پی ٹی آئی کے سامنے اب شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں رہا کہ لانگ مارچ کرنا ہے یا نہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ اب اعلان، التوا اور دوبارہ اعلان کے اس چکر سے نکلنا کیسے ہے؟
27 ستمبر کا لانگ مارچ دو ماہ پہلے طے کیا گیا تھا، لیکن جب تاریخ سر پر آئی، تو معلوم ہوا کہ تیاری مطلوبہ سطح پر نہیں۔ چناں چہ 27 ستمبر کی کال کو 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔ سیاست میں تاریخ کا بدل جانا کوئی قیامت نہیں ہوتی، مگر سیاسی تحریکیں کیلنڈر سے نہیں، رفتار سے زندہ رہتی ہیں۔ ایک بار کارکنوں کو کسی تاریخ پر جمع ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار کردیا جائے، پھر عین وقت پر پیچھے ہٹنے کا فیصلہ محض انتظامی معاملہ نہیں رہتا، اس کے سیاسی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
اب سوال بڑا سادہ ہے: ’’جو تیاری دو ماہ میں نہیں ہوسکی، وہ ایک ہفتے میں کیسے ممکن ہوگی؟
اور وہ بھی ایسے وقت میں جب حکومت پہلے ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ اسلام آباد کی طرف کسی بڑے احتجاج کو معمول کی سیاسی سرگرمی سمجھ کر نہیں لیا جائے گا۔ راستوں پر رکاوٹیں، سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات اور انتظامیہ کی سخت پوزیشن نے پی ٹی آئی کے لیے میدان پہلے ہی خاصا مشکل بنا دیا ہے۔
پی ٹی آئی کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو اس کے بڑے احتجاجی اعلانات رہے ہیں۔ ہر احتجاج سے پہلے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے، جیسے اس بار فیصلہ کُن معرکہ ہونے جارہا ہو۔ کارکنوں میں جوش پیدا ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان آتا ہے، حکومت پر نفسیاتی دباو ڈالنے کی کوشش ہوتی ہے اور پھر اصل امتحان سڑک پر شروع ہوتا ہے۔
یہاں ایک دل چسپ تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اگر مقصد صرف حکومت پر نفسیاتی دباو ڈالنا تھا، تو حکومت نے اس مرتبہ بھی جواب نفسیاتی دباو ہی سے دیا۔ سخت انتظامات، راستوں کی بندش اور یہ پیغام کہ ریاست احتجاج کو کسی صورت بے قابو نہیں ہونے دے گی، اس حکمت عملی کا حصہ بن گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس سیاسی کش مہ کش میں ایک فریق مسلسل دباو ڈالنے کی کوشش کررہا تھا، دوسرے فریق نے بھی اسی زبان میں جواب دے دیا۔
یہ دراصل رسہ کشی ہے… اور رسہ کشی میں مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ کون کتنا زور لگا رہا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے قدم کس کا اکھڑتا ہے…!
پی ٹی آئی کے لیے ایک اور مشکل خیبر پختونخوا کی حکومت ہے۔ جس صوبائی حکومت کو احتجاجی سیاست میں ایک اہم سہارا سمجھا جاتا رہا، اُس کے لیے بھی اب سوال یہ ہے کہ وہ حکومت چلائے یا مسلسل سیاسی محاذ آرائی کا حصہ بنے؟ صوبائی حکومت کی رٹ، انتظامی کارکردگی اور سیاسی فیصلوں کو اب الگ الگ خانوں میں رکھنا آسان نہیں رہا۔
اسی تناظر میں علی امین گنڈاپور کا نام دوبارہ زیرِ بحث آنا خاصا معنی خیز ہے۔ کل تک جن کے بارے میں پارٹی کے اندر شدید اختلافات اور الزامات کی سیاست دکھائی دیتی تھی، آج انھی کی طرف دوبارہ دیکھنا اس بات کی علامت ہے کہ سیاست میں مستقل دوست یا دشمن کم ہی ہوتے ہیں، ضرورتیں مستقل بدلتی رہتی ہیں۔
اگر گنڈاپور دوبارہ وزیرِ اعلیا بنتے ہیں، تو وہ بھی پہلے والے گنڈاپور نہیں ہوں گے۔ سیاست انسان کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے، خصوصاً تب جب کسی کو عروج کے بعد اچانک یہ احساس ہو کہ اقتدار کا راستہ صرف ایک شخصیت کی قربت سے نہیں گزرتا۔ جو شخص ایک مرتبہ سیاسی نظام کے اتار چڑھاو دیکھ لے، وہ دوسری مرتبہ فیصلے پہلے جیسے انداز میں نہیں کرتا۔
اُدھر سہیل آفریدی کے لیے بھی حالات آسان نہیں۔ وزیرِ اعلا بننا ایک بات ہے اور وزیرِ اعلا کی طرح حکومت چلانا دوسری بات۔ احتجاجی سیاست میں جوش، نعرہ اور سیاسی وفاداری اپنی جگہ، لیکن حکومت چلانے کے لیے انتظامی تجربہ، منصوبہ بندی، سیاسی رابطہ اور بحران کے وقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
پنجاب کی طرف سیاسی پیش قدمی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے بھی بہت سے سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک وزیرِ اعلا اگر اپنے صوبے سے نکل کر دوسرے صوبے میں سیاسی محاذ کھولتا ہے، تو اُس کے ساتھ یہ سوال بھی چلتا ہے کہ اپنے صوبے کی حکومت، انتظامیہ اور عوامی مسائل کون سنبھال رہا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں طلبہ سیاست اور حکومتی سیاست میں فرق نمایاں ہوجاتا ہے۔ طلبہ سیاست میں ایک نعرہ اگلا قدم بن سکتا ہے، حکومت میں ہر قدم کے پیچھے ایک انتظامی منصوبہ درکار ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی کا گنڈاپور سے رابطہ بھی اسی کش مہ کش کی ایک تصویر بن کر سامنے آیا۔ سیاست میں کبھی جس شخص سے فاصلہ رکھا جائے، وقت بدلنے پر اُسی کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔ اب اسے کوئی ذلت کہے یا سیاسی ضرورت… تاریخ اسے صرف ایک چیز کے نام سے جانتی ہے، ’’مصلحت۔‘‘
اور مصلحت سیاست کا وہ اُصول ہے، جس سے کوئی جماعت مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی۔
اب 4 اکتوبر (تحریر شائع ہوتے وقت ڈھیر سارا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہوگا) سامنے ہے۔ وہ ثابت کرے کہ 27 ستمبر کا التوا شکست نہیں، بل کہ حکمت عملی تھی۔ اس کے لیے صرف نئی تاریخ کا اعلان کافی نہیں ہوگا۔ کارکنوں کی موجودگی، تنظیمی تیاری، قیادت کا باہمی اتفاق اور احتجاج کی واضح حکمت عملی ہی یہ طے کرے گی کہ پارٹی نے صرف تاریخ بدلی ہے یا واقعی حکمت عملی بھی بدلی ہے؟
کیوں کہ سیاست میں بار بار اعلان کرنے سے تاریخ نہیں بنتی، تاریخ بنانے کے لیے اعلان کے بعد میدان میں اُترنا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے اصل امتحان اب یہی ہے۔ 27 ستمبر گزر چکا۔ 4 اکتوبر آ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ صرف ایک اور تاریخ ثابت ہوتی ہے یا ایک سیاسی تحریک کی نئی ابتدا؟
کیوں کہ رسہ کشی میں ایک بار قدم اُکھڑ جائے، تو دوبارہ قدم جمانے کے لیے صرف نعرہ نہیں، زور بھی چاہیے اور سَمت بھی۔
وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ سیاست بے رحم کھیل ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










