یہ سنہ 80ء کی دہائی کے آخری سال تھے، جب محترمہ بینظیر بھٹو اپنے والد کی پھانسی اور طویل جلاوطنی کے بعد واپس آئی تھیں۔ قوم کا بڑا حصہ ان کے ساتھ تھا۔ تب محترمہ جوان تھیں اور ملک کی معاشرت میں ضیاء الحق نے ایک رجعت پسند فکر کو مسلط کیا ہوا تھا۔ سو اس وجہ سے محترمہ کی جماعت کے اہم راہنماؤں اور خاص کر ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو کی یہ شدید خواہش تھی کہ بی بی جلد از جلد شادی کرلیں۔ ہم چوں کہ تب بہت نوجوانی کی عمر میں تھے، سو جب بھی محترمہ کی شادی بارے بات ہوتی، تو ہمارے دماغ میں محترمہ کے شوہر کا جو نقشہ آتا، وہ کسی روایتی سیاسی گھرانے کا ہوتا۔ پھر انہیں دنوں محترمہ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے شادی بارے سوال کے جواب میں کہا کہ جب ان کے گھر والے خصوصاً والدین یہ چاہتے تھے اور میں تیار بھی تھی، تو قسمت نے حالات بدل دیے اور میرے خاندان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔
پہلے ان کے والد کی حکومت گئی۔ پھر والد کی پھانسی، جماعت پر سختیاں اور جیل منتظر تھی…… اور جب وہ جیل سے نکل کر باہر آئی، حالات کچھ نارمل ہوئے، تو ان کے جوان بھائی کا قتل ہوگیا۔ یوں ایک کے بعد ایک مصیبت نے ان کے حالات نارمل رہنے نہ دیے اور شاید شادی کا وقت گزر گیا۔ تب ہمارا بھی خیال تھا کہ شاید بی بی اب فاطمہ جناح کی طرح تمام زندگی اکیلے بسر کرے گی…… لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد میں پنڈی کچہری کسی کام سے گیا، تب دو ہی اخبار ہوتے تھے، ’’نوائے وقت‘‘ اور ’’جنگ‘‘۔ اور ہاکر باقاعدہ آواز لگا کر بیچا کرتے تھے۔ سو میرے کانوں میں آواز پڑی) ’’تازہ خبر پڑھیں، بینظیر کی منگنی ہوگئی۔‘‘ مَیں نے اس کو مذاق سمجھا، مگر جب اخبار دیکھا، تو دونوں اخبارات کے پہلے صفحے پر منگنی کی سرخی لگی تھی اور تفصیل میں تھا کہ سندھ کے ایک سیاست دان حاکم زرداری کے بیٹے آصف زرداری سے منگنی ہوئی ہے۔
حاکم زرداری تو کچھ نہ کچھ معروف تھے کہ وہ اسمبلی اور ڈسٹرک کونسل کی سیاست میں متحرک تھے۔ پھر اُس وقت چوں کہ سینما کا کاروبار بہت منافع بخش تھا اور یہ اس سے بھی وابستہ تھے، سندھ کی حد تک سب سے بڑے فلم نمایش کار تھے، فلمی شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات بھی تھے…… لیکن آصف زرداری کا نام بالکل نیا تھا۔ ہمیں تجسس ہوا کہ یہ شخص کون ہے، کیا ہے؟
انہیں دنوں مجھے ایک تقریب میں سابق اٹارنی جنرل کے والداور کراچی کے معروف سیاسی کارکن این ڈی خان کی بیگم جو خود بھی بہت جذباتی ’’جیالن‘‘ تھیں…… اُن سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہم نے ان سے بی بی کے منگیتر بارے پوچھا، تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سنا ہے بس ایک روایتی امیر زادہ ہے، جو پولو اور تاش کھیلتا ہے اور امیر نوجوانوں والی کچھ خامیوں کے ساتھ بے پروا زندگی گزار رہا ہے۔ پھر مجھے کسی نے بتایا کہ اس کو ایک ایسے بیورو کریٹ سے معلومات ملیں، جو بھٹو خاندان کے کافی قریب ہے کہ بی بی نے اس بارے فیصلہ کرنے سے پہلے دو کام کیے۔ ایک زرداری صاحب کو اپنے اس ملازم سے ملوایا کہ جس کو کوڑے لگے تھے اور کہا کہ آصف دیکھ لو، بھٹو کے ملازمین کو کوڑے لگتے ہیں اور آپ بھٹو کی بیٹی بیاہنے کے خواہش مند ہیں…… سوچ لیں! تو زرداری نے جواب دیا، بی بی اب میں ان حالات کو خود پر لوں گا اور آپ پر آنچ نہیں آنے دوں گا۔ یہ ایک طرح سے بی بی کے لیے متاثر کن جواب تھا۔
دوسرا بی بی نے زرداری صاحب کو ایک روحانی شخصیت سے ملوایا کہ جس نے بی بی کو زرداری صاحب کی شاید تمام خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا۔ ان میں یہ خوبیاں بی بی واسطے حوصلہ افزا تھیں:
٭ یہ شخص بلا کا ذہین اور دشمن کو بھی دوست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
٭ انتہائی دلیر اور مستقل مزاج ہے۔ دوستی یاری میں سب کچھ کرسکتا ہے، لیکن دباو میں لا کر اس سے کچھ بھی کروانا ممکن نہیں۔
٭ فطری طور پر برداشت کا مادہ رکھتا ہے اور بہت مضبوط اعصاب کا مالک ہے۔
٭ معاف کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ رکھتا ہے اور باطنی طور پر آزاد منش و حالات کے رحم و کرم پر ڈٹ جانے والا ہے۔
باقی فیصلہ بی بی نے خود کرنا ہے اور پھر تمام جمع تفریق کے بعد بی بی دلہن کا جوڑا پہن کر زرداری ہاؤس کی بہو بن گئی…… لیکن میرا اور میرے جیسے لاکھوں لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سب حکمت عملی ضیاء الحق کی ہے۔ وہ مناسب موقع پر بی بی کو طلاق دلوا کر بی بی کی کردار کشی اس کے ہی ممکنہ طور پر سابق شوہر سے کروائے گا…… لیکن یہ تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔
آصف علی زرداری صاحب 26 جولائی 1955ء کو ایک بلوچ قبیلہ کی معروف شاخ ’’زرداری‘‘ میں پیدا ہوئے۔ سینٹ پیٹرک اور گرامر سکول میں پڑھے پھر پٹاور کیڈٹ کالج میں داخل ہوئے اور شاید برطانیہ سے کوئی ڈپلوما بھی لیا۔ عملی زندگی میں زمین داری کرتے رہے اور پھر کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہوئے۔ اس کے ساتھ وہ حاکم علی زرداری کی وسیع جائیداد کے وارث بھی بنے…… لیکن محترمہ بینظیر بھٹو پہلی بار وزیر اعظم بنی، تو آصف زرداری کا نام نہایت ہی منفی حوالے سے میڈیا میں آنا شروع ہوگیا۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی ایسا الزام بھی تھا جو ان پر نہ لگا ہو۔ قتل بشمول بی بی کا قتل، منشیات فروشی، رشوت، کمیشن، اغوا برائے تاوان اور منی لانڈرنگ سے لے کر سینما کے ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت اور موبائل کارڈ اور ٹول پلازہ کے ٹیکسوں میں سے حصہ داری تک ہر الزام ان پر لگا۔ اس طرح عوام خاص کر شمالی پنجاب کی اکثریت ان الزامات سے شدید متاثر ہوئی…… لیکن حیرت کی بات ہے کہ نواز شریف اور مشرف دور میں ہر طرح کی تحقیق ہوئی، لیکن اس کو کسی الزام میں مجرم ثابت نہ کیا جاسکا۔ حتی کے جو بین الاقوامی تحقیقاتی لیکس سامنے آئی جیسے وکی لیکس، پنڈورا لیکس، سوئس لیکس…… کسی میں بھی ان کا نام نظر نہ آیا۔ بہرحال اگر زرداری صاحب نے کچھ غلط کیا ہے، تو یقینا انصاف کیا جائے…… لیکن مبینہ روحانی شخصیت اگر ایسا ہوا ہو، توزرداری بارے خوبیوں کی پیشین گوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی ہے۔ اس شخص نے بہت صبر، مستقل مزاجی اور جرات سے بی بی کا تحفظ کیا۔ جوانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دی۔ بیوی بچوں سے دوری قبول کی، مگر اس کے استقلال میں فرق نہ آیا۔ پی پی کے شدید دشمنوں جیسے لاہور کے خواجوں، شریفوں، سندھ کے پگاروں، کراچی کی مہاجر قیادت اور گجرات کے چوہدریوں کو دوست بنا لیا۔ آج وہ سیاست وہاں لے آیا کہ جہاں بلوچستان کے سردار ہوں، سندھ کی قوم پرست جماعتیں، خیبر پختون خواہ کی نمایندہ و مذہبی جماعتیں، بڑی سیاسی جماعتیں…… جب بھی جوڑ توڑ ہو، نئی صف بندی ہو، ان کا واحد مطالبہ ہوتا ہے کہ گارنٹی آصف زرداری کی چاہیے۔
زرداری کی اصل صلاحیتیں بی بی کی شہادت کے بعد کھل کر سامنے آئیں کہ وہ کس طرح سب کو ملا کر معاملہ فہمی سے سیاسی پیچیدگیوں کو حل کرتے ہیں…… اور اب تک کر رہے ہیں۔ اس نئی صورتِ حال میں زرداری صاحب کے کردار بارے ایک مکمل تحریر لکھی جاسکتی ہے۔ المختصر، پاکستان کی سیاست میں بہرحال ان کو بطورِ ایک صلح جو، معاملہ فہم اور زیرک سیاست دان یاد رکھا جائے گا اور تاریخ میں شاید ان کا کردار مثبت سیاست دان کے طور پر درج ہوگا۔
بے شک زرداری سیاسی اصطلاح میں سب پر ’’بھاری‘‘ ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔