پچھلے دنوں خیبر میڈیکل کالج کے فائنل ائیر کے ایک طالب علم کی خودکُشی کا واقعہ رونما ہوا، جس نے خود کو ختم کرنے سے پہلے اپنے اعضا عطیہ کرنے کا سندیسہ بھی چھوڑ رکھا تھا۔ اب ایک ہی دن انجینئرنگ کے دو طالب علموں کی خودکُشی کی جانکاہ خبر سننے کو ملی ہے۔ ہر دفعہ جب ہم کسی کی خودکُشی کی خبر سنتے ہیں، تو ایک جھٹکا سا لگتا ہے کہ کیوں؟ آخر ایسی نوبت کیسے آگئی کہ ایک انسان اپنی محبوب ترین متاع یعنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے؟ اس مسئلے کو اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے، تو کرب، دکھ، ملامت اور پچھتاوے کا ایک ایسا ناقابلِ برداشت امتزاج سامنے آتا ہے کہ جس کا تصور کرتے ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ خودکُشی کرنے والا لازمی طور پر شعوری فیصلے کے نتیجے میں دانستہ طور پر ایسے عمل کا مرتکب ہوتا ہے، بلکہ بسا اوقات یہ ایک وقتی، جذباتی اور ردِعمل کے طور پر فکری انتشار کے برداشت نہ کرنے کی واردات ہوتی ہے، جو نتیجتاً پس ماندگان کو ایک دائمی حیرت اور اچھنبے میں چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔
یہ مسئلہ جس تیزی کے ساتھ ہمارے معاشرے کے قیمتی اور اَن مول افراد کو نگلے جا رہا ہے، ہم اتنی تندہی کے ساتھ اس کا مداوا کرنے کی کوئی سبیل نہیں نکال رہے۔ چوں کہ بنیادی طور پر یہ ایک نفسیاتی مسئلہ یا کسی نفسیاتی مسئلے کا شاخسانہ ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی تشخیص اور حفظِ ما تقدم بھی نفسیاتی عوامل کو جانے بغیر نہیں ہوسکتی، جو لوگ خودکُشی کی کوشش میں ناکام ہوکر اپنے واردات کا تجزیہ کرتے ہیں یا کوئی ماہرِ نفسیات ان کو کرید کر تجزیہ کرتے ہیں، تو اکثریت کیسز میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ موت کی خواہش دل میں نہ رکھتے ہوئے بھی زندگی سے اُکتاہٹ اور جینے سے آزردگی ان کی خودکُشی کی وجہ بن جاتی ہے۔ یعنی اگر زندگی اور موت کے مابین کوئی اور حالت ہوتی، تو یہ لوگ اس میں چلے جانے کو زیادہ ترجیح دیتے، لیکن چوں کہ زندگی کا متبادل موت ہی ہے، لہٰذا بادل نخواستہ موت کو ہی گلے لگا دیا جاتا ہے۔ اب زندگی سے یہ بیزاری ایک ایسا معمہ اور ایک ایسا عقدہ ہے جو کہ ہر کیس میں مختلف الوجوہ اور متنوع ہوتا ہے۔ لہٰذا اتنی آسانی سے اس کی تہہ میں نہیں جایا جاسکتا، یعنی اس بے زاری، دکھ، کرب اور انتشار کے اسباب جانے بنا اس انتہائی اقدام سے لوگوں کو بچانا ممکن نہیں۔
تعلیم یافتہ لوگوں میں اس عمل کا سرائیت کرجانا بذاتِ خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیوں کہ تعلیم اور شعور کو ہم باہم مترادف ہی گردانتے چلے آئے ہیں۔ اس تنزلی میں سب سے بڑا کردار معاشرے اور ریاست کا ہے، جس تہہ دار معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا مسئلہ قول و عمل کا تضاد اور دوئی ہے۔ جو اقدار اور اعلیٰ اخلاقی معیارات ہمیں تہذیبی طور پر ازبر کروائے جاتے ہیں، ان کا عُشر عَشیر بھی عملی طور پر دیکھنے میں نہیں آتا۔ یہ سانحہ معاشرے سے زیادہ ریاستی اور حکومتی سطح پر بھی کار فرما ہے۔ اب اس پیچیدہ اور گنجلک ماحول میں تعلیمی ماحول بھی ایسا غیر مؤثر ہے کہ وہ کسی فرد کو واضح مقاصد، لایحۂ عمل اور بلاتفریق مواقع دینے سے قاصر ہے۔ انتہائی مشکل اور تھکا دینے والے تعلیمی عمل سے 16 یا 18 سال گزرنے کے بعد پتا لگتا ہے کہ میں تو مارکیٹ یا آمدن کے لحاظ سے غلط فیلڈ میں آگیا ہوں اور ابھی تو اس سے زیادہ مشکل اور غیر یقینی عمل یعنی کاروبار یا نوکری ڈھونڈنے کی کارروائی سے گزرنا ہے، جس میں قابلیت اور اہلیت سے زیادہ سفارش اور اقربا پروری کا کردار ہوتا ہے۔ تو یوں ایک ناقابلِ برداشت ذہنی دباو وجود میں آتا ہے، جو یا تو دھیرے دھیرے گریزپا زندگی "خیالات” کی طرف بندے کو لے کے چلی جاتی ہے، یا لمحاتی و اضطراری اکساہٹ کے طور پر یک دم خودکشی کا باعث بنتا ہے اور یوں مذکورہ دباؤ پس ماندگان کے لیے ایک دائمی پچھتاوے اور روگ کا باعث بن جاتا ہے۔ ہمیں انفرادی طور پر ایسے لوگوں کی طرف سے حساس ہوجانا چاہیے اور جو لوگ اپنے کیرئیر کے ایسے دور سے گزر رہے ہیں، یا جن کو ایسے حالات کا سامنا ہے، ان کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ انہیں ہر ممکن طریقے سے دلاسا دینا چاہیے۔ ان کی تسلی اور دل جوئی کا سامان کرنا چاہیے کہ وہ اس اضطراب اور ذہنی و نفسیاتی دباؤ کی کیفیت سے باہر آجائیں اور طویل المدت طور پر کیرئیر اور کاروبار کے حوالے کونسلنگ اور رہنمائی کا ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ مبادا 15 یا 20 سال پڑھنے کے بعد یہ پچھتاوا نہ ہو کہ غلط طرف نکل آئے۔ یہ انتظام تعلیمی اداروں کی انفرادی کاوش بھی ہوسکتا ہے لیکن حکومت اور اس کے بااختیار ادارے اس لحاظ سے مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔