ وہ تحاریر کی قوت میں شاعری کا جمال، جلال اور کمال تلاش کرتے ہیں۔
عمران اسلام 28 ستمبر 1993ء کو بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ سوشل ورک میں ایڈوانس یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ’’خدا کے آنسو‘‘ ہے۔ وہ
"Born to Gain”, "The Bride”, "Love Falls”, "With Teers” اور "Walking on the Moon” جیسی کتب کے مصنف ہیں۔
عمران نے ایک ساتھی شاعر کی حیثیت سے کتاب ’’قدرت کی مسکراہٹ‘‘ بھی لکھی ہے۔ بطورِ صحافی اور معاشرتی کارکن کام کرتے ہیں…… مگر انھیں شاعری ہی سے بے پناہ لگاو ہے۔
"Born To Gain: The Promise of Youthfulness” عمران اسلام کی لکھی ہوئی شاعری کی کتاب ہے۔ اس میں عمران نے اپنی بنگالی نظموں میں سے زیادہ تر منتخب کی ہیں اور ان کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ عمران نے ان نظموں کو اس وقت لکھا جب وہ نو عمر تھے۔ ان کا تعلق نوجوان کی اُس نسل سے ہے جس کو اپنے وطن سے بہت زیادہ لگاو ہے۔
یہ کتاب ان کی محبوب سرگرمیوں کے درمیان وجود میں آتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ایک بچہ جوانی کے خواب دیکھتا ہے اور نوجوانوں کی پیروی کرتا ہے۔ نوجوان اپنے والدین اور قوموں پر فخر کرتے ہیں۔ وہ اپنی جوانی کو شان و شوکت سے گزارنے اور اس سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بوڑھے لوگ ہمیشہ اپنی ماضی کی جوانی اور یادیں لمبی اور ٹھنڈی سانسوں کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
عمران اسلام اپنے شاعرانہ موضوعات کو اپنی شاعری کے آفاق میں لاتے ہیں۔ ان کی نظمیں بہت سارے خوابوں کا مجموعہ نظر آتی ہیں…… اور لگتا ہے کہ وہ عقل کو بے نقاب کر رہے ہیں…… جو حقیقتوں کی نئی شکل ہے۔ یہی ان کی شاعری کی رومانیت کا نچوڑ ہے۔ان کی شاعری دراصل تخیلاتی دنیا کا شعوری تقابل ہے۔ ان کی شاعری رومانیت، معروضی تجربوں اور مشاہدات سے روگردانی اور موضوعی تجربات میں انہماک کا دوسرا نام ہے۔ جو ادراک اور تخیل کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کی اپنی ایک قوت ہے جو ایک جبل المتین کی طرح عالمِ وجود کے مربوط رویے بن کر نمودار ہوتی ہے۔
شاعر معروضی آفاق کو جب اپنے موضوعی سیاق میں دیکھتا ہے…… اور خود تشکیک کا شکار ہو جاتا ہے، تو اس سے اس کا شعری وجود بھی مسمار ہوتا نظر آتا ہے۔ان کی رومانیت اور تخیل میں توازن کم ہی ہے…… جس میں زمان ومکاں کا تضاد ہے…… پختگی نہیں۔ ان کا یہ خیال ہے کی وہ اپنی واردات لکھ رہے ہیں…… مگر ایسا نہیں۔ یہ ان میں معروضی دنیا اور ماحول کے حادثات، انبساط اور المیوں کی مختصرنویسی ہے جس میں معروضیت کی تخلیق کاری ہے۔
قارئین! اب جاتے جاتے ذرا عمران اسلام کی اک پیاری نظم ’’مجھے کون پڑھے گا‘‘ ملاحظہ ہو:
مَیں تم سے محبت کیوں کروں
اگر تم میری طرف نہیں دیکھتے
مَیں تمھیں کیوں لکھوں
اگر آپ میری کتاب نہیں پڑھتے
شاعری کیسے لکھوں
اگر آپ میری حوصلہ افزائی نہیں کرتے
مَیں یہاں کیسے زندہ رہوں گا
اگر آپ میرا ساتھ نہیں دیتے
آپ کو مجھ سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں
صرف مجھے خوش کرنے کے لیے
میرے لیے کچھ کریں
آپ واقعی کیا کر سکتے ہیں
مَیں تم سے نہیں پوچھ رہا ہوں
ذرا میرے خیالات کی قدر کرو
مَیں تعریفیں نہیں چاہتا
میرے الفاظ بھی پڑھ لو
اگر مَیں غریب ہوں، تو کیا حرج ہے
اگر مَیں کالا ہوں تو میرا کیا قصور
آپ تمام دروازے بند کر سکتے ہیں
میں آپ سے درخواست کرتا ہوں
بس میرا کام پڑھیں!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔