عمر ڈیر… ایک ہنسوڑ کا رقت آمیز انتقال

Blogger Comrade Sajid Aman

’’عمر ڈیر‘‘ ہمارا کلاس فیلو تھا۔ سکول میں سب سے زیادہ زندہ دل اور خوش مزاج تھا۔ کلاس میں اُن چند لڑکوں میں سے ایک تھا، جو سکول کے بعد کوئی کام کرتے تھے، اور وہ بھی ہنرمندی کا۔
عمر ڈیر کارپینٹر کا کام کرتا تھا اور اگلے دن ہمیں مزے لے لے کر کرسیاں بننے، لکڑی کاٹنے اور آرا چلانے کے تجربات بتاتا۔
عمر الفاظ کے استعمال میں بھی فن کاری سے کام لیتا، یوں نقشہ کھینچتا کہ ہمیں لگتا جیسے ہم اُسے کام کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اُس کا اندازِ بیاں بہت خوب صورت تھا۔ محاورے اور روزمرہ استعمال کرتا تھا، جگت بھی جانتا تھا، شایستگی تو اُس کے مزاج میں تھی ہی، مگر طنز و مزاح کا بھی وہ بادشاہ تھا۔
حد سے زیادہ اساتذہ کی تعظیم کرتا تھا۔ اساتذہ کے سامنے اُس کی شخصیت بدل جاتی تھی۔ ایک لمحے میں لگتا کہ تعظیم تعظیم میں کہیں وہ ہنس نہ دے… اور پھر اُسے استاد سے مار کا تصور ذہن میں آتا، مگر استاد کو دیکھ کر اس میں بلا کی سنجیدگی آ جاتی۔ جب تک استاد کلاس میں ہوتا، وہ پورے انہماک سے اس کی موجودگی کو محسوس کرتا۔ بورڈ کی طرف دیکھنا ہوتا، تو بورڈ کی طرف دیکھتا۔ کتاب کی طرف دیکھنا مقصود ہوتا، تو کتاب پر توجہ مرکوز رکھتا… اور اگر استاد کی بات سننے کا موقع آتا، تو وہ پوری توجہ سے استاد کی طرف دیکھتا اور ہمہ تن گوش ہوتا۔ اس دوران میں وہ نہ ہماری طرف دیکھتا، نہ کسی لقمے پر ردِعمل دیتا، نہ کسی چبھن کو محسوس کرتا… گویا استاد کی موجودگی میں وہ ہماری موجودگی کا انکار کر دیتا کہ شاید وہ اور استاد کلاس میں اکیلے ہیں۔
اور استاد کے کلاس سے نکل جانے کے بعد یہ پُراسرار ماحول ہوا ہوجاتا اور وہ وہی ہنسوڑ عمر ڈیر بن جاتا۔
کبھی کبھی لگتا کہ وہ شاید استاد کی مار سے ڈرتا ہے، مگر اس کے ہاتھ کلاس میں کیا، شاید سکول میں سب سے مضبوط تھے، سخت تھے، کھردرے تھے اور کلاس کا ڈنڈا اس کے لیے بے معنی تھا۔
عمر اوسط درجے سے بہتر تھا پڑھائی میں، مگر کلاس میں ہوتے ہوئے مسکراہٹ سب کے چہروں پر قائم رکھنا اُس کا خاصہ تھا۔ سخت سے سخت وقت میں اُس سے کسی جملے کی توقع ہوتی، تو وہ ہمیشہ مذکورہ توقع پر پورا اُترتا۔
ایک عرصہ بہت سے لوگوں سے الگ رہنے کی سزا میں عمر سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ دو سے زیادہ دہائیاں سوات سے باہر غمِ روزگار نے شہر شہر، نگر نگر گھمایا۔
جب مَیں سوات واپس آیا، تو عمر ڈیر کئی دفعہ بازار میں ملا… مگر وہ لااُبالی نہیں، بل کہ ایک مدبر اور سنجیدہ عمر ڈیر ہی ملا۔ مجھے کبھی موقع ہی نہیں ملا کہ پوچھ سکوں کہ سکول میں پڑھنے والا وہ ہنسوڑ اور گرم جوش عمر ڈیر کب انتقال کرگیا…؟
کچھ مہینے پہلے محترم فضل محمود روخان صاحب نے خپل کور ماڈل سکول میں شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کی یاد میں ایک پروگرام رکھا۔ پروگرام میں شہر کے نامی گرامی ادبا و شعرا شریک ہوئے۔ مجھے بھی عطاء اللہ جان کے دوست اور روخان صاحب کے شاگرد کے طور پر مدعو کیا گیا۔ مَیں صاحبِ کتاب تھا، نہ شاعر… سو مَیں نے ایک تقریر کی، جو حاضرین کی مہربانی سے قابلِ برداشت ہوئی۔ مذکورہ تقریر لفظونہ ڈاٹ کام کے علاوہ روزنامہ آزادی کے صفحات میں شائع ہوکر محفوظ ہوچکی ہے۔
مذکورہ پروگرام میں عمر ڈیر دیر سے ہانپتے کانپتے آپہنچے، مگر بھرپور شرکت کی۔ ایسا لگا کہ یہ تو وہی عمر ڈیر ہے، جو استاد کی موجودگی کے وقت ہوتا تھا، جو ہم کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔
پروگرام ہی میں پہلی دفعہ عمر ڈیر سے اُس کی مدھر آواز میں بامعنی شاعری سن کر جو پوچھنے کا تجسّس تھا، وہ ختم ہوگیا۔ وہ ’’ادبی سانگہ‘‘ کا متحرک رکن تھا اور دکنی طور کے آداب کا مرقع تھا۔ مَیں نے محسوس کیا کہ ساتھیوں میں اس کا بہت اثر ہے اور وہاں کوئی اُس عمر ڈیر کو نہیں جانتا جس کو مَیں لڑکپن سے پہچانتا ہوں۔
مَیں نے بھی ذہن کے اندر تاریخ اور تجسّس جیسی اشیا کے آگے ختمہ لگا دیا۔ عمر ڈیر عزت اور احترام سے ملا، اپنا کلام پیش کیا، بہت داد وصول کی اور چلا گیا۔
جب سوشل میڈیا پر اُس کی تصویر دیکھی، وفات کی خبر کے ساتھ… تو افسوس ہوا۔ افسوس کے کئی مواقع مل کر ایک بڑے صدمے میں تبدیل ہوئے۔ جس عمر ڈیر کو مَیں جانتا ہوں، اُس کے لیے توقع ہے کہ کوئی ابھی لکھ دے گا: ’’زندہ ہے، وہ ظالم تو مذاق کر رہا ہے۔‘‘
اور جس کو حال ہی میں ملا ہوں، اُس کے لیے لوگ کہیں گے: ’’ایک مدبر، سنجیدہ، لائق، مؤدب اور بارعب عمر ڈیر گزر گیا۔‘‘
مجھے عمر کے گزرنے کا یقین نہیں، یا پھر یقین کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اس وقت مجھے سکول کے وقت زمین پر بچھی دریوں پر بیٹھے وہ سارے دوست یاد آ رہے ہیں، جس میں عمر ڈیر سب کی پینسلیں تیز کرتا تھا، مدد کرتا تھا، ہنساتا تھا اور کبھی چھٹی نہیں کرتا تھا۔ ہاں، اُس کی انگلیاں رنگ زدہ، پالش زدہ ہوتی تھیں۔ ہم سوچتے کہ کاش! ہماری انگلیوں سے بھی ایسی بو آتی، ہماری بھی انگلیاں ایسی رنگی ہوئی ہوتیں۔
اللہ تعالیٰ عمر ڈیر کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
ایک جاننے والے کا فون آیا۔ وہ عمر ڈیر کے فاتحے سے ہوکر آیا تھا اور سوشل میڈیا پر میری تعزیت پڑھ کر ہی فون کر رہا تھا۔ اُس نے کہا کہ محنت کش، سفید پوش عمر ڈیر کو فالج کا اٹیک ہوا تھا۔ اُس کو بروقت ہسپتال لے جایا گیا۔ ہسپتال میں بتایا گیا کہ فالج کے لیے ایک انجکشن ہے، اگر بروقت لگ جائے، تو جان بھی بچ سکتی ہے اور فالج کے اثرات بھی ختم ہوسکتے ہیں… مگر مذکورہ انجکشن چوں کہ سرکاری ہسپتال میں دست یاب نہیں۔ اس لیے سیدو کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں اُسے داخل کرنا پڑے گا۔ مذکورہ انجکشن لاکھ سے اوپر کا ہے اور یہ بس مذکورہ ہسپتال ہی میں لگ سکتا ہے۔
عمر ڈیر کے لیے تو چند ہزار روپے کا بوجھ زیادہ تھا، ایسے میں ایک لاکھ روپیا وہ کہاں سے لاتا؟ پرائیویٹ ہسپتال جانے کا شاید اس نے زندگی میں سوچا بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے شاید آخری وقت میں آنسو بہاتے بہاتے بے بسی سے جان دی ہوگی۔
پنجاب میں فالج کا مذکورہ انجکشن رول ہیلتھ سنٹر کی سطح تک سرکاری ہسپتالوں میں مفت مہیا ہے۔ ہمارے ہاں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں نہ جانے ایسے کتنے مریض آتے ہیں، جن کے پاس پیسے نہیں ہوتے اور لواحقین اُسے موت کا مقررہ وقت کَہ کر رونے پر اکتفا کرلیتے ہیں۔
یہ معلومات ریاست اور صوبہ پختونخوا کے لیے شرم ناک تو ہیں ہی، مگر اس امیر شہر کی اتنی بڑی بڑی عمارتوں اور ایک سے بڑھ کر ایک خوب صورت گاڑی میں گھومنے والے امیروں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔
دوسری طرف عوام میں بھی شعور کی کمی ہے کہ وہ صحت اور تعلیم کی بات نہیں کرتے۔ ان کا مطالبہ بس خان کی آزادی ہے۔
غربت، ریاست، نظام اور ہماری اجتماعی بے شعوری نے مل کر عمر ڈیر کو قتل کیا ہے۔ روز ایسے بے شمار لوگ قتل ہوتے ہیں، اور ہم سب اسے اللہ کی مرضی اور وقت پورا ہونا کَہ کر خود کو مطمئن کرلیتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے