سماجی انصاف کا مطلب لوگوں کے درمیان روزمرہ معاملات زندگی میں بلاتفریق اس طرح عدل و مساوات کا ہونا ہے کہ کسی کی بھی حق تلفی نہ ہو۔ اور اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات مثلاً صحت، تعلیم، رہایش، پینے کا صاف پانی وغیرہ دینے میں ناکام رہے، تو اس کا لازمی نتیجہ معاشرتی بے اطمینانی، لاقانونیت، مایوسی، معاشی بدحالی اور ترقی کی نمو میں نمایاں سست روی کی صورت نکلتا ہے۔ غیر منصفانہ معاشی ڈھانچے کا لازمی نتیجہ دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اور غربت کی موجودگی اور اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب معاشرے میں لوگوں کو انصاف کے یکساں مواقع نہیں ملتے، تواس سے بہت سے مسایل جنم لیتے ہیں۔ معاشرے میں غربت، کرپشن اور جرایم میں اضافہ ہوتا ہے اور لوگ جنگ و جدل کی طرف مایل ہوتے ہیں۔ اگر سماجی انصاف کی فراہمی کا بغور جایزہ لیا جائے، تو اقوام و مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام سماجی انصاف کی فراہمی اور معاشرتی مساوات کا سب سے بڑا علم بردار، قایل اور سچا داعی مذہب ہے، جس نے معاشرے میں موجود تمام انسانوں کو ایک جیسے مقام سے نوازا ہے۔
اسلام میں رنگ و نسل، قوم و قبیلہ، ذات پات، دولت و ثروت، اختیار و اقتدار، غریب و امیر، پختون و پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی وغیرہ ہونے پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھا گیا…… بلکہ اس کی تقسیم کا واحد قاعدہ واصول صرف اور صرف ’’تقویٰ و للہیت‘‘ پرقایم ہے۔
اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تم کو مختلف شاخوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا، تاکہ تم ایک دوسروں کو پہچان سکو، اللہ کے نزدیک زیادہ متقی ہی عزت والا ہے۔‘‘
بلاامتیاز، عدل و انصاف کا قیام اسلامی معاشرے کا ایک اہم اور بنیادی ستون ہے۔ بلاشبہ عدل و انصاف ہی کی وجہ سے ہی حق دار حق پالیتا ہے…… اور مجرم سزا۔ اللہ تعالا کا فرمان ہے: ’’جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، تو عدل کے ساتھ کرو!‘‘
خاتم انبیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں انہیں اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا، تو وہ اسے چھوڑ دیتے…… اور جب کوئی کم زور چوری کرتا، تو اس پر سزاجاری کردیتے، اور اللہ کی قسم اگرمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا!‘‘
لیکن اگر ہم آج کے معاشرے میں اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، تو ہمیں سماجی انصاف کی صورتِ حال اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کیوں کہ ہم اسلام کی روشن تعلیمات کو پس پشت ڈال کر اغیار کی ننگی تہذیب کے دل دادہ ہوچکے ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے میں محبت و الفت ناپید ہوگئی ہے…… اوربدامنی و انتشار بڑھ گیا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں ترقی کرنے والی اقوام نے اپنے شہریوں کو صرف صنعتی ترقی اورآگے بڑھنے کے مواقع ہی نہیں دیے…… بلکہ اپنے پورے معاشرے پر انصاف کو غالب کرکے انہیں بہت سی فکروں اور پریشانیوں سے آزاد کیا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا شماربھی ان ممالک میں ہوتا ہے جس کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہاں پر سماجی انصاف کی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ لوگ پینے کے صاف پانی، صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں…… جب کہ صرف 50 فیصد پاکستانیوں کو بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔ حکومتی اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے باوجود معاشرے میں روز بروز بڑھتے جرایم، چوریاں، ڈکیتیاں، رسہ گیری اور رہزنی کے واقعات لمحہ فکریہ ہیں…… جب کہ معاشرے کی درست تشکیل و تعمیر کے لیے سماجی انصاف بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں امن و امان قایم ہو سکتا ہے۔ الفت و محبت کے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مسلمان صحیح طور پر تعلیمات اسلام کے مطابق زندگی گزارنے والے بن جائیں۔
قارئین! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات تمام انسانوں کے لیے وسایل کی منصفانہ تقسیم…… حق و مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی ہیں…… اور انسانوں کے تحفظ و بقا کی ضامن ہیں۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سماجی زندگی کا ایسا تصور پیش کیا جس میں افراد مل جل کر رہتے ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور حسن سلوک سے پیش آتے ہوں۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔