لفظ ’’گلوبل ویلج‘‘ (Global Village) آج کل ہر خاص و عام سے سننے کو ملتا ہے۔ اس کا ترجمہ اُردو میں ’’عالمی گاؤں‘‘ ہوگا۔ اس کے پیچھے جو مفہوم ہے…… اس کی رو سے اتنی بڑی دنیا کے لوگ اب ذرایع ابلاغ، انٹرنیٹ اور مواصلات کی وجہ سے ایک دوسرے سے ایسے جڑ گئے ہیں، جیسے کسی گاؤں کے لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ نیویارک میں اگر کچھ ہوتا ہے، تو اس کا پتا کالام میں اُسی وقت چلتا ہے۔
گلوبل ویلج، گلوبلائزیشن یعنی عالم گیریت کا مظہر ہے اور یہ عالم گیریت بین الاقوامی مالی اداروں اور پالیسیوں کی بدولت ہے۔ اس عالم گیریت کا بنیادی مقصد دنیا میں انسان نہیں بلکہ صارف پیدا کرنا ہے۔ مطلب انسان کا انحصار کلی طور پر صنعت پر کرانا ہے۔ اس معاشی پالیسی کے تحت انسان کے اندر ایسے رویے پیدا کرنا ہیں کہ وہ فطرت پر نہیں بلکہ صنعت پر انحصار کرے۔ جب ہم جیسے دیہاتی بھی ’’ہُورونُو‘‘ کی نسوار کی جگہ ’’چُوچُو نسوار‘‘ پر انحصار کرنے لگیں، تو اس کو عالم گیریت کہا جائے گا۔
آسان الفاظ میں عالم گیرت کے اس پہلو کا مقصد انسان کا اپنی بقا کے لیے کلی طور پر منڈی/ مارکیٹ پر انحصار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مہنگائی ہمیں بری طرح ڈستی ہے۔ کیوں کہ ہماری بقا کا پورا پورا انحصار مارکیٹ کی اشیا پر ہے۔ کھیتوں میں فصل بونا چھوڑدیا اور اگرکچھ بوتے بھی ہیں، تو صرف نقدی کے لیے۔ مویشی پالنا چھوڑ دیا۔ گھر میں دودھ اور اس سے بنی اشیا ختم ہوگئیں۔ دیسی مرغی کی جگہ فارمی مرغی آگئی۔ ہر محلے اور گلی میں پاپڑ اور اس قسم کی عجیب عجیب اشیا آگئیں۔
’’لُوڑائے ٹگون سی کیا کی تُھو‘‘ (گھر میں بچوں کے سالن کے لیے کچھ ہے؟) جیسے جملے ہمارے روزمرہ زبان سے ختم ہوگئے۔ اس جملے کا توروالی میں مطلب یہی ہوتا تھا کہ آیا گھر میں کوئی گائے، بکری یا مرغی ہے؟ کیوں کہ ان پالتو جانوروں سے ہی بچوں یعنی گھرانے کو سالن ملتا تھا۔اب جو خاتون گھر میں ایسے جانور پالتی ہے، تو اس پر اس کی شہر والی سہیلیاں ہنستی ہیں اور اس کا مزاق اڑاتی ہیں۔
کھیت میں ’’شاشلُوک‘‘ (پتوں والی سبزی) کا اُگانا ختم ہوگیا۔ گندم اور مکئی بونا بھی تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ پہلے ’’آان‘‘ اور ’’آینیر گھومار‘‘ یا ’’جوراڑ‘‘ سے بھرے پڑے ہوتے تھے۔ اب ہم ’’گوتی/گُوتی‘‘ آٹا مارکیٹ سے لاتے ہیں۔ لوگوں کے رویوں میں ایسی تبدیلیاں آگئیں کہ اپنی ہی ثقافت اور پیداوار کے ذرایع پر ہنسنے لگ گئے۔ یوں ہم ’’ماڈرن‘‘ اور یورپی ترقی سے ہم کنار ہوتے گئے۔ اس کو ترقی کَہ کر ہم بین الاقوامی مارکیٹ اور مالیاتی اداروں کے غلام ہوگئے۔
ایسے میں عالمی مارکیٹ میں جو ہوگا…… اس سے ہماری دیہات کی مارکیٹ براہِ راست متاثر ہوگی۔ یہ ہورہا ہے اور مہنگائی ہمیں پوری طرح ڈستی ہے۔ اگر دیسی طور پر اپنے پاس کچھ اشیا پیدا ہوجاتیں، تو مہنگائی کا یہ اژدھا ہمیں اس شدت سے نہیں ڈس پاتا۔ گلوبل ویلج کے باسیو، مبارک ہو یہ ترقی……!
ایسے میں ایک مسخرہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ کپڑے بیچیں گے، مگر عوام پر مہنگائی نہیں آنے دیں گے……!
ارے بھائی! تمہاری اتنی اوقات کہاں……! تم اور تمہاری یہ ساری ریاست صرف ایک صارف ہے: اسلحہ کی، گلوبل مارکیٹ کی اور ایسے ترقیاتی رویوں کی۔ تم کپڑے نہیں بیچوگے۔ تم اور تمہارے اشراف اس تفریق کو اپنے لیے تفریح میں بدل دیں گے۔ اشراف کا سٹیٹس/ رتبہ مزید بڑھے گا۔ ہمت ہے، تو اسلحہ کے لیے بجٹ کم کرکے دِکھاؤ۔ ویسے بتاتا چلوں کہ اگر ریاستِ مدینہ کا وِرد کرنے والا بھی وزیرِاعظم ہوتا، تو صورت حال یہی ہوتی۔ وہ تو اس عالم گیریت اور خیرات گری کو مدینہ کی ریاست والے چورن کے ڈبے میں ڈال کر بیچتا رہتا۔ آگے بھی ایسا ہی ہوگا۔ کوئی امید نہیں رکھنا۔ اگر کچھ کرنا ہے، تو اپنا طرزِ زندگی بدلنا ہوگا۔ فطرت پر انحصار بڑھانا ہوگا۔ یہی امید ہے…… یہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔ ایسے میں میرا جی چُوگیل میں رہنے کو کرتا ہے !
نوٹ:۔ معاشی و سیاسی مقابلے، بے ایمانی، رتبے اور تقدیس کی اشتہار بازی، بے حسی، بے مروتی، دِکھاوے، تفاخر، تعصب، تفریق اور کھوکھلے رشتوں کی اس دنیا کو ’’گلوبل ویلج‘‘ کہنا بھی ہمارے گاؤں کی بے عزتی کرنا ہے!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔