28 مئی سنہ 1998ء کو پاکستان کے ایٹمی سائنس دانوں نے چاغی کے چٹیل پہاڑوں کے اندر بنی سرنگ میں ایک بٹن دبا کر ایٹمی ہتھیار کہ جس کو عرفِ عام میں ’’ایٹم بم‘‘ کہا جاتا ہے، کا کامیاب تجربہ کیا۔ یوں دنیا میں پہلے سے موجود اعلان شدہ چھے ممالک کے ساتھ پاکستان ساتویں ملک کے طور پر شامل ہوگیا۔
ہمیں عمومی طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سول حکم ران غدار اور مفاد پرست ہیں…… لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام بنایا بھی سول حکم رانوں نے اور اس کو کامیابی سے انجام تک بھی پہنچایا۔ اس میں کوئی شک نہی کہ پھر اس کے عوض ہمارے سول حکم رانوں کو قربانیاں بھی دینا پڑیں۔
جب ہم مختلف حوالوں سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام بارے تاریخی طور پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے فوجی آمر تو اس بارے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ معروف بین الاقوامی صحافی آصف جیلانی اور خود ڈاکٹر قدیر کے مطابق اس پروگرام کے حقایق کچھ یوں ہیں:
یہ اکتوبر 1954ء کی بات ہے کہ جب امریکہ میں صدر آئزن ہاور کی حکومت تھی، جب کہ پاکستان میں ایک سازش سے امریکہ میں سابقہ سفیر اور ایک بیورو کریٹ محمد علی بوگرہ کو وزیرِ اعظم بنایا گیا تھا۔ اُس وقت بوگرہ نے وائٹ ہاوس میں آئزن ہاور سے ملاقات میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان، امریکہ کے پروگرام ’’ایٹم فار پیس‘‘ یعنی ’’ایٹم امن کے لیے‘‘ میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان نے جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق کے لیے ایک کمیشن کا بھی اعلان کیا تھا۔ یہ وہ آغاز تھا کہ جس نے پاکستان کا موقف واضح کر دیا تھا کہ وہ کبھی جوہری صلاحیت کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ اُس وقت بے شک پاکستان کی سول سوسائٹی اور سیاست میں بہت بحث ہوئی تھی۔ کیوں کہ عمومی خیال یہی تھا کہ امریکہ اپنے علاوہ کسی کو بھی ایٹمی طاقت بنتا نہیں دیکھنا چاہتا…… اور پھر پاکستان نے امریکہ کی مہم ’’ایٹم برائے امن‘‘ تسلیم کرلی۔ درحقیقت یہ وہ پہلاوزن دار آغاز تھا کہ جس نے پاکستان کو امریکہ کے حوالہ کر دیا۔ جب پاکستان نے یہ پروگرام مان لیا، تو امریکہ نے پاکستان پر جذوی نوازشات شروع کردیں۔ امریکہ نے پاکستان سے معاشی، اقتصادی اور فوجی تعاون شروع کردیا۔ پاکستان کو سینٹو اور سیٹو کی رکنیت دی۔ پنج سالہ اقتصادی منصوبہ تیار کرنے کے لیے اپنے ماہرین پیش کیے…… اور یوں پاکستان امریکہ کا بغل بچہ بن گیا۔ اس کے عوض امریکہ نے ہماری سرزمین پر فوجی اڈے بنا لیے اور یہی اڈے تھے کہ جن پر روس کو غصہ آیا۔ انتہا یہ ہوئی کہ روس کی جاسوسی ’’بڈھ بیر‘‘ سے شروع ہوگئی۔ یوں پاکستان نے ہمیشہ کے لیے جوہری بم بارے سوچنا چھوڑ دیا۔
جب 60ء کی دہائی میں یہ خبریں لیک ہونا شروع ہوگئیں کہ ہندوستان اپنا جوہری پروگرام شروع کررہا ہے…… اور اس کو روس کی مکمل معاونت حاصل ہے، تو پھر ایک بار پاکستان میں اس کے حق میں آواز بلند ہوئی…… لیکن تب کے آمر ایوب خان نے اس کی پروا نہ کی۔ جب نہرو کی وفات پر پاکستانی وفد دہلی پہنچا اور ایک اہم شخصیت وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو ہندوستانی جوہری پیش رفت بارے معلوم ہوا، تو بقولِ آصف جیلانی، بھٹو نے کہا کہ انہوں نے یہ تجویز کابینہ میں دی تھی کہ ہمیں بھی اس پر سوچنا چاہیے، لیکن ایوب خان اور ان کے امریکی نواز وزیرِ خزانہ محمد شعیب نے یہ تجویز سختی سے مسترد کردی۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ ایوب خان آخری عرصہ میں شاید سنہ 68ء میں جب فرانس کے دورے پر گئے، تو ان کو ’’چارلس ڈی گال‘‘ صدر فرانس نے پاکستان میں جوہری ری پروسیسنگ کی پیش کش کی، مگر امریکی پے رول پر چلنے والے آمر نے یہ پیشکش ٹھکرا دی…… اور اس انکار میں ایوب کے قریبی ساتھی ان کے چیف آف سٹاف جنرل یحییٰ خان منصوبہ بندی کمیشن کے سربراہ ایم ایم احمد اور ان کے سائنسی مشیر معروف قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام شامل تھے۔ یوں بھارت آگے بڑھتا گیا اور ہم امریکہ کی غلامی میں نام پیدا کرتے گئے…… مگر اصل میں پاکستان تب بیدار ہوا جب ایک سانحۂ عظیم کے بعد ایک منتخب راہنما حکم ران بنا۔
سنہ 71ء کی شرمناک فوجی شکست کے بعد اس نے کہا ہم گھاس کھا کر بھی جوہری صلاحیت حاصل کریں گے…… اور صدر بننے کے فوراً بعد ذوالفقار علی بھٹو ایران، ترکی، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، مصر اور شام کے طوفانی دورے پر گئے…… جس کا بظاہر مقصد مسلم امہ سے مالی اعانت حاصل کرنا اور تعلقات کا آغازِ نو تھا…… مگر اصل میں ان کا مقصد جوہری پروگرام کے لیے سیاسی و سفارتی حمایت اور مالی مدد حاصل کرنا تھا۔ اپنے دورہ کے آخری ملک شام میں انہوں نے حافظ الاسد کو یہ سب کے سامنے کَہ دیا کہ پاکستان کی مہارت اور عالمِ اسلام کی دولت سے ہم جوہری قوت حاصل کر سکتے ہیں۔ پھر انہوں نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے از سرِ نو آغاز کیا۔ اس پر اہم کام یہ کیا کہ جوہری توانائی کمیشن کی سربراہی ایک قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام سے واپس لے کر ہالینڈ سے طلب کیے گئے جوہری سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر کے حوالے کردی۔ اس کے بعد انہوں نے فرانس کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ جوہری ’’ری پروسیسنگ پروگرام‘‘ کی پیشکش کی تجدید کرے۔
یہاں ایک اور بہت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی…… اور وہ یہ ڈاکٹر قدیر نے بھٹو صاحب کو یہ سمجھا دیا کہ فرانس کا جوہری ’’ری ایکٹر‘‘ ہمارے واسطے ایک مہنگا سودا ہے…… اور پھر دنیا ہم کو اس سے ہتھیار بنانے کی اجازت نہ دے گی…… جب کہ ہم خود سے یورنیم کو افزدہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہاں بھٹو صاحب نے دنیا سے ڈبل گیم کی اور فرانس سے ری پروسیسنگ پلانٹ لینے کا پرچار زور و شور سے کرنا شروع کر دیا۔ بہت بعد میں قدیر خان نے اس بات کا انکشاف کیا کہ بھٹو دنیا کو دھوکے میں رکھنا چاہتے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ بجائے ہم انکار کریں کہ جس سے دنیا مشکوک ہوجائے بہتر ہے کہ مغرب فرانس پر دباؤ ڈال کر یہ ڈیل ختم کروا دے۔ اس سے پاکستان کو نہ صرف دنیا کی اخلاقی حمایت ملے گی…… بلکہ فرانس بطورِ ہرجانہ ہم کو کروڑوں ڈالر بھی دینے کا پابند ہوگا…… جب کہ دوسری طرف ہم کہوٹہ میں اپنی صلاحیت سے یہ کام جاری رکھیں گے۔
جب سنہ 76ء کے آخری حصہ میں امریکی سی آئی اے کو یہ معلوم ہوگیا کہ بھٹو کا فرانس والا جوہری پلانٹ تو محض ایک کیمو فلاج تھا…… اصل کام تو کہوٹہ میں ہو رہا ہے، تو تب ہنری کسنجر نے بھٹو کو بہت کھلی دھمکی دی اور اس کو عبرت کا نشان بنانے کا عندیہ دیا۔ پھر انہوں نے ایک اور آمر کو استعمال کرکے یہ سب کر بھی دیا اور عالمِ اسلام کا ایک بہت ہی قوم پرست اور ذہین راہنما ڈسٹرک جیل راولپنڈی میں رات کے اندھیرے میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
اس کے بعد چوں کہ امریکہ کو روسی عفریت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی شدید ضرورت تھی…… اس لیے کچھ عرصہ ضیاء الحق کو ’’فری ہینڈ‘‘ مل گیا اور پاکستان بقولِ ڈاکٹر قدیر سنہ 84ء میں جوہری جنگی صلاحیت یعنی ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ وقت وہ تھا کہ جب امریکہ، افغانستان میں بہت ’’انگیج‘‘ تھا اور اس کی ؔ’’لائف لائن‘‘ اسلام آباد سے وابستہ تھی…… مگر باجود ڈاکٹر قدیر کے اصرار کے ضیاء الحق اپنے آقا امریکہ کا سامنا نہ کر سکا…… اور پھر جنیوا معاہدے کے بعد پاکستان کا جوہری پروگرام ایک حد تک غیر محفوظ تو ہوگیا، لیکن ایٹمی دھماکا کرنا اب ممکن نہ رہا…… بلکہ ہم پر ’’پریسلر ترمیم‘‘ غیر ضروری طور دباؤ بنانے کے لیے مسلط کی گئی، لیکن 90ء کی دہائی کی دونوں سول حکومتوں یعنی محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں نے اس پر جرات کا مظاہرہ کیا…… اور امریکہ کا مکمل دباؤ برداشت کیا۔
قوم یہ یقین رکھے کہ ایک وقت آئے گا جب یہ واضح ہوگا کہ آخر امریکہ نے ہمیشہ آمروں کو بے تحاشا ڈالر کیوں دیے…… جب کہ منتخب لوگوں کے لیے ہمیشہ پابندیاں کیوں لگائیں؟ بہرحال ضیاء الحق نے ایک سنہری موقع ضایع کیا…… مگر پھر قدرت کی طرف سے ایک موقع خود بخود بن گیا جب بھارت نے ایک بار پھر دھماکا کیا اور اس کے جواب میں ایک سول حکومت نے بھی انتہائی ردِعمل کا مظاہرہ کر کے سکور برابر کر دیا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔
یہ بات یاد رہے کہ تب کلنٹن سمیت مغرب نے ہم کو پھر اربوں ڈالر کی پیش کش کی، مگر نواز شریف نے سب ٹھکرا کر دھماکا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
مَیں یہ بات مکمل یقین اور دلیل سے کہتا ہوں کہ اگر 1998ء میں ملک میں فوجی آمریت ہوتی، تو ہم کبھی ایٹمی دھماکا نہ کرسکتے تھے۔ بدقسمتی دیکھیں کہ ایٹمی پروگرام کے تین بڑے معمار یعنی ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر قدیر خان اور میاں نواز شریف کو ہم نے ذلیل و خوار کیا اور اس پروگرام کے محافظین کو ہم نے ضیاء الحق اور اسحاق خان کو بنا دیا۔ بہرحال تاریخ ایک دن یہ فیصلہ بھی کر دے گی۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔