زندگی ایک نعمت ہے جو اللہ کی طرف سے ہمیں عطا کی گئی ہے۔ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے…… اس نے ایک نہ ایک دن ضرور جانا ہے۔ اسی لیے اس دنیا کو ’’فانی‘‘ کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس نے ایک دن فنا ہوجانا ہے۔
زندگی اللہ تعالا کی طر ف سے ایک امتحان بھی ہے…… جس میں روزِ قیامت کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ بھی ہوگا۔ انسان دنیا میں آتا تو ایک ترتیب سے ہے…… مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں۔ موت برحق ہے اور کفن پر شک ہے۔ اس کے باوجود ہمیں زندگی سے پیار ہے۔ ہمیں اس دنیا سے پیار ہے جو عارضی ہے مگر جہاں اصلی زندگی گزارنی ہے، اس کے لیے ہم کیا کچھ نہیں کرتے۔ کھانے پینے سے لے کر آنے والی نسلوں تک کا سوچتے ہیں…… مگر ہمیں کسی کے نہ پل کا پتا اور نہ کل کا۔ اور 2021ء ہم سے جدا ہونے والا ہے۔ 2021ء میں بہت سے ہمارے اپنے پیارے ہمیں روتا چھوڑ کر اپنے اصلی گھر کی طرف چلے گئے۔ بچھڑنے والوں میں کچھ نامور شخصیات بھی شامل ہیں…… جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی خدمات وقف کررکھی تھیں۔
٭ حسینہ معین:۔ حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کانپور سے حاصل کی۔ تقسیمِ ہند کے بعد ہجرت کرکے پاکستان منتقل ہو گئیں۔ آپا…… ممتاز مصنفہ، مکالمہ نگار اور ڈراما نویس تھیں۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وِژن کے لیے پاکستان اور بیرونِ پاکستان بہت سے ڈرامے لکھے۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1987ء میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی بھی دیا گیا۔ حسینہ آپا پاکستان کی سب سے بہترین ڈراما نگار سمجھی جاتی ہیں۔ پی ٹی وی کے لیے ڈھیر سارے یادگار ڈرامے لکھے جن میں ’’شہزوری‘‘، ’’زیر زبر پیش‘‘، ’’انکل عرفی‘‘، ’’اَن کہی‘‘، ’’تنہائیاں‘‘، ’’دھوپ کنارے‘‘، ’’دھند‘‘، ’’آہٹ‘‘، ’’کہر‘‘، ’’پڑوسی‘‘، ’’آنسو‘‘، ’’بندش‘‘ اور ’’آئینہ‘‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔ حسینہ آپا 26 مارچ 2021ء کو 79 سال کی عمر میں کراچی میں حرکتِ قلب بند ہونے سے وفات پاگئیں۔
٭ فاروق قیصر:۔ فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ’’نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور‘‘ سے تعلیم حاصل کی اور وہ پاکستان ٹیلی وِژن پر پہلی مرتبہ 1970ء میں ’’اکڑ بکڑ‘‘ میں دکھائی دیے تھے…… مگر ان کی وجۂ شہرت پی ٹی وی کا شو ’’کلیاں‘‘ بنی…… جس میں انہوں نے ’’انکل سرگم‘‘ کا کردار ادا کیا تھا۔ فاروق قیصر ایک مصنف، کالم نگار، کارٹونسٹ اور ٹی وی پروڈیوسر تھے۔ انہوں نے پانچ کے قریب کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں 1993ء میں تمغائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ 14 مئی 2021ء کو وفات پاگئے۔
٭ محمد یوسف خان (دلیپ کمار):۔ لیجنڈ اداکار 11 دسمبر 1922ء کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے۔ فلم انڈسٹری پر 50 سال سے زائد عرصے تک راج کیا۔ دل کو چھو لینے والی اداکاری کے سبب انہیں ’’شہنشاہِ جذبات‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی معروف فلموں میں ’’دیوداس‘‘، ’’مغلِ اعظم‘‘، ’’گنگا جمنا‘‘، ’’رام اور شیام‘‘، ’’نیا دور‘‘، ’’مادھومتی‘‘، ’’کرانتی‘‘ اور ’’وِدھاتا‘‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔ ان کوحکومتِ پاکستان کی طرف سے 1998ء میں ’’نشانِ پاکستان‘‘ عطا کیا گیا…… جب کہ بھارتی فلم کے سب سے بڑے اعزاز ’’دادا صاحب پھالکے‘‘ سے بھی نوازا گیا۔ 7 جولائی کو 98 برس کی عمر میں بھارت میں انتقال کر گئے۔
٭ سید ممنون حسین:۔ سابق صدرِ مملکت سید ممنون حسین متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تاجر تھے۔ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ 23 دسمبر 1940ء کو بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں انھوں نے اہلِ خانہ کے اصرار پر درسِ نظامی میں داخلہ لیا اور ڈھائی سال تک دینی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران میں میٹرک بھی کیا اور درسِ نظامی چھوڑ کر بی کام آنرز میں داخلہ لے لیا۔ 1967ء کے بعد کراچی ہی میں ’’انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن‘‘ (آئی بی اے) سے ’’ایم بی اے‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ ممنون حسین ابتدا ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ ان کے خاندان کا فکری جھکاؤ مسلم لیگ کی طرف تھا۔ اس لیے سیاسی سرگرمیوں کے لیے انھوں نے بھی اسی جماعت کا انتخاب کیا۔جون 1999ء سے اکتوبر1999ء تک گورنر سندھ بھی رہے تھے۔ ممنون حسین 2013ء سے 2018ء تک پاکستان کے صدر رہے۔ 14 جولائی 2021ء کو کراچی میں رحلت فرما گئے۔
٭ ممتاز بھٹو:۔ سردار ممتاز علی بھٹو 28 نومبر 1933ء کو لاڑکانہ کے پیر بخش بھٹو میں امیر بخش خان بھٹو کے ہاں پیدا ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے کزن اور قریبی ساتھی ہونے کے باعث ممتاز بھٹو 1967ء سے 1989ء تک پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ ممتاز علی بھٹو 1967ء سے 1988ء تک پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ بے نظیر بھٹو سے سیاسی اختلافات کے باعث پی پی پی سے الگ ہوگئے اور 1989ء میں سندھ نیشنل فرنٹ کے نام سے سیاسی جماعت تشکیل دی۔ ممتاز بھٹو نے 22 دسمبر 1971ء سے 20 اپریل 1972ء تک سندھ کے آٹھویں گورنر کے فرائض سرانجام دیے۔ بعد ازاں یکم مئی 1972ء سے 20 دسمبر 1972ء تک وہ صوبہ سندھ کے 13ویں وزیرِ اعلا بھی رہے۔ ممتاز بھٹو 18 جولائی 2021ء کو 88 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے۔
٭ سید علی شاہ گیلانی:۔ سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929ء کو پیدا ہوئے۔ جموں و کشمیر کے سیاسی رہنما تھے۔ تعلق ضلع ’’بارہ مولہ‘‘ کے قصبے ’’سوپور‘‘ سے تھا۔ کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے۔ بزرگ حریت رہنما جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن رہے ہیں…… جب کہ انہوں نے جد و جہدِ آزادی کے لیے ایک الگ جماعت ’’تحریکِ حریت‘‘ بھی بنائی تھی…… جو ’’کُل جماعتی حریت کانفرنس‘‘ کا حصہ ہے۔ سید علی گیلانی معروف عالمی مسلم فورم ’’رابطۂ عالمِ اسلامی‘‘ کے بھی رکن تھے۔ حریت رہنما یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما ہیں۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی طویل علالت کے بعد یکم ستمبر 2021ء کو جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔
٭ عمر شریف:۔ کامیڈی کے بے تا ج بادشاہ عمر شریف 19 اپریل 1955ء کو پیدا ہوئے۔ 14 سال کی عمر سے اسٹیج اداکاری شروع کرنے والے عمر شریف دیکھتے ہی دیکھتے کامیڈی کی دنیا کے کنگ بن گئے۔ ’’ٹی وی‘‘، ’’اسٹیج ایکٹر‘‘، ’’فلم ڈایریکٹر‘‘، ’’کمپوزر‘‘، ’’شاعر‘‘، ’’مصنف‘‘، ’’پروڈیوسر‘‘ یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان بنیں۔ عمر شریف کو جنوبی ایشیا کے ’’کنگ آف کامیڈی‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا۔ 2 اکتوبر 2021ء کوجرمنی کے ایک ہسپتال میں 61 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
٭ ڈاکٹر عبدالقدیر خان:۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہندوستان کے شہر ’’بھوپال‘‘ میں ایک اُردو بولنے والے گھرانے میں 1 اپریل 1936ء کو پیدا ہوئے۔ پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران میں مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی ’’یونیورسٹی آف ڈیلفٹ‘‘ اور بلجیم کی ’’یونیورسٹی آف لیوؤن‘‘ میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئے۔ عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ’’ماسٹرز آف سائنس‘‘ جب کہ بلجیم سے ’’ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ‘‘ کی اسناد حاصل کیں۔ ڈاکٹر عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں…… جنہوں نے 8سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں اَن تھک محنت اور لگن کے ساتھ’’ایٹمی پلانٹ‘‘ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 85 سال کی عمر میں 10 اکتوبر 2021ء کو اسلام آباد میں وفات پائی۔
٭ ڈاکٹر اجمل نیازی:۔ ڈاکٹر اجمل نیازی 16 ستمبر 1946ء کو موسیٰ خیل (ضلع میانوالی) میں پیداہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں طالب علمی کے دوران میں ’’راوی‘‘ اور ’’محور‘‘ کی ادارت کی۔ مختلف مجالس سے وابستگی رہی۔ ’’گارڈن کالج، راولپنڈی‘‘ اور ’’گورنمنٹ کالج، میانوالی‘‘ میں لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں ’’گورنمنٹ کالج، لاہور‘‘ اور ’’ایف سی کالج‘‘ میں تعینات رہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں ’’بے نیازیاں‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے۔ 45 سال صحافتی و ادبی خدمات انجام دیں۔ بہترین کالم نگاری پر سابق صدر آصف علی زرداری نے انہوں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ سے نوازا۔ ڈاکٹر اجمل نیازی 75 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد 18 اکتوبر 2021ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔