ملک بھر میں ابرِ رحمت کو حکومتی کارکردگی نے عوام کے لیے ابرِ زحمت بنا دیا ہے۔ لاہور میں مسلسل 7 گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش نے گذشتہ 20 سالاریکارڈ توڑ دیا۔ ’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا‘‘ والی کہاوت ملک میں آج کل کچھ یوں پڑھی جا رہی ہے: ’’گھر سے نکلا تالاب میں ٹپکا‘‘، ’’کچرے سے پھسلا، تو نالی میں اٹکا۔‘‘
ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ہر سال شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالیہ بارشیں تو گھروں، پلوں، سڑکوں، گاڑیوں اوردکانوں کو گھاس کے تنکوں کی طرح بہا کر لے گئیں۔ سیکڑوں افراد لقمۂ اجل بن گئے، درجنوں معذور ہو گئے اور بہت سے افراد زخمی حالت میں موجود ہیں۔
لگ بھگ 16 ملین لوگوں کے شہر ’’کراچی‘‘ کا حال تو بالکل ناقابلِ بیان ہے۔ 2 درجن کے قریب افراد حالیہ بارشوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔’’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘‘ (این ڈی ایم اے) کے مطابق 5,600 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ذرائع نقل حمل اور رسل و رسایل، جائیداد اور مال مویشیوں کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔
بلوچستان میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے 565 کلومیٹر سڑکیں، 197,930 ایکڑ زرعی اراضی اور 712 سے زیادہ مال مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تباہ کن بارشوں کی وجہ سے 17,500 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ حکومت نے اس نقصان کے اِزالے کے لیے 1 ملین فنڈز کا اعلان کیا ہے۔
حالیہ سال کے دوران میں پاکستان میں گرمی کی شدید لہر چلی جس کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پرموسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں سرِفہرست ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق سال 2018ء میں پاکستان میں 10,000 افراد موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لقمۂ اجل بنے تھے۔ 4 بلین ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان ہوا تھا۔ وفاق، صوبوں اور اداروں میں روابط اور تعاون کی کمی کو اس ساری تباہی کا ذمے دار تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف وزیرِ اعظم پاکستان کا دورۂ بلوچستان اور متاثرین کے لیے امدادی اعلان اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر ہے۔ ہم ہر سال متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے جتنی رقم کا اعلان کرتے ہیں…… اگر ہم اپنے دورِ اقتدار میں اتنی رقم سیلابی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے خرچ کر دیتے، تو آج ہمیں یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔
سالانہ بنیادوں پر اموات، جانی و مالی نقصانات کے باوجود ہم نے آج تک اس قدرتی آفت سے نبٹنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔ بارش رُکنے کی دیر ہوتی ہے اور ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ تباہ کن سیلاب، خشک سالی اور طوفانوں نے ملک کو اپنا مرکز بنا لیا ہے۔
گذشتہ سال بارشوں کی وجہ سے تقریباً 50 افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سیکڑوں بے گھر ہوگئے۔ 2010ء کے سیلاب میں 1600 لوگ جان کی بازی ہار گئے اور 10 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ 2015ء میں کراچی میں گرم ہواؤں نے 1200 لوگوں کو نگل لیا۔ آنے والے سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں میں مزید شدت آئے گی…… مگر ہماری کارکردگی کیا ہے؟ یہ ہم سب کو معلوم ہے۔
بارشوں، سیلابوں اور طوفانوں سے پہلے ہم نے سب اقدامات کیے ہوتے ہیں…… مگر پہلی بوندوں کے ساتھ وہ سارے اقدامات اُڑ کر مریخ پر ڈیرہ جما لیتے ہیں۔ 2020ء میں بارشوں کی تبارہ کاریوں اور اپنی خراب کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لیے نئے ضلع کا اعلان کر دیا گیا تھا، مگر عوام اب اتنے بھی بھولے نہیں رہے…… جتنے کبھی ماضی میں ہو ا کرتے تھے۔ اب تو حکومت کی کشتی ہے اور بارش کا پانی ہے۔
عرصۂ دراز سے ملک میں موسمی تغیرات کو خاطر میں نہ لانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ بارش ہو یا سیلاب…… طوفان ہو یا آندھی…… ہر صورت میں غریب ہی پستا ہے۔ سابقہ اور موجودہ طوفانی بارشوں کی وجہ سے کتنے امرا کے گھروں میں پانی داخل ہوا؟ کتنے امیر بے گھر ہوئے، کتنے امیر اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے، کتنے ایم این ایز اور ایم پی ایز متاثر ہوئے……؟ یہاں غریب کے خون پسینے کی کمائی سے جمع ہونے والے ٹیکسوں پر امیر محفوظ ہے اور غریب مسلسل اذیت میں مبتلا ہو تا چلا جا رہا ہے۔
قارئین! ہمارے کشمیر میں تو آفاتِ سماوی کے پیسے کھانے والوں پر آفات سماوی نازل نہیں ہوئی۔ گذشتہ 50 سالوں میں ملک میں سالانہ درجۂ حرارت 0.5 ڈگری اور گرمی کی شدت گذشتہ 30سالوں میں 5 گنا زیادہ ہوچکی ہے۔ بارشوں کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے…… مگر گذشتہ کچھ عشروں سے ان میں بہت زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ صدی کے دوران میں کراچی کے ساحلوں پر سطحِ سمندر تقریباً 10 سینٹی میٹر بلند ہوئی ہے۔ موجودہ صدی کے اختتام تک ملک کا درجۂ حرارت 3 ڈگری تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ سمندر کی سطح 60 سینٹی میٹر تک بڑھ جائے گی…… جس کی وجہ سے ساحلی اور نشیبی علاقے شدید متاثرہو ں گے۔
مستقبل میں وقوع پذیرہونے والی ان موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان سخت متاثر ہوگا اور ملک میں خوراک کی قلت…… گلیشئرز کے پگلنے…… بارشوں میں اضافے…… خشک سالی…… سیلابوں اور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس طرح پانی کی قلت کی وجہ سے توانائی کے شعبے مزیدبحران کا شکار ہو جائیں گے۔ سال 2010-14ء میں پیرس معاہدے کے نتیجے کے طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے تقریباً 6 فی صد وفاقی بجٹ مختص کیا گیا۔ پاکستان نے 2030ء تک گرین ہاؤس گیس کو کم کرنے کا حدف 20 فی صد تک حاصل کر لیا ہے، تا ہم مزید کامیابیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے۔
ملک کے تین چوتھائی حصے میں 250 ملی میڑ بارش ریکارڈ کی جا تی ہے۔ شمالی علاقہ جات کے کچھ حصوں میں 760 تا 2000 ملی میٹر تک بارش ہوتی ہے۔ مستقبل کے موسمیاتی جن پر قابو کرنے کے لیے ہمیں دیرپا اقدامات کرنے ہوں گے…… تا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان دیں…… جہاں وہ امن و سکون سے زندگی بسر کرسکیں۔
ہمیں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیرز کو پگھلنے سے روکنے کے لیے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہوگا، ورنہ ملکی مسایل کے ساتھ ہم عالمی موسمیاتی تبدیلیوں میں اضافے اور تیزی لانے کا موجب بن سکتے ہیں۔
دریں اثنا ان گلیشیرز کے پگھلنے سے ہمارا انڈس کا نہری نظام بری طرح متاثر ہوگا۔ ڈیموں میں مٹی اور ریت زیادہ بھر جانے اور سیلابوں کی وجہ سے ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے۔ ڈیلٹا کے علاقوں میں ہماری زراعت بحران کا شکار ہوگی۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کو روک کر معیشت کو استحکام دینا ہوگا…… اور اس ضمن میں دیگر ممالک کے ساتھ باہمی اشتراک اور ان کے تجربات سے مستفید ہوتے ہوئے اپنے ملک کو محفوظ بنانا ہوگا۔
ہمیں غریب پرور پروگرامات اور اقدامات اٹھانے ہوں گے، تاکہ بارشوں اور سیلابوں سے متاثرہ خاندانوں کے نقصان کو پورا کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ ہمیں ہوائی جایزوں کی بجائے میدان میں اتر کر مسایل کو حل کرنا ہوگا۔
عجیب بات ہے کہ ہم ووٹ لینے کے لیے تو ہوائی جایزہ نہیں لیتے، تو مشکل وقت میں ہم جہاز میں سیرکر کے غریبوں کے زخموں پر نمک کیوں چھڑکتے ہیں؟
ہمیں خوراک، پانی اور توانائی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پیشگی آگاہی کی ٹیکنالوجی پر توجہ دینے کے ساتھ شجر کاری بڑھانے اور ’’کاربن ڈائی آکسائیڈ‘‘ کی مقدار کم کرنے پر تیزی سے کام کر نا ہو گا، ورنہ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ تباہی تو ہماری دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔