خونی رویے

Blogger Noor Muhammad Kanju

پچھلے کچھ دنوں سے سوات اور گرد و نواح میں قتل و غارت گری کا ایک ایسا بازار گرم ہے، جس نے ہر حساس دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دھرتی جو کبھی اپنے امن، خوب صورتی، مہمان نوازی اور باہمی رواداری کے لیے جانی جاتی تھی، آج خوف اور بے یقینی کے بادلوں تلے سسک رہی ہے۔ زندگی جو کہ ربِ کریم کی عطا کردہ ایک عظیم امانت اور نایاب تحفہ ہے، یہاں اتنی ارزاں ہوچکی ہے کہ چند لمحوں کے جوش، غصے اور انا کی تسکین کے لیے کسی کا بھی خون بہا دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔ معاشرے کی یہ زبوں حالی اس بات کی غماز ہے کہ ہم بہ حیثیتِ مجموعی فکری اور اخلاقی پستی کے اُس گڑھے میں گرچکے ہیں، جہاں سے واپسی کے لیے اب اجتماعی اور سنجیدہ کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔
اگر اس خوں ریز تماشے کے اسباب کا احاطہ کیا جائے، تو فہرست اتنی طویل اور تلخ ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کبھی معمولی نوعیت کی پرانی عداوتیں جو برسوں پرانی ہوتی ہیں، اچانک شعلہ بن کر بھڑک اٹھتی ہیں اور پورا علاقہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
کبھی بچوں کی معمولی کھیل کود یا سکول کے باہر ہونے والی تکرار میں بڑے اس طرح کود پڑتے ہیں کہ بات جان کے لین دین تک جا پہنچتی ہے۔
انا کی یہ جنگیں اتنی اندھی ہوتی ہیں کہ انسان یہ بھی بھول جاتا ہے کہ جس فریق سے اُس کا جھگڑا ہے، وہ اسی معاشرے، اسی محلے اور بعض اوقات ایک ہی خاندان یا قبیلے کا فرد ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں روایتی اور نام نہاد غیرت کے نام پر زندگی کے چراغ گل کر دینے کا ناسور بھی گہری جڑیں رکھتا ہے، جہاں عجلت میں کیے گئے فیصلے پورے خاندان کو عمر بھر کا روگ دے جاتے ہیں۔ کہیں جائیداد اور زمین کا معمولی سا تنازع اس فانی دنیا کا آخری اور دائمی جھگڑا بن جاتا ہے، جہاں ایک ایک بالشت زمین کے ٹکڑے کے لیے خون کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں۔ تو کہیں کاروباری لین دین کا ذرا سا اختلاف، حساب کتاب کی معمولی غلط فہمی یا اُدھار کی رقوم کی واپسی کا تنازع انسان کو قاتل کے کٹہرے میں لاکھڑا کرتا ہے۔ اَن گنت ایسے اسباب ہیں، جو پل بھر میں ہنستے بستے خاندانوں کو ماتم کدہ بنا دیتے ہیں اور خوشیوں کے گھرانوں میں ماتم کا سماں پیدا کر دیتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کی جان لینے والے شخص نے کبھی اس تلخ حقیقت پر سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ یہ محض ایک فرد کا خاتمہ نہیں ہوتا، بل کہ اس کے ساتھ پورا کا پورا خاندان اور ایک پوری دنیا اجڑ جاتی ہے۔ قاتل تو شاید قانون کی گرفت میں آنے کے بعد یا اپنی انا کی تسکین کے بعد وقتی طور پر مطمئن ہو جائے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے اس ایک فعل نے کتنی ہی معصوم زندگیوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ جو معصوم اور نا سمجھ بچے صبح اپنے باپ کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہیں، وہ پل بھر میں یتیم ہوجاتے ہیں۔ ان کے سروں سے شفقت کا وہ سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے، جو زندگی کی دھوپ میں ڈھال بنتا ہے۔ ان معصوموں کو کیا معلوم کہ دنیا کیا ہے، بس انھیں اتنا پتا ہوتا ہے کہ ان کا سب کچھ چھن چکا ہے۔
دوسری طرف ضعیف اور بوڑھے والدین کا حال تو اور بھی زیادہ دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔ جو ماں باپ اپنی اولاد کو پال پوس کر جوان کرتے ہیں، اس خواب کے ساتھ کہ بڑھاپے میں یہ بازو ان کا سہارا بنیں گے، جب وہی جوان لاشیں ان کے سینے سے لگائی جاتی ہیں، تو ان کا سارا جہاں اجڑ جاتا ہے۔ بڑھاپے کی وہ واحد لاٹھی اور سہارا چھن جاتا ہے، جو زندگی کے آخری ایام میں ان کی ڈھارس بن سکتا تھا۔ اب ان کا مقدر صرف آنسو، سسکیاں اور یادوں کے سہارے زندگی کے باقی دن کاٹنا رہ جاتا ہے۔
اسی طرح کسی لاڈلی بہن کا محافظ بھائی مٹی کے نیچے سو جاتا ہے، جس کی کلائی پر ریشم کا دھاگا باندھ کر وہ اپنی حفاظت کی امید لگائے بیٹھی ہوتی ہے۔ ایک سہاگن عورت کا سہاگ اجڑ جانے سے وہ زندگی بھر کے دکھوں، طعنوں اور کٹھن حالات کا بوجھ تنہا اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ خاندان کا سارا توازن بگڑ جاتا ہے اور خوشیاں ہمیشہ کے لیے روٹھ جاتی ہیں۔
مذہب، اخلاق اور قانون، تینوں اس بات کے گواہ ہیں کہ ناحق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ آسمانی الہامی کتابیں ہوں یا دنیا کا کوئی بھی ضابطہ حیات، کسی کو بھی یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی کی جان کا مالک بن جائے۔ جب ایک شخص موت کے گھاٹ اُتارا جاتا ہے، تو اس کے اثرات صرف اس کے گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے، بل کہ پورے معاشرے میں ایک نہ ختم ہونے والا بگاڑ اور خوف کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ انتقام کی یہ آگ نسل در نسل منتقل ہوتی ہے، جہاں باپ کا بدلہ بیٹا اور بیٹے کا بدلہ پوتا لینے کی قسم کھاتا ہے۔ اس لامتناہی سلسلے سے معاشرتی امن کا جنازہ نکل جاتا ہے اور محبتوں، بھائی چارے اور رواداری کی فضا دشمنی، عداوت اور بداعتمادی میں بدل جاتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ان تباہ کن رویوں اور جاہلانہ روایات کا سنجیدہ اور گہرا محاسبہ کیا جائے۔ ہم کب تک محض تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے؟ کب تک لاشیں اُٹھاتے رہیں گے، اور ماتمی دیواروں پر آنسو بہاتے رہیں گے؟ ان رجحانات کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا، تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُرامن، محفوظ، مہذب اور ترقی یافتہ مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔ اس کے لیے اجتماعی سطح پر معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ علمائے کرام کو مساجد کے منبر و محراب سے خون ناحق کی ہول ناکی اور حرمت پر سیر حاصل روشنی ڈالنی ہوگی۔ علاقہ کے مشران اور جرگوں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ایسے جابرانہ اور غصیلے فیصلوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی، جو مزید خون خرابے کا سبب بنتے ہیں۔
اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو نئی نسل کے ذہنوں میں رواداری، صبر، برداشت اور قانون کی پاس داری کے بیج بونے ہوں گے، تاکہ وہ غصے پر قابو پانا سیکھیں۔ اور سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی رٹ کو پوری طرح بہ حال کرنا ہوگا، جہاں جرم کرنے والے کو فوری اور عبرت ناک سزا ملے، تاکہ آیندہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ ہو۔ جب تک معاشرے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جائے گا اور مجرموں کو کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، اُس وقت تک اس خونی کھیل کا خاتمہ ناممکن ہے۔
آئیے، آج ہی اس عہد کا اعادہ کریں کہ ہم اپنی اس پیاری دھرتی کو نفرتوں اور خوں ریزی سے پاک کریں گے۔ باہمی محبت، بھائی چارے اور امن کی شمعیں روشن کریں گے… اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پُرامن اور محفوظ سوات ورثے میں دیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے