20، 21 سال پہلے کی بات ہے۔ مَیں معمول کے مطابق اپنے سکول سروش اکیڈمی پہنچا، جہاں میں وائس پرنسپل تھا۔
گیٹ ہی پر ایک خوش پوشاک عمر رسیدہ خاتون کو اپنا منتظر پایا۔ اس نے بڑے سلیقے سے اپنا تعارف کرایا کہ ’’مَیں پشاور کے فُلاں سکول میں استانی تھی۔ ریٹائرمنٹ سے چند ماہ پہلے آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ علاج پر 10 لاکھ روپے خرچہ آئے گا۔ مَیں نے سوچا اس عمر میں 10 لاکھ کی بینائی کہاں سے لوں؟ صبر شکر کرکے بیٹھ گئی کہ باقی زندگی اللہ اللہ کر کے گزار لوں گی…… لیکن بعد میں پتا چلا کہ میری شاگردوں نے میرے لیے مہم چلائی ہے۔ 9 لاکھ روپے سے زاید جمع کیے ہیں۔ برطانیہ کا ویزہ بھی لگ گیا ہے۔ علاج کی تیاریاں مکمل ہیں…… لیکن پیسے اب بھی پورے نہیں۔ پشاور میں تو سارے سکولوں سے چندے ہوچکے ہیں۔ مَیں نے سوچا باقی کمی سوات کے سکول پوری کر دیں گے۔ رات سنگوٹہ سکول میں قیام کیا۔ صبح ایس پی ایس کالج میں 18 اور انٹرنیشنل اکیڈمی میں 15 ہزار چندہ جمع ہوگیا۔ اب آپ کے سکول میں آئی ہوں۔‘‘
مَیں خاتون کی ہمت کی کہانی سن کر سخت جذباتی ہوا۔ تمام اساتذہ کو سٹاف روم جمع کر کے خاتون سے ملایا۔ مہینے کا وسط تھا۔ مَیں نے اساتذہ کو پیش کش کی کہ اگر آپ کے پاس ابھی پیسے نہیں، تو ہم آپ کی تنخواہ سے ایڈوانس کاٹ کر ان کی مدد کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تمام اساتذہ راضی ہوگئے…… لیکن ایک ’’کرسچن ٹیچر‘‘ مجھے الگ لے گیا اور قایل کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ ’’فراڈ‘‘ ہے اور آپ اس کی مدد نہ کریں۔ مَیں نے کرسچن ٹیچر ’’عاشر جون‘‘ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’اوئے کافر! تمہارے سینے میں دل نہیں، دل میں ایمان نہیں، یہ ہماری ماں کی عمر کی ہے…… انگریزی میں بات کرسکتی ہے۔ یہ دھوکا نہیں دے سکتی۔
عاشر جون اپنی بات پر بضد تھا…… لیکن ہم چندہ کر کے خاتون کے سامنے سرخ رُو ہوگئے اور اس کو اپنی بساط سے بڑھ کر پیسے دے کر رخصت کر دیا۔
ہمارے سکول میں رواج تھا کہ اساتذہ وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کی ضیافت کرتے تھے۔ اگلے دن سکول پہنچے، تو معلوم ہوا کہ دوپہر کا کھانا عاشر جون کی طرف سے ہے۔ حیرت تو بہت ہوئی…… لیکن چھٹی کے بعد سب خوشی خوشی مشہورِ زمانہ کیفے ’’اکبری‘‘ گئے اور پُرتکلف دعوت کے مزے اُڑائے۔
اس دوران میں ہم بار بار عاشر جون سے پوچھتے رہے کہ کھانا کس خوشی میں ہے…… لیکن وہ ٹالتا رہا کہ اطمینان سے کھانا کھا لیں…… بعد میں سب بتا دوں گا۔
کھانے کے بعد عاشر جون یوں گویا ہوا کہ میرا دل نہیں مان رہا تھا کہ خاتون سچ کَہ رہی ہے۔ انٹرنیشنل اکیڈمی فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کسی خاتون کے لیے چندہ نہیں کیا۔ ایس پی ایس فون کیا…… وہاں سے بھی یہی جواب آیا۔ یہ تو ثابت ہوگیا کہ خاتون جھوٹ بول رہی تھی۔ اسی سوچ میں مگن سکول کے چوکی دار کے ساتھ گیٹ پر بات چیت کے دوران میں پتا چلا کہ خاتون جس رکشے میں آئی تھی اس کا ڈرائیور انتظار کے دوران میں چوکی دار کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے کہا کہ یہ خاتون ’’شبستاں ہوٹل‘‘ میں رہتی ہے۔
اس کے بعد عاشر جون سیدھا ہوٹل پہنچا اور نشانیاں بتاکر سیدھا خاتون کے کمرے میں۔ اتفاق سے اس وقت وہ اپنے بستر پر بکھرے ہوئے پیسے گن رہی تھی۔ عاشر کو دیکھ کر پہلے تو کہنے لگی کہ ’’تم بغیر اجازت ایک عورت کے کمرے میں آئے ہو۔ مَیں ابھی پولیس کو بلاتی ہوں……!‘‘ لیکن عاشر نے کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں…… مَیں خود پولیس والا ہوں…… تو پھر ماں جی منت ترلے کرنے لگی اور ساری رقم پیش کی…… لیکن عاشر نے حماقت یہ کی کہ صرف وہ پیسے لیے جو ہمارے سکول سے لوٹے گئے تھے اور خاتون کو کچھ نہ کہا۔ برآمد شدہ پیسوں سے ہماری سادہ لوحی کا جشن منایا۔
قارئین! اس لیے مَیں ہمیشہ کہتا ہوں کہ زکوٰۃ خیرات ہمیشہ ان لوگوں کو دیں جن کو آپ جانتے ہیں۔ قرآنِ حکیم نے بھی قریب کے لوگوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کو ترجیح دینے کی تاکید کی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔