قارئین! آج جس شخصیت پر خامہ فرسائی کا ارادہ ہے، وہ موصوف حلقۂ سیاحت، کوہ نوردی و کوہ پیمائی میں بلامبالغہ کسی تعارف کے محتاج نہیں…… لیکن ان کی شخصیت کے کچھ گوشے جو لکے چھپے ہیں…… ان کے گنجل کھولنے کی کوشش کریں گے۔
چل میرے ساتھ تو کبھی کسی ویرانے میں
میں تجھے شہر کے ماحول سے ہٹ کر دیکھوں
مجھ کو ضد ہے کہ میری بینائی رہے یا نہ رہے
تیرے چہرے کی نقابیں تو الٹ کر دیکھوں
ان سے پہلی ملاقات کو گو آٹھ، نو ہی سال گزرے ہیں…… مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہزار ہا سال سے شناسائی ہے۔ پہلی ملاقات کاغان وادی کے سفر کے دوران میں ہوئی جو ایک نہایت خوش گوار سفر تھا…… جو دوستی اور پھر رفتہ رفتہ پیار میں بدل گیا۔
رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے
پہلے جاں، پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں ہوگئے
خالد حسین بھائی نے وہاڑی کے نواحی علاقے پکھی موڑ کے قریب ایک گاؤں 565 ای بی کے ایک مڈل کلاس معزز گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور نواح کے دو گاؤں سے حاصل کی۔ میٹرک اسلامیہ ہائی سکول وہاڑی، انٹر و بی اے بورے والا ڈگری کالج سے کیا اور ایم اے ہسٹری عظیم درس گاہ پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔
جب ان کی قربت نصیب ہوئی (الحمدللہ!) تو تمام خوبیاں کھل کے سامنے آگئیں…… جو تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
دیو قامت، لحیم شحیم، کسی زمانے میں دبلے ہوا کرتے تھے…… مگر اب ڈبل، ٹرپل ہیں…… قد چھے فٹ سے اوپر…… کتابی چہرہ…… کترواں مونچھیں…… رنگ کھلتا گلابی…… سر پر کسی زمانے میں بہار ہوا کرتی تھی…… آج کل خزاں چھا چکی ہے…… خوش لباس و خوش اطوار…… مزاج کے رنگین ضرور…… مگر لنگوٹ کے پکے…… دریا دل…… حسِ مِزاح اور جمالیات لاجواب…… بہترین ہم سفر…… ہم درد…… جنے وڈے نیں اونے وڈے مخولیے…… خلوص کے پیکر…… خوش مزاج…… محفل کی رونق…… کھلتے ذرا دیر سے ہیں…… مگر بعد میں کھل کے برستے ہیں…… صاف گو ہیں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے…… کھانے پینے کے انتہائی شوقین ہیں…… ایک پلیٹ فروٹ چاٹ کے لیے ہزاروں کا پٹرول خرچ کر دینے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے…… خود سوچیں اگر کوئی دم پخت کی دعوت دے، تو شاید دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچ جائیں۔
یاروں کے گوڑے یار اور دلدار…… پہاڑوں کے اتنے پرانے عاشق ہیں جتنے پرانے پہاڑ بھی نہیں…… پکے پریٹھے سیاح اور کوہ نورد ہیں…… محبوب پہاڑوں اور وادیوں سے پہلی دفعہ روبرو زمانہ قبل از تاریخ یعنی سنہ 1980ء میں ہوا…… جب کوہ مری گئے اور مسلسل پانچ چھے سال مری جاتے رہے۔ خود بھی کم سن تھے…… سنا ہے کہ کچی عمر کا پیار سچا ہوتا ہے…… سو ایسا ہی ہوا……خود تو لوٹ آئے…… مگر دل وہیں چھوڑ آئے…… اور اب ہر سال دیدار یار کے لیے کوئے یار کی خاک چھانتے ہیں……اب روگ لادوا ہو چکا ہے……
برا روگ عشقے دا
ربا کسے نوں لگ نہ جاوے




خاقانِ سیاحت خالد حسین کی کچھ نامی گرامی شخصیات اور سیاحتی مقامات میں لی گئی تصاویر (بہ شکریہ: حںیف زاہد)

دیوانگی جب حد سے گزری اور شاہراہِ ریشم کو مکمل ہوئے کچھ عرصہ ہی گزرا…… تو 1988ء میں بشام، داسو، چلاس، گلگت، ہنزہ اور گرد و نواح کی خوب خاک چھانی۔
اکثر بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں شمال کے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر تھی۔ پس ’’لوکل ٹورازم‘‘ بھی بہت کم تھی۔ پہلی دفعہ جب گلگت، ہنزہ کے لیے پنڈی سے ناٹکو بس میں سوار ہوئے، تو زیادہ تر گورے، گوریاں ان کی ہم سفر تھے۔
موصوف 1991ء میں خنجراب کی بلندیوں کو سر کر چکے ہیں۔
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
اس کے بعد چل سو چل…… وادیِ نیلم…… خپلو…… سکردو…… دیوسائی…… ترشنگ…… استور…… پھنڈر…… نلتر…… نگر…… گاہکوچ…… چترال…… کیلاش…… کمراٹ کو کئی مرتبہ گھوم چکے ہیں۔
’’سسی وانگ تھلاں تے روہی اچ وی رل چکے نیں ۔‘‘ پنجاب، خیبر پختونخوااور سندھ کے مشہور مقامات پر قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات و سعودی عرب کی بھی زیارت کرچکے ہیں۔ الغرض، جہاں ہماری سیاحت ختم ہوتی ہے…… اس سے چار قدم آگے ان کی سیاحت شروع ہوتی ہے۔
قارئین! بہت شان دار لکھاری اور شاعر ہیں۔ پنجابی اور اُردو شاعری پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ شوق اور ذاتی تسکین کی خاطر لکھتے ہیں۔ نمود و نمایش اور ستایش کی تمنا نہیں رکھتے ۔
دوستوں کی فرمایش پر ان کے سفر نامہ کمراٹ کا مسودہ تیار ہے…… اور ان شاء اللہ جلد چھپ کر آجائے گا۔
سفر نامہ خنجراب و ہنزہ کا مسودہ تو کئی دہائیوں سے تیار پڑا ہے…… مگر چھپوایا نہیں۔ سفر نامے اور خاکہ نگاری کے نئے اسٹائل کے موجد ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ مزید زورِ قلم عطا فرمائے ۔
دوستو گلاں ، گلاں اچ گلاں اگے ودھ گئ
اے، میرے لفظ وی مک گئے نیں
اب بس اتنا ہی کہوں گا کہ مجھے ان کی دوستی پر فخر ہے۔ خدا کرے بورے والا ٹریکرز کے گرو تاتاری سے ہماری دوستی یوں ہی سدا قایم رہے،آمین……!
سجن ملن تے ہاں ٹھرن!
سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ جس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں
اُس ایک شخص کو دیکھوں، تو آنکھ بھرتی نہیں
اُس ایک شخص کو ہر بار چل کے دیکھتے ہیں
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔