31 total views, 1 views today

میری شدید آوارہ گرد احباب سے درخواست ہے کہ آلائی کو ضرور کھوجیں۔ یہ بہت دل کش وادی ہے۔ ایسی وادی جس کو انتہائی کم بجٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بس اس تک رسائی ذرا مشکل ہے۔ انشاء اللہ نئی سڑک اس پریشانی کو بھی دور کر دے گی۔
وادیِ آلائی کا ایک حسین تر مقام گلائی میدان ہے…… جو آلائی کے صدر مقام بنہ (یہاں اچھا ہوٹل اور درمیانے ہوٹل موجود ہیں) سے 26 کلومیٹر دور ہے. گنتڑ گاؤں تک تو سڑک موجود ہے…… مگر اس سے آگے جان بیک اور گلائی تک شدید آف روڈ ہے۔ بعض اوقات چڑھائی 70 سے 80 درجہ زاویہ تک چلی جاتی ہے۔ بڑے بڑے پتھر سدِ راہ بنتے ہیں۔
قارئین! ہمارے ایک دوست کی 200 سی سی بائیک پہلی ہی چڑھائی پر کلچ پلیٹیں اُڑا بیٹھی۔ اس لیے مشورہ ہے کہ احتیاط سے جائیں۔ جیپ بک کروا لیں، تو بہتر ہے…… مگر سرپھروں کے لیے بائیک پر جانا کوئی مسئلہ نہیں۔ بس دل مضبوط رکھیں۔ ہمت نہ ہاریں اور رُک رُک کر بڑھتے چلے جائیں۔
اتنے کٹھن پتھریلے راستے پر تھکاوٹ سے چور جب آپ گلائی میدان کا پہلا نظارہ کریں گے، تو منہ سے ان شاء اللہ ’’سبحان اللہ‘‘ ضرور نکلے گا۔
گلائی میں ہوٹل اور کھانا پینا مل جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے سیاحوں کے لیے یہاں ہٹس بھی بنا دیے ہیں۔ کورونا کے باعث اُس وقت ان کو کھولا نہیں گیا تھا…… مگر اب وہ مسئلہ بھی حل ہوچکا ہوگا۔
قارئین! ایک عرضی ہے کہ واپسی پر مسلسل اترائی اعصاب کو شل کر دیتی ہے۔ اس لیے سکون سے پہلے گیئر میں اُتریں۔ اُترائی والی جگہ کلچ کو کبھی مت دبائیں اور اگلی اور پچھلی بریک تھوڑی تھوڑی دبانے کے ساتھ ساتھ پاؤں بھی بریک کے طور پر استعمال کریں۔
بائیکرز جو ’’ٹلہ جوگیاں‘‘ یا ’’گورکھ ہل‘‘ کے آف روڈ کے گن گاتے ہیں…… وہ واللہ اس آف روڈ کے دیوانے بن جائیں گے…… اور اسی کے رطب اللساں ہو جائیں گے۔ الحمداللہ مورخہ 14 جولائی 2020ء کو بورے والا ٹریکرز کا دس بائیکرز کا پہلا غیر مقامی گروپ جو گلائی میدان پہنچا…… ایک ریکارڈ ہے۔ باقی دوست جیپ پر پہنچے تھے۔رات کیمپنگ کی جو زندگی کی اک اور حسین یادگار بن گئی۔
قارئین! مزید تفصیل بشرطِ زندگی پھر کبھی سہی۔ آئیے…… اس موقع پر عہد کریں کہ وطنِ عزیز میں شجر کاری کریں گے۔ اس کو صاف رکھیں گے اور محبتیں بانٹیں گے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ، آمین!
وہ راستہ ہو محبت کا یا سیاحت کا
تھکانے والا سفر واپسی کا ہوتا ہے
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔