29 total views, 1 views today

سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ سیاسی کھیل میں بغیر تیاری اورمشق کیے، جیت کے لیے میدان میں اترنے کا عمل ناکامی اور شکست پر منتج ہوتا ہے۔ درحقیقت سیاسی شکست جنگ جیسی نہیں ہوتی کہ خون خرابے پر سب کچھ تمام ہو۔ سیاست میں کامیابی اور شکست کا مطلب کچھ الگ ہوتا ہے۔ عوام کو جو لیڈر اور پارٹی بوجوہ سیاسی نظریات اور فعالیت کے اچھی لگتی ہے، تو اس پارٹی اور لیڈر کواس لیے منتخب کیا جاتا ہے، تاکہ اس کے قانونی اور آئینی حقوق کی بہتر طور پر حفاظت اور نگہداشت کی جاسکے اور عوامی مسایل کے حل کے لیے حقیقی نمایندوں کو چنا جاسکے۔ سیاست میں جو بہتر کھیلے گا (ضمنی طور عرض ہے کہ بہتر کھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس عوامی مسایل کا بہترین حل موجود ہوگا) اس کے بہتر نتایج آئیں گے۔
لہٰذا سیاست قطعی طور انا، غرور اور ضد کا کھیل نہیں۔ سیاست، مصلحت اور حکمت کا نام ہے۔ سیاست، بردباری اوروضع داری کا نام ہے۔ سیاست، قطعی طور پر دشنام طرازی، عدم برداشت اور خالی جذبات کا نام نہیں۔ سیاست ایک مستقل جد و جہد اور کوشش ہوتی ہے۔ ذاتی فایدے سے بالاتر ہوکر قوم اور وطن کے لیے اچھی فکر اور عمل ہی سیاست صحیح معنوں میں سیاست ہے۔
قارئین! تحریکِ انصاف کے خلاف عدمِ اعتماد کی کامیابی کے ڈانڈے تحریکِ انصاف کی دیگر پارٹیوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ اپنوں اور پرایوں کی بے وفائی، عدمِ اعتماد لانے اور کامیاب کرانے کی ذمے دار ہے۔
عدمِ اعتماد میں تحریکِ انصاف کے لیڈروں کی دانستہ و نادانستہ کارستانیاں بھی شامل ہیں۔ منحرف اراکین کی شنوائی نہ ہونا اور ان کو دیوار کے ساتھ لگانا، دیرینہ نمایندہ کارکنان کی حوصلہ شکنی، قانونی داو پیچ میں ناتجربہ کاری، کارکنان میں پیشہ ورانہ امور کی عدم موجودگی اور آگاہی کی کمی اور سب سے بڑھ کر عدمِ اعتماد کو ناکام بنانے کی بھرپور تیاری کا نہ ہونا بھی حکومتی کامیابی کی وجوہات ہیں۔ جب کہ ’’لیٹر گیٹ اسکینڈل‘‘، ’’امبیسڈر کا مراسلہ‘‘، ’’امریکہ کا رجیم چینج‘‘ یعنی ’’حکومت کی تبدیلی کی سازش‘‘، ’’سیاہ ست دانوں کو غیر ملکی کروڑوں روپے کی ترسیل‘‘ عدمِ اعتماد کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔
بہرحال اب عدمِ اعتماد ایک قصہ پارینہ بن چکی۔ اب نئی مخلوط اور مضبوط حکومت بن چکی ہے اور پہلے ہی روز ڈالر ریٹ میں خاطر خواہ کمی بھی ہوئی ہے۔ عوام کے لیے مختلف پیکیجز کے اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی لائی گئی ہے۔ تنخواہوں میں بڑھوتری کی گئی ہے (وغیرہ) یہ قابلِ ستایش امور ہیں ۔
دراصل سیاست بیانیے کا کھیل ہے اور بیانیہ کیا ہوتا ہے؟ آئیے، اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیانہ میری نظر میں یہ ہے کہ سیاست کے متعلق ماضی، موجود و معروض اور مستقبل کے حالات اور واقعات یا تجربات کی پیش بینی وغیرہ کی وہ تفصیل ہوتا ہے جس سے نئے زاویے اور بیانیے کو تخلیق کیا جاتا ہے، تاکہ سیاسی سوالوں اور مسایل کو حل کرنے کے جلد اوردیرپا جوابات اورحل نکالا جاسکے۔
بیانیے کو تحریری، تقریری، آڈیو، وڈیو یا کسی بھی دیگر ذریعے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ جو بھی بیانیہ حقیقت سے قریب تر ہوگا وہی سیاسی بیانیہ کامیاب اور حقیقت پسندانہ تصور ہوگا۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کو اب معروضی حالات اور مستقبل کے پیشِ نظر نئی سیاسی حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ مثال کے طور پی ٹی آئی کے نظریات چاہے وہ ریاست مدینہ ہو، معیشت اور اقتصادی ترقی ہو، پارلیمانی نظام ہو، دستوری اور قانونی ریفارمز ہوں، عوام کو اوپر لانے کی کوشش ہو، زرعی انقلاب ہو، مواصلات اور سڑکوں کا جال ہو، آزاد داخلہ و خارجہ پالیسی ہو، دیگر اداروں کی سیاست میں دخل اندازی سے کنارہ کشی ہو، دفاعی پالیسی ہو، حکومتی ڈسکورس سے اختلاف ہو، اداروں میں ریفارمز ہوں وغیرہ…… ذکر شدہ تمام امور نظریات، تجربات پر متعلقہ سبجیکٹ ریسرچرز کی آرا اور تجربات سے استفادہ لے کراس نسبت پہلی فرصت میں تحریکِ انصاف کو نئے جیو پولی ٹیکل اور جیو پالیٹکس کے مطابق واضح بیانیے اور ڈسکورس کی داغ بیل ڈالنی چاہیے۔
درحقیقت صرف حکومت پر اعتراضات کرنے سے سیاسی بیانیہ عارضی طور پر تو مقبول ہوسکتا ہے…… لیکن ایسے اعتراضات جلد ہی غیر مقبول بن جاتے ہیں۔
اس ضمن میں پہلی فرصت میں تحریکِ انصاف کو اپنے آپ سے سلیکٹڈ کا لیبل ہٹانا ہوگا…… جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ بیرونی اورداخلی طور پرآزاد اور خود مختار پارٹی ہے اور آزادانہ اور خود مختارانہ فیصلے کرسکتی ہے۔
اس لحاظ سے حکومت کے برخلاف تحریکِ انصاف کی واضح سیاسی پالیسی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر امپورٹ ایکسپورٹ، ریمی ٹنسز، اوورسیز کا حق رائے دہی، سٹاک ایکسچینج کا اتار چڑھاو، گوڈ گورننس، رُول آف لا وغیرہ پر آزادانہ فیصلے اور عوامی آگاہی پیدا کرنا اور عوام کو قایل کرنا ہی تحریک انصاف کو سیاسی مین سٹریم اور اقتدار میں واپس لاسکتے ہیں۔
’’جذباتی سیاست‘‘ مزید بگاڑ، بے چینی اور افرا تفری کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میرے خیال میں تحریکِ انصاف مذکورہ تمام امور میں ناکام نظر آتی ہے…… جس میں پی ٹی آئی لیڈرشپ کی غیر مقبول فیصلوں کا کردار بھی شامل ہے اور اس وجہ سے پی ٹی آئی سیاسی میدان ہی سے ڈی کلیئر ہوگئی۔
لیکن اس کے باوجود بھی مَیں سمجھتا ہوں کہ اب بھی پی ٹی آئی کے پاس اچھے اوردیرپا سیاسی آپشنز موجود ہیں۔ تحریکِ انصاف کو اپنے سیاسی نظریات اور سیاسی طاقت پر انحصار کرنا ہوگا اور تسلسل کے ساتھ اپنے بیانیے میں کمی بیشی کرکے عوام کی اصل نمایندگی کا حق ادا کرنا ہوگا۔
میرا خیال ہے کہ تحریکِ انصاف، پارلیمنٹ میں نئی حکومت کی پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتی تھی۔ بلوں کے پاس ہونے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ، لابنگ اور پارلیمانی امور میں شراکت دار بن سکتی تھی۔ اسے چاہیے تھا کہ سیاست مداروں کو قایل کرتی، ای وی ایم پر اپنا حقیقت پسندانہ موقف پیش کرتی، نیب کے قانون میں تبدیلی اور ان کے چیئرمین کی تبدیلی پر گفت و شنید کرتی، معاشی پالیسی پر اپنا موقف دیتی، اوورسیز کے حقِ رائے دہی پر بات کرتی…… لیکن افسوس ایسا نہ ہو پایا۔
میری نظر میں دیگر فیصلوں کی طرح تحریکِ انصاف کی لیڈر شپ کا ایوانِ زریں سے استعفوں کا فیصلہ انتہائی جذبات اور عجلت میں کیا گیا ہے۔ آیندہ الیکشن میں اس کے اثرات ناکامی اور شکست کی صورت میں بھی نکل سکتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ استعفا کا فیصلہ ایک نہایت ہی غیر مقبول فیصلہ ہے۔ اس پر تحریکِ انصاف کی لیڈر شپ کو سوچنا چاہیے۔ نیز اس فیصلے کے نتایج کیا ہوں گے…… یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ تاہم ’’لیٹر گیٹ اسکینڈل‘‘ کو اگر کسی غیر جانب دار کمیشن کے ذریعے سے ثابت کیا جاتا ہے، تو اس صورت میں تحریکِ انصاف کو سیاسی فایدہ ہوسکتا ہے…… لیکن اگر دیکھا جائے، تو اس لحاظ سے حکومت کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ اب حکومت ہی لیٹر گیٹ اسکینڈل کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے اس سے سیاسی فایدے لے سکتی ہے۔ اس بابت حکومت نے سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی بلایا ہے۔ یہ ظاہری بات ہے کہ حکومت ’’لیٹر گیٹ اسکینڈل‘‘ کو اپنے سیاسی جواز کے لیے غلط اور جھوٹ ثابت کرے گی اور اس کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
اس طرح ایک بات یہ بھی ہے کہ چوں کہ لیٹر گیٹ جو کہ ’’کوڈیڈ‘‘ ہے، اس لیے اس سے مختلف معانی اور مفاہیم لیے جاسکتے ہیں۔ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ حکومت ’’لیٹر گیٹ‘‘ کو مزید الجھائے گی اور اس کو جس طرح چاہے ’’ڈی کوڈ‘‘ کرے گی۔
ان حالات میں تحریکِ انصاف کا سب سے زیادہ فوکس ’’انتخاب‘‘ اور ’’انتخابی مہم‘‘ پر ہے۔ اس لحاظ سے غیر ضروری طور پر کارکنوں کو تھکانے کا عمل کھیل میں شریک کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر کم زور کرسکتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس وقت تحریکِ انصاف کی لیڈر شپ کو پولی ٹیکل آرگنائزیشن پر فوکس کرنا چاہیے۔ تنظیم کو مظبوط بنایا جانا چاہیے۔ دیرینہ ورکرز اور لیڈر شپ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اپنوں اور پرایوں کی پہچان کچھ حد تک ہوچکی ہے۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والوں کی اکثریت کو نکال باہر کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ نہیں ہوسکتا، تو کم از کم ان کو سیاسی کھیل میں کھلایا جانا مناسب ہرگز نہیں۔
سیاست اگرچہ کرکٹ کا کھیل نہیں۔ اس کے اپنے اصول، لوازمات اور جزئیات ہوتے ہیں۔ کرکٹ کی طرح کا چھکا، چوکا، ایک یا دو رنز، آؤٹ، کیچ، فیلڈنگ، مس فیلڈنگ، بیٹنگ، کھلاڑی، ایمپائر، بال ٹمپرنگ، وکٹ، پچ، اِن سونگ، یار کر وغیرہ گراؤنڈ اور کرکٹ کے کھیل کی حد تک کی باتیں ہیں۔ سیاست ہرگز کرکٹ نہیں۔ نہ ان اصطلاحات کو سیاسی اصطلاحات کے متبادل کے طور پر معانی ہی پہنائے جا سکتے ہیں۔ سیاست کی اپنی اصطلاحات ہیں اور ان کو انہی موزوں جگہوں میں استعمال میں لایا جانا چاہیے۔ سیاست اور کرکٹ دونوں کی اپنی اپنی جداگانہ کیفیت اور ماہیت و منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ سیاست اس لحاظ سے الگ کھیل ہے اور اس کے لیے نظریاتی حکمت کے علاوہ معروضی حالات کے مطابق شعوری کوشش کی جاتی ہے۔ موجودہ سیاسی بحران میں پی ٹی آئی کی اب حکومت کے ساتھ پہلے سے زیادہ انتقام کی سیاست جاری ہوگی۔ شاید پی ٹی آئی کی سیاست اور عمران خان کو سیاسی شہید کے طور پر زیادہ دیر تک منوایا اور برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ درست ہے کہ عمران خان سیاسی طور پر شہید اور پی ٹی آئی سیاسی مظلوم جماعت بن چکی ہے، جس کا اندازہ حالیہ 8 اپریل کو پورے ملک میں لاکھوں عوام کے جمِ غفیر کی شکل دیکھنے کو ملا۔
قارئین! مَیں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی بیانیے کا جواب اپنے تخلیق کردہ بیانیے کے بَل پر دینا چاہیے۔ باتوں کا جواب باتوں ہی سے دیا جاتا ہے۔ اس نسبت پورا ایک سیاسی منصوبہ بنایا جاتا ہے…… اور اس پر عمل کرنے کا قرینہ اور اسے بروقت استعمال عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کے لیے پی ٹی آئی کے تھینک ٹینک کو سوچنا چاہیے۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔