غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں سونا پڑتا تھا۔ ہمارے گھر کا صحن وسیع و عریض تھا۔ کیوں کہ اس گھر میں کئی سال تک ریاست کے وزیر مشیر رہ چکے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ زلزلے علیگرام اور ہزارہ کے قریب پہاڑی سلسلے میں ہورہے ہیں۔ جہاں پر بہت گہرائی میں گیس بن رہی ہے۔ جانے حقیقت کیا تھی؟
فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
پھر 20، 25 دن بعد زلزلے خود بہ خود بند ہوگئے۔ وقت گزرتا رہا۔ ریاست مدغم ہوگئی۔ نیا نظام، نیا سیٹ اَپ، نئے محکمے، الغرض سب کچھ مکمل تبدیل ہوگیا۔ ہمارے ’’سٹیٹ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کی جگہ ’’بی اینڈ آر ڈیپارٹمنٹ‘‘ نے لے لی۔ ایک ایگزیکٹیو انجینئر پورے سابقہ ریاست کا مہتممِ تعمیرات بن گیا اور بونیر، شانگلہ، کوہستان، سوات سب کے لیے اُس وقت ایک ہی دفترِ تعمیرات تھا۔ ہمارے پہلے ایکس ای این عبدالرحیم خان تھے۔ لمبی چوڑی قد آور شخصیت تھے، بہت مہربان اور متحمل مزاج۔ ہم ریاست کے سابقہ اوور سیئرز کے ساتھ پدرانہ شفقت سے کام لیتے۔ ہمیں نیا طریقۂ کار عرق ریزی سے سمجھاتے۔ وہ موجودہ پولیس لائن کے وجود میں آنے سے پہلے سیند ریسٹ ہاؤس میں رہتے تھے ۔بعد میں کالج کالونی کے ایک بنگلے میں شفٹ ہوگئے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
ریاستِ سوات دور کی سرکاری زبان بارے ایک ضروری وضاحت  
ریاستی دور کا سوات سنیما  
صنوبر استاد صاحب  
ریاستِ سوات دور کی ملازمت کیسی ہوتی تھی؟
عجب خان حاجی صاحب کی یاد میں 
اُن دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے لیے مناسب جگہ کی تلاش تھی، تو قرعۂ فال ہزارہ اور علیگرامہ کے درمیان وسیع زمین کے نام نکلا۔ یہ ایک وسیع و عریض، بنجر اور بے آب و گیاہ میدان تھا۔ ابھی نیک پی خیل نہر نہیں نکلی تھی۔ الغرض، ہم نے جناب عبد الرحیم صاحب کی راہ نمائی میں اس علاقے کا  contoure survey شروع کیا۔ ہم کیا سروے کرتے، ایکس ای این صاحب خود پلین ٹیبل پر کھڑے ریڈنگ نوٹ کرتے جاتے۔ ہم تین چار بندے صرف سٹاف پکڑے اِدھر اُدھر بھاگتے رہتے۔ کوئی دو ہفتے گزر گئے۔ کام تقریباً مکمل ہونے والا تھا۔ ہم مینگورہ سے لایا گیا کباب کھا رہے تھے۔ مَیں نے ویسے ہی بے دھیانی میں کہا کہ ’’سر! یہ علاقہ کسی وقت زلزلوں کا مرکز تھا اور ہم کئی راتیں کھلے صحن میں گزارچکے ہیں۔‘‘ صاحب نے ہڑبڑا کر کہا: ’’سامان لپیٹ لو۔ ہم واپس جارہے ہیں۔‘‘ اور ناراض ہوتے ہوئے کہا: ’’تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ اتنے دنوں کی محنت ضائع ہوگئی۔‘‘
واپس آکر سیدھے ڈپٹی کمشنر آفس گئے اور اُن کو سب کچھ بتا کر مذکورہ سائٹ چینج کروادی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔