’’بھروسا‘‘ (Trust) ’’ہیومن سیویلائیزیشن‘‘ (Human Civilization) کی بنیاد ہے…… لیکن ہم انسان ٹرسٹ توڑنے میں پیچھے نہیں۔ موقع ملے اور یقین دہانی ہو کہ اسکیم (Scam) کرکے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکل جائیں گے، تو ایسا سنہرا موقع ہم ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ جھوٹ، فریب اور چوری چکاری بھی ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ شارٹ ٹرم سوچ اور خود غرضی انسان کی جبلت میں شامل ہے۔ جنگل میں ڈر، خوف، باقی جان داروں کی نسبت کم زور، بھوک، افلاس اور غربت نے اسکارس (Scarce) مائنڈ سیٹ تشکیل دیا۔ ہم جنگل سے نکل آئے، لیکن دماغ آج بھی اسکارسٹی کی لپیٹ میں ہے، ایسے دماغ کو "Primitive Mind” کہتے ہیں۔
انسان اپنے قریبی رشتوں کے علاوہ اجنبی لوگوں پر اعتبار کرنے سے ڈرتے ہیں۔ تاریخ دان ’’یووال نوح‘‘ کہتے ہیں کہ انسانوں کا تعاون انہیں چاند تک لے گیا۔ تعاون کے لیے بھروسے کی ضرورت تھی اور ایک دوسرے پر بھروسے کے لیے ’’انسٹیٹیوشنز‘‘ بنائے گئے، تاکہ ’’انسٹیٹیوشنز‘‘ کے زیرِ اثر اجنبی ایک دوسرے پر بھروسا کرسکیں…… اور انسانیت ترقی کرسکے۔ جب انسٹیٹیوشنز اپنا کام کرنے میں ناکام ہوں، تو مسایل جنم لیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک مسئلہ 2019ء میں امریکہ کی "Ivy League Universities” میں امیر والدین کا اپنے بچوں کے لیے رشوت دے کر داخلہ دلوانے کے لیے درپیش آیا۔ "Operation Varsity Blues” کے نام سے ایک آپریشن ہوا۔ امیر والدین اور رشوت وصول کرنے والے یونیورسٹی کے عملے کو جرمانہ اورسزا ہوئی اور یوں امریکہ کے ٹاپ اداروں کی ساخت بچا لی گئی۔
لوگ تقریباً ہر جگہ کے دھوکے دینا اور شارٹ ٹرم سوچتے ہیں۔ یہ ادارے ہوتے ہیں جو ’’لونگ ٹرم‘‘ (Long Term) سوچتے ہیں۔ جب ادارے بھروسا توڑ دیں، تو عام عوام عدمِ تحفظ، خوف اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔
ہمارا معاشرہ اسی عدمِ تحفظ، خوف اور مایوسی کا شکار ہے۔ کیونکہ ہمیں اپنے اداروں پر بھروسا نہیں۔ مایوس اور عدمِ تحفظ کا شکار دماغ ’’کریٹو‘‘ اور ’’پروڈکٹو‘‘ نہیں ہوسکتا۔
ہم جانتے ہیں کہ "Nepotism” اور "Favouritism” اتنا ہی پرانا ہے، جتنا کہ اس کرۂ ارض پر انسان۔ ہم اپنے قریبی اور جاننے والوں کو اجنبیوں کی نسبت فوقیت دیتے ہیں، یا پھر لالچ میں ان لوگوں کو فیور کرتے ہیں جو ہمیں ریٹرن میں فایدہ دیں۔ شاید یہ روایت کبھی ختم نہ ہو…… لیکن ترقی انہوں نے کی جنہوں نے "Nepotism” اور "Favouritism” کے ساتھ ایک کمرہ "Talent” کے لیے بھی بنایا۔ انہیں ترقی کرنی تھی۔ کیوں کہ ترقی سے پاور ملتی ہے ۔
ہمارا معاشرہ اس وقت "Trust Crisis” سے گزر رہا ہے۔ ہمیں اداروں پر ٹرسٹ نہیں۔ ماں باپ کو بچوں پر اور بچوں کو ماں باپ پر ٹرسٹ نہیں (قریبی رشتوں میں ٹرسٹ نہ ہو، تو بچے کی ذہنی نشو و نما ٹھیک سے نہیں ہوتی۔ سیکھنے کا عمل اسی ماحول میں ہوتا ہے جہاں اعتماد ہو)، اردگرد موجود لوگ ہر وقت شکوک و شبہات میں مبتلا رہتے ہیں۔ شہریوں کو اس بات پر بھروسا نہیں کہ ان کے ساتھ کچھ حادثہ درپیش ہو، تو ادارے غیرجانب دار ہوکر مدد کریں گے بھی یا نہیں……! ایسے میں دماغ "Primitive Level” پر رہتا ہے۔ اس لیول پرکریٹوٹی دور کی بات، عام مسایل تک حل کرنے کی "Cognitive Skills” نہیں پنپتی دماغ میں۔
شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میں فرق کرنے کے لیے "Primitive Mind” کا "Modern Mind” بننا ضروری ہے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔