کچھ عرصہ پہلے سوات کی تحصیلِ کبل چوک میں امن مارچ کو ’’کور‘‘ کرنے گیا، تو وہاں خلافِ توقع عوام کا جمِ غفیر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک لڑکا میری طرف آکر کہنے لگا: ’’خدا کی قسم! اس بار ہمیں اپنی سرزمین پر ایک پرایا قدم بھی منظور نہیں۔‘‘
ایک لڑکے کی یہ جرات دیکھ کر مَیں حیران رہ گیا۔ پاس ہی کھڑے ایک ’’پلے کارڈ‘‘ اٹھائے بزرگ سے درخواست کی کہ اپنا پلے کارڈ اٹھائیں، تاکہ ہم اسے کیمرے کی آنکھ میں قید کیا جاسکے۔ ساتھ ہی انھیں یہ یقین دہانی کرائی کہ ’’فکر مت کریں، آپ کا چہرہ اس میں نہیں آئے گا۔‘‘ بزرگ بے ساختہ کہنے لگے: ’’میرا چہرہ اس میں ضرور لائیں اور ساتھ میں جو مرضی اپنی طرف سے لکھ لیں۔ ہم تھک چکے ہیں۔ دوبارہ اپنے سروں پر برستی آگ اور مایوسی کے اندھیرے دیکھنے سے بہتر ہے کہ ہم مر جائیں۔‘‘
مجھے حیرانی ہوئی۔ یہ تو وہ لوگ تھے جو اشاروں کنایوں میں بات کرنے سے بھی کتراتے تھے۔ ایک لڑکے سے لے کر 70 سالہ بزرگ تک، سب یک آواز ہوکر اگر امن کے نعرے بلند کررہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ اب سوات کے عوام تنگ آچکے ہیں۔ وہ اپنی سرزمین پر مزید جنگ نہیں چاہتے۔ وہ امن پسند لوگ ہیں…… امن چاہتے ہیں۔
اس شدید ردِ عمل کے ساتھ ساتھ حالیہ ناخوش گوار واقعات کے بعد سوات کے عوام ایک بار پھر حکومتی اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ سوات کے تقریباً سبھی ایم پی اے حضرات اس وقت منظرِ عام سے غایب ہیں۔ اصولاً عوامی احتجاج سے پہلے اِن نمایندوں کو صوبائی اسمبلی اور پارلیمان میں سخت احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ پارلیمان میں احتجاج تو دور کی بات اپنے آفیشل پیجوں پر دن میں کئی کئی پوسٹیں شیئر کرنے والے یہ سیاسی نمایندے آج شدید ضرورت کے وقت ایک پوسٹ تک کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سکے کا دوسرا اہم رُخ یعنی انتظامیہ بھی خاموش ہے۔ ڈی پی اُو سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک سب چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ سوات کے عوام انتظامیہ کی طرف بھی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انھیں انتظامیہ کی طرف سے امن کی یقین دہانی کرائی جائے…… لیکن گذشتہ کئی دن سے یہ انتظامی افسران منظرِ عام سے مکمل غایب ہیں۔ صاحبان مقامی صحافیوں کے پیغامات دیکھ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔ گٹروں پر ڈھکن لگوانے کی پوسٹیں لگاکر ’’واہ واہ‘‘ سمیٹنے والے یہ افسران آج اپنے محبوب ’’سوشل میڈیائی فیم‘‘ سے بھی دور بھاگ رہے ہیں۔
سوات کے وزیرِاعلا گذشتہ ایک عرصے سے مذکورہ معاملے میں انجان بنے ہوئے ہیں۔ یہ وہ وزیرِ اعلا ہیں جنھیں سوات کے عوام نے ’’خپل وزیرِاعلا‘‘ یعنی ’’اپنا وزیرِ اعلا‘‘ کا لقب دیا تھا…… پر افسوس آج ضرورت کے وقت یہ ’’اپنا وزیرِ اعلا‘‘ اپنائیت کا احساس نہیں دلا رہا، شاید وہ بھی پرایا بن چکا ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سوات ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اہلِ سوات کے پرانے زخم آج تک مندمل نہیں ہوپائے۔ کہیں نفسیاتی، کہیں مالی، تو کہیں جانی ضیاع کی صورت ہم آج بھی گذشتہ جنگ کے خوف ناک بھنور سے مکمل طور پر نہیں نکل پائے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں سوات اور یہاں کے عوام دوبارہ آگ اور خون کی ہولی دیکھنے کو تیار نہیں۔
ہم دوبارہ اپنے بچوں پر متاثرین کا ٹھپا لگواکر کیمپوں میں جانے کو تیار نہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے کاروبار تباہ و برباد ہوجائیں۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ ہم نفسیاتی مریض بنیں۔ ہمیں اپنا وجود مکمل اور صحیح سلامت چاہیے۔ ہمیں اندھیرے نہیں، روشنی چاہیے۔ہم مزاحمت بھی کررہے ہیں اور ’’ذمے دار‘‘ اداروں سے امن کا سوال بھی…… جس کا جواب ہمیں بہ ہر صورت چاہیے۔
سوات میں گذشتہ بدامنی کے بعد اگر حالیہ واقعات کو دیکھیں، تو یہ پیٹرن پرانے جیسا ہی ہے۔ صرف اس میں ایک تبدیلی آچکی ہے کہ سوات کے عوام اس بار اپنے موقف میں بڑے واضح ہیں۔ یہ وہ ڈرے اور سہمے ہوئے اہلِ سوات نہیں…… بلکہ مزاحمت کے علم بردار، آواز بلند کرنے والے اہلِ سوات ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔