ہم اس موضوع پر پہلے بھی تحریر کرچکے ہیں کہ نیت یا وجہ کچھ بھی ہو…… لیکن مریم شریف کا یہ بیانیہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ ہر لحاظ سے منطق، اصولِ دین اور نظامِ قدرت کے مطابق سو فی صد مکمل اور درست ہے۔ جن ملکوں میں ووٹ کی طاقت تسلیم کی جاتی ہے…… اور ووٹ کو عزت دی جاتی ہے…… وہاں پر ترقی بھی ہوتی ہے اور انہی اقوام کی عزت بھی ہوتی ہے۔
لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جس ووٹ کی عزت کی بات کی جاتی ہے…… وہ ووٹ آتا کہاں سے ہے؟ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ یہ ووٹ پول کروانا ہو…… یا لیڈر شپ کے جلسوں کی رونق بنانا ہو…… اصل جد و جہد کارکن کی ہوتی ہے…… اور یہ کارکنان ہی ہوتے ہیں جو آپ کو لیڈر بناتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم قیادت کے لیے مشورہ مفت لکھیں، آئیں! آپ کو چار واقعات سے آگاہ کروں۔
میرا دوست ہے آصف شفیق ستی…… سکہ بند جیالہ ہے اور شاید آیندہ الیکشن میں امیدوار بھی ہو۔ گذشتہ دنوں جو پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ ہوا…… اس سلسلے میں آصف ستی صاحب نے ایک تقریب کا اہتمام کیا…… اور تقریب کیا بلکہ اچھا خاصا جلسہ بن گیا…… جس میں مرکزئی سیکریٹری جنرل نیئر بخاری سمیت پرویز اشرف کے بھائی ڈویژنل صدر سلیم صدر اور دوسری مقامی قیادت اور کارکنان کا ایک جم غفیر تھا۔ یہاں مَیں نے دیکھا کہ ایک بزرگ شخصیت میرے ساتھ کھڑی تھی۔ اب جب بھی کوئی مقرر بات کرتا، یہ دوست بہت جذبات سے ’’واہ واہ‘‘ کرتا، ’’بالکل درست ہے!‘‘ کہتا۔ اس کے چہرے پر واضح اس کی نیک نیتی اور جذباتیت نظر آرہی تھی۔ بعد جلسہ میری صحافتی رگ پھڑکی اور مَیں نے اس سے استفار کیا کہ وہ اتنا جذباتی کیوں ہے؟ ایک دم اس کی آنکھوں میں چمک آئی…… اور بولا: ’’بی بی شہید کے بیٹے واسطے میری جان بھی قربان!‘‘ مَیں نے کہا کہ کبھی کچھ ملا؟ تو وہ بولا: ’’جس کے پاس شہید ذوالفقار علی بھٹو کی محبت ہو، اس کو اور کچھ نہیں مطلوب!‘‘ مَیں نے کہا کہ آصف ستی میرا دوست ہے، سو اگر آنے جانے کا کرایہ جو آپ کا حق ہے…… چاہیے تو میں بات کر سکتا ہوں ستی صاحب سے! وہ یک دم بدک گیا اور بولا: ’’تم مجھے کرایے کا کارکن سمجھتے ہو! آصف ستی کی بہت عزت ہے اور وہ ہمارا لیڈر ہے۔ محض اس وجہ سے کہ وہ بی بی کے بیٹے کے ساتھ ہے…… لیکن ہم پیسا لے کر آنے والے نہیں۔ آصف ستی کی مہربانی کہ اس نے دعوت دی، نہ بھی دیتا تو تب بھی میں آتا۔‘‘ مَیں نے اس کو سلام کیا۔ اس نے ہاتھ ملایا اور بولا: ’’محترم ووٹ تیر کو دینا!‘‘ مَیں نے اس کا دل رکھنے واسطے کہا: ’’ضرور!‘‘ اور اس نے خوشی سے ’’جیے بھٹو‘‘ کا نعرہ لگایا اور جیالوں میں گم ہوگیا۔
مَیں کچہری میں کھڑا تھا کہ ایک جاننے والا ملا۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی کا انتظار کر رہا ہے۔ مَیں اس کے ساتھ کھڑا ہو کر باتیں کرنے لگا۔ اتنی دیر میں وہ نوجوان آگیا…… جس کا انتظار تھا۔ میرے واقف کار نے اس کو سخت سست کہا کہ اس کو اور بھی کام ہیں…… اتنا انتظار کیوں کروایا؟ اس نوجوان کے چہرے پر ایک معذرت خواہانہ مسکراہٹ آئی…… اور بولا: ’’معافی سر! لیکن مَیں لیاقت باغ ورکرز کونشن گیا تھا۔‘‘ میرے دوست نے کہا کہ کیا ضروری تھا تیرا وہاں ہونا؟ اس نے بہت سنجیدگی سے کہا: ’’جی تھا۔ قاید محترم میاں محمد نواز شریف کی بیٹی محترمہ مریم شریف نے ہم کارکنان سے اپیل کی تھی اور مقامی راہنما راجہ قمر السلام نے مجھے خود فون کر کے آگاہ کیا تھا۔ میرا ذاتی کام نہ ہو، لیکن مَیں قاید کی بیٹی کا حکم نہیں ٹال سکتا تھا۔‘‘ مَیں نے شرارت کی اور کہا کہ نوجوان کیا ہوا پھر؟ وہ جوش سے بولا: ’’کچھ ہو نہ ہو۔ شیخ رشید کی لال حویلی تک آواز جا رہی تھی کہ اس ملک کی تقدیر ہے نواز شریف، اور شیر کو لانا ہے، ان غاصبوں کو بھگانا ہے۔‘‘
اب تیسرا واقعہ مَیں اپنی دوست کمیٹی کے کام سے اپنے ایک اہم رکن کے ساتھ جا رہا تھا…… لیکن میرا یہ اہم رکن بار بار مجھے بتا رہا تھا کہ تین بجے تک کام ختم نہ ہوا، تو میں تم کو اُتار کر آجاؤں گ…… اور بالکل ایسا ہوا۔ وہ بس یہ کہہ کر ’’مَیں جا رہا ہوں!‘‘ مجھے ایک سرکاری دفتر چھوڑ آیا۔ حالاں کہ مَیں سمجھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے…… لیکن وہ حقیقت میں چلا گیا۔ مجھے بہت غصہ آیا…… اور دوسرے دن میں اس پر پھٹ پڑا کہ اس نے کس طرح مجھے چھوڑ دیا؟ وہ مسکرایا اور بولا: ’’سر! معذرت…… لیکن بہت سنجیدہ مجبوری تھی۔‘‘ مَیں نے کہا: ’’کیسی مجبوری؟‘‘ تو اس نے بتایا: ’’دراصل جماعت اسلامی کے مقامی راہنما جناب خالد مرزا نے ایک میٹنگ طلب کی تھی…… اور مجھے جانا تھا۔‘‘ مَیں نے پوچھا کہ تمھارے پاس کون سا عہدہ ہے؟ وہ فخر سے بولا: ’’مَیں کارکن ہوں اور کارکن ہونا ہی میرا اعزاز ہے۔ آپ کے کام ہوتے رہتے ہیں…… لیکن جماعت کا حکم میرے واسطے اہم ہے۔‘‘ جواباً مجھے خاموش ہونا پڑا۔
ایک اور تازہ واقعہ تحریکِ عدمِ اعتماد کے پیش ہونے پر مجھے ایک نوجوان انصافین کا فون آیا۔ اس نے مجھے میرے اس کالم کہ ’’تحریکِ عدمِ اعتماد نہیں آئے گی‘‘ یاد کروایا اور بولا…… آپ کی پیشین گوئی یا تجزیہ غلط نکلا۔ مَیں نے تسلیم کیا، معذرت کی…… تو وہ بولا: ’’اب آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا خان کو نکال دیں گے یہ!‘‘ تو مَیں نے کہا کہ سچی بات تو یہی ہے۔ مجھے لگتا ایسا ہی ہے۔ کیوں کہ بنا کسی اشارے کے اپوزیشن واسطے یہ کام ممکن ہی نہ تھا۔ تب وہ بولا: ’’نہیں سر! خان سب کو صاف کر دے گا۔‘‘ مَیں نے کہا، سنا ہے کہ لوگ تحریکِ انصاف سے جا رہے ہیں…… اور خان کی حکومت خطرہ میں ہے۔ اس نے ایک آہ بھری…… اور بولا: ’’سر! کچھ بھی ہو، ہم خان کے ساتھ ہیں…… اور ان شاء ﷲ……! ہر حال میں ہم خان کے سپاہی ہیں۔‘‘ مَیں نے اس سے پوچھا کہ تم کو کیا…… نہ عہدیدار ہو، نہ سٹیکٹ ہولڈر۔ وہ تقریبا جوش سے بولا: ’’محترم! میرا سٹیک عمران خان ہے…… اور دعا کریں کہ عدم اعتماد ناکام ہو۔ وگرنہ عمران خان کے ایک اشارہ پر ملک کو بلاک کر دیں گے۔‘‘
یہ چار واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہمارا کارکن کتنا مخلص ہوتا ہے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر اسی جذباتیت کی بنیاد ہے۔ کارکن کسی بھی جماعت کا ہو، بہت وفادار ہوتا ہے۔ اپنی جماعت سے وفاداری اور قیادت سے محبت اس کا عقیدہ ہوتا ہے…… اور انہیں کی وجہ سے کوئی فخرِ ایشیا، کوئی دخترِ مشرق، کوئی قایدِ محترم، کوئی مرشد، کوئی سب پر بھاری بنتا ہے…… مگر اس پر خلوص محبتوں کے بدلے ان کو ملتا کیا ہے؟میرا اصل سوال اور مخمصہ تو یہی ہے۔ کیوں کہ میرا آج تک کا مشاہدہ تو یہ ہے کہ کارکن بچارے تو ’’آوے ہی آوے‘‘ اور ’’جاوے ہی جاوے‘‘ کے نعرے مارتے مارتے منوں مٹی تلے سو جاتے ہیں۔ نہ ان کی شنوائی ہوتی ہے…… اور نہ ان کی عزت۔ اگر سو فی صد نہیں، تو بہرحال اسی فی صد تو یہ حقیقت ہے کہ ان کو مقامی قیادت استعمال کرتی ہے اور جب کوئی لیڈر عہدیدار بن جاتا ہے…… یا ایم این اے اور ایم پی اے تو اب کارکنان کی بجائے وہ چند چاپلوس اور دولت والے حواریوں کو ہی اہمیت دیتا ہے۔
مَیں نے اپنی زندگی میں سیکڑوں کارکنان کو ذلیل ہوتے دیکھا…… ان بے چاروں کا کام کیا ہونا…… اپنے منتخب نمایندوں سے ملاقات تک کرنا بذاتِ خود بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی کارکن غصہ میں آکر اپنا حق طلب کرتا ہے…… یا کسی بے انصافی پر احتجاج کرتا ہے، تو پھر ڈسپلن اور جماعتی مفادات کے نام پر اس کو کھڈے لاین لگا کر دوسروں واسطے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہ…… لیکن یہاں پر جماعت کی دوسرے یا تیسرے درجہ کی قیادت کی، تو جو غلطی ہے…… سو ہے! لیکن اکثر معاملات میں اس کے اپنے ساتھی محض معمولی سے عہدہ یا مفاد کی خاطر اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں…… اور وہ بے چارہ تنہا ہو جاتا ہے۔ پھر یا تو وہ گھر بیٹھ کر اس زیادتی پر کڑتا رہتا ہے…… یا پھر اسی تنخواہ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
سو ہم یہاں پر قومی قیادت اور مرکزی لیڈر شپ جیسے عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف، مریم شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو، اسفند یار ولی، چوہدری برادران، مولانا فضل الرحمان، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، عامر خان اور پھر اختر مینگل، شاہ زین بگٹی وغیرہ وغیرہ سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر کوئی ایسا نظام وضع کریں…… تاکہ ان کے کارکنان سے کوئی زیادتی نہ ہو سکے…… اور اس کا نظام تشکیل دینا اس سوشل میڈیا کے دور میں کوئی مشکل کام قطعی طور پر نہیں۔ مثلاً آپ بس ایک سادہ فیس بک پیج بنا دیں…… اور اپنے کارکنان کے کہیں کہ وہ اس فیس بک پیج پر اپنی شکایات جو مقامی لیڈر شپ بارے ہوں مع مکمل ایڈریس اور نمبر لکھ دیں۔ اس فیس بک کو آپ کی اپنی اعتماد کی ٹیم چیک کرے…… اور اسی وقت ایک تشکیل شدہ ڈویژن لیول کی کمیٹی کو دیں…… جو دو ہفتہ کے اندر حتمی رپورٹ دے اور آپ فوری ایکشن لیں۔
یہ میری تجویز ہے وگرنہ لیڈر شپ اس سے بھی بہت بہتر طریقۂ کار وضع کرسکتی ہے ۔ ہمارا مقصد بس سیاسی کارکنان کے حقوق کا تحفظ ہے…… جو مکمل اخلاص سے مزدوروں کی طرح کام کرتے ہیں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔