ہر سال 15 جولائی کو نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ مہارت طاقت سے بہتر ہے۔ پوری دنیا میں ہنر مند افراد، ڈگری یافتہ سے کئی گنازیادہ معاوضہ، ذہنی سکون اور پیشہ ورانہ تکریم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
روایتی ڈگریاں ملک میں بے روزگاری کو جنم دینے کے علاوہ معاشرے میں پریشانی، ڈپریشن، ذہنی کھچاو، نفسیاتی مسایل، احساس کم تری اور گھناونے جرایم کا سبب بن رہی ہیں۔ ’’یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام‘‘ (یو این ڈی پی) کے تخمینے کے مطابق پاکستان کی آبادی 2.4 فی صد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ آمدہ چار عشروں میں نوجوانوں کی آبادی 2.1 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ 2050ء تک یہ افرادی قوت 181 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ اگر ہم نے ہنر اور مہارتوں کی فراہمی کی طرف بروقت توجہ نہ دی، تو آنے والے سالوں میں ہمارے لیے اس سونامی کو سنبھالنا بہت کٹھن ہو جائے گا۔
امریکہ میں 52 فی صد افرادی قوت، برطانیہ میں 68، جرمنی میں 75، جاپان میں 80 اور جنوبی کوریا میں 96 فی صد افرادی قوت کو مہارتوں، ہنر اور تربیت سے مزین کیا گیا ہے…… جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں یہ تعداد محض5 فی صد ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کو ڈگریوں کی دوڑ سے نکال کر ہنر اور مہارتوں کی طرف لانا چاہتے ہیں، تو پاکستان میں ہمیں سالانہ تقریباً 3 ملین تربیتی نوجوان درکار ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے پاس 3,740 اداروں میں تربیت فراہم کرنے اور ہنر سکھانے والے افراد کی نشستوں کی تعداد محض400,000 ہے۔ متذکرہ تعداد میں سے 18,000 اساتذہ رسمی ٹیوٹا سیکٹر میں کام کر رہے ہیں۔ روایتی بنیادوں پر 3 ملین نوجوانوں کو مہارتوں اور ہنر سے مزین کرنے کے لیے بھی ہمیں کم از کم 45,000 ادارے اور 200,000 اضافی ٹیوٹا سے منسلک اساتذہ کی ضرورت ہے۔
دنیا میں نوجوانوں کی آبادی سال 2021ء تا2030ء کے درمیان78 ملین کی حد عبور کر جائے گی۔ آبادی کے اس طوفان کا آدھے سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنے نظامِ تعلیم میں ایسی نئی جہتیں متعارف کروانی ہوں گی جو اس للکارکا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہوں۔ عالمی سطح پر گذشتہ 15سالوں کے دوران میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ نوجوان لڑکیوں میں اس کا تناسب30 فی صد جب کہ نوجوان لڑکوں میں یہ تناسب13 فی صد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایک تخمینے کے مطابق آمدہ 15 سال میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے لیے 600 ملین نوکریاں تخلیق کرنا پڑیں گی۔ بے روزگار نوجوانوں میں لڑکیوں کی شرح لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ 1997ء تا 2017ء نوجوانوں کی آبادی کا حجم 139 ملین تک پہنچ گیا، جب کہ افرادی قوت سکڑ کر 58.7 ملین رہ گئی۔ اس وقت تیزی سے ترقی کی راہ پر اُبھرتے ہوئے ممالک میں 5 میں سے 2 نوجوان روزانہ 3.10 ڈالر سے کم آمدن پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
عالمی سطح پر نوجواں میں بے روزگاری کی شرح بالغ افراد کی نسبت 3 گنا زیادہ ہے۔ نوجوان کل افرادی قوت کا 25فی صد ہیں، مگر ان میں بے روزگاری کی شرح40 فی صد سے زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان کی ایک تہائی اکثریت عزت مند روزگارکے مواقع سے محروم ہے۔ صورتِ حال اتنی گھمبیر ہے کہ سال 2015ء میں 74 ملین نوجوان نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں تھے اور یہ وہ تعداد ہے، جس کے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے مختلف سرمایہ کاروں اور تنظیموں نے مہارتوں کی ترویج کو بہت محدود کر دیا۔ نئی مہارتیں سیکھنے والے یا تجربے کے حصول کے لیے کام کرنے والوں کی تعداد بالترتیب کم ہوکر 86 فی صد اور 83 فی صد رہ گئی۔ تقریبا آدھے سرمایہ کاروں نے مہارتیں سیکھنے والے افراد کو الاؤنس اور عارضی تنخواہ کی ادائی بند کر دی۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معیشت میں بہتری کا تناسب3.3 فی صد تک رہے گا ۔ بین الاقوامی افرادی قوت کے ادارے ’’انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن‘‘ (آئی ایل اُو) کے مطابق سال 2020ء میں کام کرنے کے گھنٹوں میں 8.8 فی صد کمی واقع ہوئی ہے جو 255 ملین کل وقتی نوکریوں کے برابر بنتی ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق غربت میں جتنی کمی دو عشروں میں وقوع پذیر ہوئی تھی، اس سے کہیں زیادہ غربت کرونا کی وجہ سے لاحق ہوگئی ہے۔
عالمی بینک، بین الاقوامی ادارہ برائے افرادی قوت اور یونیسکو کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہارتوں کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اداروں کی بندش کی وجہ سے مہارتوں کی ترویج کا تناسب بہت زیادہ کم ہوگیا۔
قارئین! نوجوانوں کو کسی بھی قوم اور معاشرے کا مستقبل تصور کیا جا تا ہے۔ پاکستان کی 64 فی صد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جوعالمی سطح پر نوجوان آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس افرادی قوت کو مہارتوں سے مزین کر دیں، تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس نوکری کے مناسب مواقع کی عدم دست یابی، سماجی شمولیت، ناقص نظامِ تعلیم، صحت کی سہولیات کی کمی اور نوجوانوں سے متعلق ہمارے سماجی اور معاشرتی رویے اس افرادی قوت کو ایک ’’ٹائم بم‘‘ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ موجودہ نظامِ تعلیم نے ہمارے نوجوانوں کے باعزت روزگار کے خواب کو ایک ڈراؤنے خواب میں بدل دیا ہے۔ تعلیمی ڈگریاں روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں…… جب کہ مہارتیں اور ہنر اس بات کے ضامن بن چکے ہیں۔ ہنر مندی اور مہارتیں ہمیں اس بے روزگاری کی دلدل سے باہر نکالنے کا واحد ذریعہ ہیں۔
’’یو این ڈی پی‘‘ کی 2020ء کی رپورٹ کے مطابق 29 فی صد پاکستانی نوجوان ناخواندہ ہیں جب کہ صرف 6 فی صد کے پاس بمشکل 12 سالہ تعلیم موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سالانہ 4 ملین نوجوان کام کاج کرنے کی عمر کو پہنچ کر مارکیٹ میں قدم رکھ رہے ہیں جب کہ اتنی بڑی تعداد میں سے محض 39 فی صد کو سالانہ بنیادوں پر نوکری ملتی ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ تقریباً ملک کے آدھے نوجوان ناخواندہ ہیں اور نہ انہیں کسی ہنر یا مہارت کے لیے تیار ہی کیا جا رہا ہے۔ مقامی سطح پر تربیت، مہارتیں اور ہنر سیکھنے والے نوجوان ملکی یا بین الاقوامی سطح پر مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے یا نوکری حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی حاصل کردہ مہارتیں اور ہنر ملکی اور عالمی سطح کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی۔
افرادی قوت کے عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سال 2020-21ء کے دوران میں بے روزگاری کی شرح 9.56 فی صد رہی اور سال 2022ء میں اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ اس افرادی قوت کو نوکریاں مہیاکرنے کے لیے ہمیں سالانہ مزید 1.3 ملین نوکریاں تخلیق کرنا ہوں گی۔
سال 2020ء کے پانچ سالہ پروگرام کے مطابق پاکستان کا ترقیابی انڈیکس 0.557 تھا، جو درمیانے درجے کو ظاہر کر تا ہے اور ملک 189 ممالک میں 154 نمبر پر تھا۔ اگر علاقائی موازنے کی بات کی جائے، تو صرف افغانستان واحد ملک ہے جو ہم سے پیچھے ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافے اور ہنر اور مہارتوں کی عدم فراہمی کو کم کرنے کی حکومتی کوششیں ناکافی ہیں۔ سالانہ بنیادوں پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور نوجوانوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد کو ہم صرف مہارتوں اور ہنرکی فراہمی کے ذریعے روک سکتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔