ماڈرن دنیا میں لفظ ’’بریک اَپ‘‘ (Break up) ٹرینڈ میں ہے۔ یہ دنیا آزادی (زیادہ سے زیادہ رومانوی تعلقات بنانے کی پُرفریب آزادی (Illusionary Freedom) کے ساتھ اس آزادی سے ہونے والے درد بھی ساتھ لائی ہے۔
مجھے ایک میسج موصول ہوا جس میں کسی نے کہا تھا کہ ایک رومانوی تعلق میں علاحدگی آنے کے بعد وہ ڈپریشن میں ہے…… اور اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر پا رہا۔ یہ صورتِ حال یقینا بہت تکلیف دہ ہوتی ہوگی۔ کئی لوگ اس سے گزرتے ہیں…… لیکن کیا آپ نے کبھی علاحدگی کو فلسفے کی رو سے دیکھا ہے؟
چائنیز فلسفہ ’’ٹاؤازم‘‘ (Taoism) کے پاس علاحدگی جیسی تکلیف دہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کچھ حقیقت پسندانہ مشورے اور دانش موجود ہے، جس سے ہم علاحدگی کا جذبات سے ہٹ کر حقیقی جایزہ لے کر دیکھیں گے کہ کیسے اس تکلیف کو کم کرکے ہم ایک نارمل زندگی کی جانب واپس آ سکتے ہیں؟
٭ ٹھہرے رہنا (Holding on):۔ ٹاؤازم میں سب سے اہم اور بنیادی نظریہ جانے دینا (Letting Go) ہے۔ ’’جونگزا‘‘ (Zhuangzi) اپنی کتاب میں ایک کہانی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایک مرتبہ بادشاہ نے ’’پے کنگ شے‘‘ نامی ٹیکس جمع کرنے والی آفیسر کو عوام سے ایک ایسے پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے واسطے ٹیکس اکھٹے کرنے کو کہا جس پر عوام کی جیب سے پیسا نکالنا خاصا مشکل تھا۔ ٹیکس آفیسر نے ’’ایف بی آر‘‘ (FBR) کی مانند مقررہ وقت پر جب ٹیکس وصول کیا اور پروجیکٹ مکمل ہوا، تو بادشاہ نے آفیسر سے سوال کیا، ماسٹر پے! ایسا کون سا فن دریافت کیا ہے آپ نے جس سے مقررہ وقت پر ٹیکس (عوام کی جیب خالی کرنے میں) وصول کرنے میں کامیاب رہے ہیں؟
ماسٹر پے نے جواب دیا، ایسا کوئی فن دریافت نہیں کیا مَیں نے۔ بادشاہ سلامت! آپ کو شاید حیرانی ہو جان کر کہ کس طرح مَیں نے بنا ضرورت سے زیادہ کوشش اور قوت لگائے، حالات کے مطابق ڈھلتے ہوئے اور معاملات کا جایزہ لیتے ہوئے ان کے مطابق فیصلے کرتے ہوئے بہت آسانی سے ٹیکس کی رقم وصول کی۔
قارئین، ماسٹر پے نے بنا الجھے، بنا ضرورت سے زیادہ قوت لگائے، موجودہ حالات کے مطابق ڈھلتے ہوئے اپنا کام مکمل کیا۔ ٹاؤازم کا فلسفہ یہی سکھاتا ہے کہ آپ کیسے حالات کے ساتھ اپنی شخصیت، فیصلے اور نظریات بدلتے ہیں۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ رومانوی محبت کا ٹیکس سے کیا تعلق……! تو تعلق ہے۔ رومانوی محبت ’’ٹاؤازم‘‘ کے فلسفہ کے متضاد ہے۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں، اسے خود سے جوڑے رکھتے ہیں۔ اگر وہ چلا جائے، تو ہم ان حالات کو قبول کرنے کی بجائے اسے واپس زندگی میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرکے ہم باہری دنیا اور اپنے اندر کی دنیا میں موجود نظام کے متضاد ہوجاتے ہیں۔ فطرت میں زندگی نرم اور لچک دار ہے…… جب کہ موت سخت اور خشک ہے۔ علاحدگی ہوچکی، وہ انسان ماضی بن چکا اور آپ آج بھی اس کی یاد میں ہیں، جو ماضی میں ہے، وہ مرا ہوا ہے۔ موجودہ حالات سے انکار کرکے ماضی کو گلے لگا کر اس سے چپک جانا اور قبول نہ کرنا، ہر قوت لگا کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا، آپ کو زندگی میں موجود مزید مواقع کو دیکھنے اور حاصل کرنے سے روکتا ہے۔ نئے مواقع دیکھنے کے لیے پرانا جانے دینا یعنی”Let Go” کرنا ضروری ہے۔
٭ واقعے کا دوسرا رُخ دیکھنا:۔ ’’جونگزا‘‘ اپنی کتاب میں ایک واقعہ بیان کرتا ہے کہ جنگل میں ایک درخت جو ٹیڑھا، جس میں کئی موٹی شاخیں تھیں…… لکڑہارا اُسے کاٹنے سے انکار کر دیتا ہے، یہ کَہ کر کہ یہ بے کار یعنی "Worthless” ہے۔ ’’جونگزا‘‘ سوچتا ہے کہ اس لکڑہارے کی نظر میں درخت کا بے کار ہونا اس درخت کے لیے بہتر رہا۔ اگر وہ کار آمد ہوتا، تو کلہاڑی کی نظر ہوجاتا۔
قارئین! اب آپ سوچیں گے کہ رومانوی محبت کا لکڑہارا اور درخت سے کیا تعلق……! تو تعلق ہے۔ کوئی آپ کو چھوڑ گیا (یا کسی وجہ سی دونوں باہمی رضامندی سے علاحدہ ہوگئے…… لیکن آپ نہیں بھول پارہے) سوچیں کیا پتا اس کا آپ کو چھوڑ جانا آپ کے حق میں بہتر ہو۔ کیا پتا وہ انسان نارساسسٹ/ ٹاکسک ہو۔ کیا معلوم اس کے چلے جانے سے آپ کو اپنی زندگی میں ایک نیا موڑ مل جانے والا ہو۔ جیسے وہ درخت اس لکڑہارے کی نظر میں بیکار تھا یا کچھ بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا، لیکن اس درخت کے اور بھی کئی فواید یا کام ہوں گے جنگل میں۔ یوں ہی ضروری نہیں کہ اگر آپ کسی ایک انسان کی نظر میں اس کے لیے مناسب نہیں، تو کسی اور کے لیے بھی نہیں ہوں گے۔ ہمارے ساتھ ہونے والے واقعات کے دوسرے رُخ اکثر ہماری نظروں سے پنہاں ہوتے ہیں۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ جب معاملات سامنے آئیں، تب ہم اکثر شکر ادا کرتے پائے جاتے ہیں کہ ’’جو ہوا چھا ہوا۔‘‘
٭ عارضیت (Impermanence) کو قبول کرنا:۔ رومانوی تعلقات میں ہم ایک دوسرے سے بہت زیادہ مانوس (Attached) ہوجاتے ہیں…… اور جب وہ انسان ہماری زندگی میں نہ رہے، تب راتوں رات ہم اس اُنسیت کو ختم نہیں کرسکتے۔ بقول کمپیوٹر سائنس دان جیرن لینیر کے ’’آپ کوئی آلہ (Gadget) نہیں ہیں۔‘‘ آپ اپنے جذبات کو کسی سائیکا لوجسٹ کے پاس جاکر ٹھیک (Fix) نہیں کروا سکتے۔
رومانوی تعلقات میں ہماری انسیت بہت گہری ہوتی ہے اور ایسے جذبات کو دبانا یا ان سے دور بھاگنا ہمیں صرف تکلیف دیتا ہے، تو ایسے میں کیا کیا جائے؟ ٹاؤازم کا بانی ’’لاؤ سو‘‘ (Lao Tzu) کہتا ہے کہ دنیاوی معاملات پر مہارت تب حاصل ہوتی ہے جب آپ معاملات کو فطری طور پر حل ہونے دیتے ہیں۔ آپ فطرت کے خلاف جاکر مہارت حاصل نہیں کرسکتے۔ مطلب یہ کہ آپ دریا کی سمت کے خلاف جا کر کچھ دیر کے لیے تیر تو لیں گے، لیکن کچھ ہی دیر میں تھک کر ہار جائیں گے۔ البتہ دریا کے بہاؤ کے ساتھ بہنا انرجی بچاتا ہے اور کہیں نہ کہیں پہنچا ہی دیتا ہے۔ آپ فطرت سے کسی صورت بھی نہیں لڑسکتے۔
علاحدگی کے درد میں مبتلا انسان پر دنیا کی کوئی کتاب، کوئی عقل و دانش، کوئی بھی علاج اثر نہیں کرسکتا۔ ایسے میں اگر اثر رکھتا ہے، تو ایک فطرت کا بنایا ہوا مرہم وقت (Time)، فطرت میں ہر شے عارضی ہے اور یقینا آپ کے جذبات بھی۔ جلد بازی کرنا یا زبردستی بھولنے کی کوشش کرنا مزید تکلیف دے گا۔ اس انسان کے جانے پر رنج کریں، افسردہ ہیں، تو اپنے احساسات کو قبول کریں اور افسردہ ہوں، اپنے زخموں کو فطرت کے بنائے مرہم وقت سے بھرنے کی کوشش کریں۔ جیسے بارش کے بعد آسمان صاف ہوتا ہے…… ویسے ہی آپ کا ذہن بھی اس اذیت بھری دھند سے صاف ہوجائے گا۔ درد سے گزر کر آپ اعصابی طور پر مضبوط ہوجائیں گے۔ درد اکثر ہمارے اندر کی ’’کریٹوٹی‘‘ (Creativity) کو اُجاگر کرتا ہے، لیکن اس تکلیف کو زبردستی ختم کرنے کی کوشش میں نارمل دکھنے اور محسوس کرنے کے چکر میں علاحدگی والے درد کو مزید بڑھاوا دے دیتے ہیں۔ عارضیت ہماری دوست بھی ہے اور دشمن بھی، اگر عارضیت کے خلاف جائیں گے اور معاملات یا لوگوں یا جذبات کو بدلتے حالات کے ساتھ قبول نہیں کریں گے، تو یہ ہماری دشمن بن جاتی ہے اور اگر اسے قبول کریں تو ہماری تکالیف کم ہوجاتی ہیں۔ کیوں کہ اپنے رومانوی تعلق کے ختم ہونے پر ہم انسانوں اور دنیا کی عدم یقینی والی فطرت (Uncertain Nature) کو قبول کرلیتے ہیں۔
٭ جانے دینا (Letting Go):۔ جذبات اور انسیت کو جانے دینا یعنی "Let Go” کرنا بہت مشکل عمل بن جاتا ہے۔ اگر ہم اس بات کو قبول نہ کر لیں کہ فطرت کا مشغلہ حالات کو تبدیل کرنا ہے۔ ہمارے ساتھ رہنے والا شخص جس سے ہم لگاو رکھتے ہیں، اس کے احساسات میں کبھی تبدیلی آنا ممکن ہے۔ ایسے میں اگر آپ فطرت کے اس بدلاو والے اصول کو قبول نہیں کرتے، تو فطرت کا کچھ نہیں جاتا۔ نقصان آپ کا ہے۔ ’’ٹاؤازم‘‘ کے مطابق کوئی بھی بدلاو بنیادی طور پر صحیح یا غلط نہیں ہوتا۔ فطرت محض اپنا کام کررہی ہے، لیکن آپ کا ذہن ان تبدیلیوں کی جانب سخت رویہ اختیار کرلیتا ہے اور کہانیاں گھڑنے لگتا ہے۔ کچھ بھی ہوجائے میں اسے نہیں بھول یا حاصل کرسکتا یا مجھے اسے بھولنا یا حاصل کرنا ہے ہر حال میں…… یہ آپ کے دماغ کا خلل ہے اور جب اس خلل کا حقیقت سے سامنا ہوگا، تو مصیبت آپ کو ہونی ہے کسی اور کو نہیں۔
لوگوں، جذبات یا احساسات کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ہم انسان ہیں اور دوسرے انسانوں سے لگاو اور اُنسیت ہماری بیالوجی میں شامل ہے، لیکن ہمارے پاس منطق اور لاجک ہے جو اس قسم کے فلسفے کے ذریعے فطرت اور اس کے قوانین کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ منطق اور لاجک والا دماغ آپ کے جذباتی زخموں کو دبانے یا اس کا غلط جگہ اظہار کرنے کی بجائے اسے قبول کرکے گزرتے وقت کے ساتھ بھرنے کی تلقین کرتا ہے ۔
دوسروں کو کنٹرول کرنا یا ان کو خود سے دور نہ جانے دینا انہیں ہم سے مزید دور جانے پر مجبور کرتا ہے اور جب ہم اپنے قریبی رشتوں کو آزاد کردیں، تب وہ آزادی کے زیرِ اثر ہمارے اور بھی قریب آنے لگتے ہیں، بے شک آزادی بھی خلافِ قیاس (Paradoxical) ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔