86 total views, 1 views today

دنیا کے تقریباً تمام مذاہب خاص کر الہامی مذاہب میں اس دنیا کے آخری وقت مطلب قیامت کے قریب قریب ایک مسیحا کا تصور ہے۔ تمام مذاہب یہ تصور رکھتے ہیں کہ قیامت کے قریب ان کا ایک مسیحا آئے گا جو ان کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا بحث ہوگا۔
اسی تصور کے تحت عالم اسلام میں بھی تقریباً 95 فی صد مسلمان اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے اس مسیحا کا نام ’’محمد‘‘ اور معروفیت ’’مہدی‘‘ بتائی جاتی ہے۔ بس ایک معمولی اقلیت اس تصور کی منکر ہے جب کہ قریب 125 سال قبل ایک طبقے نے مہدی کی موجودگی تسلیم کرکے اس کی بیعت کرلی اور دایرۂ اسلام سے خارج ہوگئے کہ جن کو اب ’’قادیانی‘‘ کہا جاتا ہے۔ باقی عالمِ اسلام ابھی تک منتظرِ مہدی ہے۔
سنی طبقۂ فکر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مہدی آلِ رسولؐ سے ہوں گے اور امام حسن بن علی کی نسل سے پیدا ہوں گے…… جب کہ شیعہ طبقۂ فکر کا عقیدہ ہے کہ مہدی نسل امام حسین ابن علی سے گیارہویں امام حسن عسکری کے گھر پیدا ہوچکے ہیں اور اس وقت عالمِ غایب میں ہیں۔ اب وہ پیدا نہیں ہوں گے بلکہ ان کا ظہور ہوگا…… لیکن دونوں کا اس پر اتفاق ہے کہ امام مہدی کی آمد سے ان کا اقتدار دنیا بھر میں قایم ہو جائے گا۔ ہر طرف صرف اسلام بطورِ دین باقی رہ جائے گا اور امام مہدی کی حکومت تمام دنیا میں بلا شرکتِ غیرے قایم ہوجائے گی۔ اس طرح دنیا میں ایک عقیدہ، ایک مذہب ہوگا اور ہر طرف امن و امان اور خوش حالی کا دور دورہ ہوگا۔
ہم اس عقیدہ کے مخالفین کے دلایل کو یہاں پیش نہیں کرتے اور نہ ہماری دلچسپی اس عقیدہ کے درست یا معاذ ﷲ غلط ہونے ہی میں ہے…… لیکن ہم اس عقیدہ کے پرچار کرنے والوں سے ایک التجا ضرور کریں گے کہ وہ کم از کم ہماری نوجوان نسل کو اس ’’رومانس‘‘ میں بند کرکے بالکل ہی اپاہج نہ بنا دیں۔ کیوں کہ میں ذاتی تجربہ و مشاہدہ کی بنیاد پر ایک بات کہنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ ہمارے اکثر نوجوان خواہ لڑکے ہوں…… یا لڑکیاں۔ اس عقیدے کی ایک خاص تشریح کی وجہ سے معاشرے میں نہ صرف عضو معطل بن چکے ہیں…… بلکہ وہ تقریباً ہر چیز اور حالات سے بے نیاز ہو کر صرف منتظرِ مہدی ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
اس پر جو تھوڑی بہت تحقیق مَیں نے کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے حوالے سے کچھ باتیں میری سمجھ میں آئی ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف ہمارے وہ مذہبی سکالر ہیں جیسے پروفیسر رفیق اختر اور شیخ عمران نذر حسین وغیرہ جو مہدی کی آمد کی خوش خبری تو دیتے ہیں…… لیکن چوں کہ مہدی کی آمد کا کوئی خاص متعین وقت قرآن و سنت میں نہیں بتایا گیا۔ اس لیے وہ وقت دینے سے قاصر ہیں۔ البتہ مختلف قسم کی تحقیق کے بعد یہ بتاتے ہیں کہ وہ وقت بہت قریب ہے اور چوں کہ ان کی گفتگو خالصتاً علمی اور تکنیکی ہے…… جسے عام فہم شخص کے لیے سمجھنا مشکل ہے ۔ اس لیے ہمارے بہت سے مذہبی رحجانات رکھنے والے نوجوان اس کو اس کی روح میں سمجھنے کی بجائے اس کو ظاہری طور پر لیتے ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انتظار میں مصروف ہیں۔
بات اگر پاکستان کی کی جائے، تو اس کے ساتھ ساتھ ہمارے مسایل کچھ اور بھی ہیں۔ چوں کہ تصورِ مہدی کے ساتھ ایک تصور ’’غزوۂ ہند‘‘ کا بھی ہے کہ ہمارا آخری معرکہ یعنی پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ اسلام اور کفر کا ہند میں وقوع پذیر ہونا ہے۔ اس وجہ سے ظاہر ہے کہ پاکستان کی حیثیت مرکزی ہے۔ سو ہمارے نوجوانوں کو زیادہ پرجوش بنایا جا رہا ہے۔ اس میں مرحوم حمید گل اور اب ان کے صاحب زادے عبدﷲ گل پیش پیش ہیں۔
اس کے علاوہ تحریک لبیک والے خاص کر مرحوم خادم رضوی، علامہ طاہر القادری اور معروف جہادی فکر والے محترم حافظ سعید بھی بہت زیادہ اس کا پرچار کرتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُس دور کی جمہوریت کو غیر اسلامی سمجھنے والے اور ملک میں خلافت کا نظام لانے کے مدعی مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد اور ’’براکس ایکس‘‘ نامی دفاعی تنظیم کے موجد محترم زاہد حامد بھی بہت متحرک ہیں۔ یہاں کچھ معروف یا مقبول نام تحریر کیے گئے…… وگرنہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
ویسے بہت سے باخبر اور اعلا ایوانوں تک رسائی کے دعوے دار یہ دعوا بھی کرتے ہیں کہ پاکستان کی حد تک غزوۂ ہند کے متمنی اور خلافت کے نظام کے پیش کار بالواسطہ یا بلاواسطہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسٹیبلشمنٹ کے اپنے بندے ہیں…… اور اسٹیبلشمنٹ ان کو اپنے مقاصد کے لیے خوب عقل مندی سے استعمال کرتی ہے…… بلکہ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ سب (یا بہرحال ان میں سے کچھ) اسٹیبلشمنٹ کے باقاعدہ غیر رسمی نمایندے ہیں۔
اب ہمارے معاشرے کو بحیثیتِ مجموعی اس صورتِ حال پر غور کرنا ہوگا کہ اس طریقۂ کار کے کتنے منفی اثرات ہمارے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کا ایک قابل ذکر طبقۂ نظام سے بالکل کٹ کر رہ گیا ہے۔ ان کو ملک کے سیاسی معاملات سے بالکل دلچسپی نہیں…… اور جو تھوڑی بہت ہے…… وہ بھی عملی نہیں…… بلکہ صرف فکری ہے۔ مطلب گفتگو اور تحریر کی حد تک…… بلکہ کچھ نوجوانوں کو تو اپنے مستقبل، والدین کی توقعات یا دوسرے خاندان کے افراد کے جذبات کا بھی بالکل احساس نہیں۔ سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بس امام مہدی کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب جو اشخاص ان کو ’’غزوۂ ہند‘‘ اور ’’امام مہدی‘‘ کے ظہور کی خوشخبریاں دیتے ہیں…… وہ ان کو صورتِ حال مزید واضح بھی نہیں کرتے۔
مَیں نے سنی اور شیعہ دونوں فکری سکولوں کو اس حوالے سے جاننے کی کوشش کی ہے اور یہ معلوم ہوا کہ دونوں میں جہاں ظہورِ امام مہدی کا تصور ہے…… وہاں خود کو ان حالات کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ یہ تیاری محض عبادات، ذکر و افکار تک نہیں…… بلکہ دنیاوی طور پر اپنی اور معاشرہ کی فوجی، معاشی اور ثقافتی ترقی ہے۔
دوسرا، اسلامی کتب میں یہ کہیں نہیں درج کہ آپ نے بس امام مہدی اور ’’خلافتِ مہدیہ‘‘ کا انتظار کرنا ہے۔ مَیں اکثر نوجوانوں کو کہتا ہوں کہ آپ کے اپنے عقیدہ کے مطابق امام کا ظہور فیصلہ رب العالمین ہے۔ امام مہدی کی فتح یقینی ہے، تو پھر اس وقت کے لیے ابھی سے پریشانی کیوں……؟ اور پریشانی بھی ایسی کہ خود کو ہر چیز سے بے پروا کر لیا جائے۔
قارئین، اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ جدید دنیا میں سب سے کامیاب حکمت عملی اول شاہِ ایران کی تھی…… اور پھر اس کے مقابل دوسرا مخالفانہ نظریہ امام خمینی نے کامیابی سے دیا۔
شاہِ ایران کا نظریہ مکمل سیاسی مفادات پر مبنی تھا۔ ایران کے بادشاہوں نے ایرانی عوام کے ذہن میں یہ خیال بہت حکمت سے ٹھونس دیا تھا کہ تمہاری کامیابی اور فتح کا انحصار اور وقت، آمدِ امام مہدی ہے۔ سو اس وقت تک اپنے معاملات ذاتی تو حل کریں…… لیکن سیاسی طاقت کا خیال دل سے نکال دیں۔ اس وقت تک میں اور میرا خاندان ہی حق دارِ حکومت ہیں۔
پھر جب شاہ کی غاصبیت کی حد ہوگئی، تو امام خمینی اس نظریہ کے ساتھ آگے آئے کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ جب تک امام مہدی کا ظہور نہیں ہوتا…… ہم بس شاہی خاندان کی غلامی کرتے رہیں؟ اپنی ثقافتی اقدار حتی کے دینی عقاید کی پامالی پر خاموش رہیں…… ہماری معیشت شاہ کی عیاشیوں کے لیے مختص ہو……!
اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ امام خمینی نے تہران کی سڑکوں پر انقلاب برپا کر دیا۔ شاہ اپنی تمام تر طاقت، قابل ایجنسیوں، امریکہ اور دوسرے بین الاقوامی چودھریوں کی بے انتہا حمایت کے باجود ایران سے بھاگنے پر مجبور ہوگیا اور بہت مشکل سے مصر میں اس کو پناہ ملی۔ پھر تہران اس کی قبر بھی نہ بن پایا…… اور خمینی ’’ولایتِ فقیہہ‘‘ کا تصور لے کر حکومت ایران کے عوام کے حوالے کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
بے شک اس تحریک میں ہزاروں ایرانی اپنی جان سے گئے۔ بے شمار کو قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑیں…… لیکن وہ بالآخر کامیاب ہو ہی گئے…… جب کہ ہماری حالت یہ ہے کہ ہمارے یہ نام نہاد خلافت کے داعی اور مبلغ بند کمروں میں بس تحریروں اور لیکچروں تک محدود ہیں۔ یہ زیادہ تر اپنے نوجوانوں کو شاگرد کی بجائے مرید بناتے ہیں۔ ان کے دل میں غیر مسلم آبادی بارے نفرت بڑھاتے ہیں۔ معاشی و سیاسی نظام سے ان کو دور کرتے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ اس کا براہِ راست فایدہ تو ہماری اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی ہے کہ جب چاہے ان کو استعمال کرکے ملک میں سیاسی حکومت کی چولیں ہلادیتی ہے اور یا پھر جزوی فایدہ ان روایتی سیاست دانوں ہی کو ہوتا ہے کہ ان کو سیاسی میدان میں ان کی مزاحمت کی مشکلات نہیں سہنا پڑتی…… جب کہ ان نوجوانوں کو ذاتی طور پر ہر قسم کے نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بے چارے خود افغانستان اور کشمیر میں شہید ہوتے ہیں…… ان کے گھر والے مصایب کا شکار ہوجاتے ہیں…… اور اُوپر بیٹھے مبلغ نارمل اور پُرتکلف زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
کیا سول سوسایٹی اور حکومت اس نکتے پر غور کرے گی؟
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔