اللہ تعالا کا ہم پر بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس ملک میں سر سبز و شاداب کھیت، درختوں سے لدے بلند پہاڑ، جنگلات، سمندر، دریا اور حتیٰ کہ ریگستان اور صحرا بھی عطا کیے ہیں۔ کاینات میں موجود یہ تمام انعامات انسانوں کے لیے ہیں۔ اللہ کی ان قدرتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم نے ایک رات پنجاب کے مشہور صحرا ’’صحرائے تھل‘‘ میں گزاری۔
چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ سے بذریعہ کار روانہ ہوئے اور تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد دریائے جہلم کے کنارے پہنچ گئے۔ دریا کنارے مَیں نے پانی کے اوپر سو روپیا کا نوٹ بہتے دیکھا۔ مَیں سمجھا کہ شاید کوئی بے پروائی کرگیا ہے…… لیکن اصل کہانی کچھ اور تھی۔ وہ یوں کہ وہاں کے ایک مقامی شخص نے مجھے بتایا کہ یہ پیسے اس کشتی میں دریا عبور کرنے کرنے والی اکثر سواریاں اس خیال سے پھینکتی ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ دریا بھی اللہ تعالا کی مخلوق ہے۔ اس لیے اس میں صدقہ ڈال کر ہم بحفاظت دریا عبور کرسکیں گے۔
اس کشتی جس کو مقامی زبان میں’’بیڑا‘‘ کہتے ہیں…… کے ذریعے گاڑی سمیت دریا پار کرکے ہم صحرائے تھل میں داخل ہوگئے۔ ’’صحرائے تھل‘‘ ریگستان ہی ریگستان ہے۔ ریت کے پہاڑوں کے درمیان پختہ سڑک بنی ہے…… جس پر ہماری کار خراماں خراماں چل رہی تھی اور ہمارے ساتھ ’’تھل‘‘ کے باشندے ہمیں اس صحرا کے حوالے سے مفید معلومات دے رہے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب چنے کے کھیت تھے جس کے بارے میں دریافت کرنے پر پتا چلا کہ یہ بارانی زمین ہے۔ ان کھیتوں میں ہمیں کہیں کہیں گندم بھی نظر آیا۔چنے کی فصل کے لیے کسی کھاد وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بس قدرت کے کارخانے دیکھیں کہ ان لوگوں کا دار و مدار چنے کی فصل پر ہے۔
کچھ دیر ریت کے تاحدِ نگاہ اس میدان کے درمیان بنی سڑک پر سفر کرنے کے بعد ہم ایک وادی میں داخل ہوئے۔ یہاں کوئی آٹھ دس گھر بنے تھے۔ گھروں کی چار دیواری تقریباً تین فٹ تھی جس سے گھر کے اندر کمرے اور حتیٰ کہ گھر کا سامان صاف نظر آتا تھا۔ تمام گھروں کی دیواروں اور فرش کوگرمیوں میں گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے مٹی سے لیپا گیا تھا۔ یہ منظر بڑا دلچسپ تھا۔ ہر گھر میں ایک درخت نظر آنے لگا جس کی شاخوں میں برتن مثلاً گلاس جگ، تھرماس پتیلی اورچمچے وغیرہ آویزاں تھے۔ یہ مصنوعی درخت لوہے کا بنا ہوا تھا جس میں شاخیں بھی ویلڈ کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔ دُور سے ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے درخت کی شاخوں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ معلوم کرنے پتا چلا کہ اصل میں تھل میں تیز ہوائیں چلتی ہیں…… جس کی وجہ سے ریت ان کے گھروں کے اندر داخل ہوتی ہے اور برتن بھی ریت آلود ہو جاتے ہیں۔
ہمیں مہمان خانہ کے اندر لے جایا گیا۔ چاروں طرف بچھی چارپائیوں پر منقش چادریں بچھی تھیں۔ شام کا وقت قریب تھا۔ ہماری تواضع چائے سے کی گئی۔ چائے پیتے ہی مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ اس مختصر سے گاؤں میں ایک مسجد تھی…… جو صرف ایک کمرے پر مشتمل تھی۔ مسجد میں جاکر جب نماز پڑھنے لگا، تو ایک بوسیدہ مصلا بچھادیکھ کر میں بہت خفا ہوا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہاں نمازی نہیں۔
’’صحرائے تھل‘‘میں پانی بھی نمکین ہے۔ یہ تو اس وقت پتا چلا جب میں وضو کرنے لگا۔ ہینڈ پمپ سے لوٹے میں پانی لے کر وضو کرنا پڑتا تھا۔
یہاں کے لوگ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ بجلی کا تو نام و نشان نہیں ۔ ہمیں معلوم ہوا کہ رات کو گاڑی کی بیٹری سے روشنی کے لیے چھوٹے چھوٹے بلب روشن کیے جاتے ہیں۔ یہ بیٹری ٹریکٹر سے اتار کر مکمل ایک مہینا تک استعمال کی جاسکتی ہے۔ پوچھنے پر یہ بھی علم میں آیا کہ یہاں کے مکین ہر قسم کے بلوں مثلاً بجلی، پانی اور گیس سے آزاد ہی نہیں بل کہ بے خبرہیں۔ اللہ کے فضل سے ہر خاندان سالانہ تقریباً ایک کروڑ روپے تک کا چنا بیچتا ہے۔ تمام پاکستان کو چنا یہاں سے جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں یہاں کے رہنے والوں سے معلوم ہوا کہ یہاں کوئی ڈاکا زنی، قتل و غارت، نشہ وغیرہ بالکل نہیں۔ بس یہاں کے لوگ آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ ہمیں اس وقت ہوا جب مختلف گھروں سے ہمارے لیے رات کا کھانا پہنچا۔ ہم نے محسوس کیا کہ روٹی میں ریت کے ذرّے موجود ہیں۔ اس لیے کم کھانے میں عافیت جانی۔
یہاں بیت الخلا کا کوئی تصور نہیں۔ بس ہینڈ پمپ سے لوٹے میں پانی لے لو اور کھیتوں کی طرف چلے جاؤ۔ حتیٰ کہ خواتین کے لیے بھی گھروں میں لیٹرین کا کوئی انتظام نہیں۔ ہم نے چنے کے پودوں میں کچے چنے کے دانے دیکھے۔ چنے کی فصل اپریل میں تیار ہو جاتی ہے۔ اس کے پودے کو اکھاڑ کر مشین میں ڈالا جاتا ہے جس سے چنے ایک طرف جب کہ پودے کا بھوسا دوسری طرف نکل جاتا ہے۔
یہاں لوگ مویشی بھی پالتے ہیں…… لیکن پنجاب کے دوسرے علاقوں کی نسبت یہاں مویشی کم پائے جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں مویشیوں کے لیے چارے کا مسئلہ ہو تا ہے ۔ ’’تھل‘‘ کے لوگ سادہ اور مہمان نواز ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ہمیں کہا گیا کہ چوں کہ یہاں سخت گرمی پڑتی ہے…… لیکن رات کے وقت ہم کھلے آسمان تلے سوتے ہیں۔ رات کی سرد ہوا کی بدولت ہم باقاعدہ کمبل اوڑھ لیتے ہیں۔ ہم نے وہ منظر بھی دیکھا جب خواتین کھیتوں میں اپنے کاموں میں مصروف تھیں ۔دوسرے دن اپنے میزبانوں سے رخصتی لے کر ریت کے درمیان سڑک پر سفر کرتے ہوئے یہی نظارے دیکھتے دیکھتے ہم اٹھارہ ہزاری جھنگ پہنچ گئے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔