پیالو استاد، اک بھولا بسرا کردار

Blogger Hilal Danish

کبھی ہمارے گاؤں، قصبوں اور محلوں کی گلیاں صرف آنے جانے کا راستہ نہیں ہوا کرتی تھیں، بل کہ ہر گلی اپنی ایک کہانی، اپنی آواز اور پہچان رکھتی تھی۔ انھی آوازوں میں ایک آواز ایسی بھی تھی، جو آج شاید ہماری نئی نسل کے لیے کسی داستان کا حصہ محسوس ہو۔
صبح یا دوپہر کے وقت گلی میں ایک کاریگر آتا، کاندھے پر اپنا سامان لٹکائے، کسی گھر کے دروازے کے سامنے رُک جاتا اور بلند آواز میں صدا لگاتا: ’’ٹوٹے ہوئے پیالے مرمت کے لیے لائیں… پیالو اُستاد آگیا ہے!‘‘
مقامی زبان میں اُس کاریگر کو ’’پیالو اُستاد‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ وہ ہنرمند کاریگر تھا، جس کا کام ٹوٹے ہوئے پیالوں، کپوں اور بعض دوسرے برتنوں کو اس طرح جوڑ دینا تھا کہ وہ دوبارہ قابلِ استعمال ہوجائیں۔
آج کے دور میں اگر کوئی کپ یا پیالہ ٹوٹ جائے، تو عموماً اُسے اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ چند لمحوں بعد نیا کپ بازار سے آجاتا ہے… لیکن وہ زمانہ کچھ اور تھا۔ وہاں چیزیں ٹوٹتی ضرور تھیں، مگر فوراً ردی نہیں بنتی تھیں۔ لوگ انھیں مرمت کرواتے تھے۔
اُس دور میں ایک ٹوٹا ہوا پیالہ بھی قیمتی تھا۔ اُن گھروں میں جہاں مٹی یا چینی کے برتن محدود تعداد میں ہوتے تھے، ایک پیالے کی بھی اپنی اہمیت ہوتی تھی۔ اس میں چائے بھی پیش ہوتی، دودھ بھی، لسی بھی اور مہمان کے سامنے رکھا جانے والا مشروب بھی۔ اگر پیالہ گر کر ٹوٹ جاتا، تو گھر کی عورتیں اُسے یوں ہی ضائع نہیں کرتیں، بل کہ اُسے سنبھال کر رکھ لیتیں۔ پھر جب ’’پیالو اُستاد‘‘ کی آواز گلی میں سنائی دیتی، تو گھر سے ٹوٹے ہوئے برتن نکالے جاتے۔ اُستاد برتن کو ہاتھ میں لیتا، اُس کے ٹکڑوں کو دیکھتا، ٹوٹنے کی جگہ کا جائزہ لیتا اور پھر اپنے مخصوص ہنر سے اُسے جوڑنے کا کام شروع کردیتا۔
آج ہمیں شاید وہ جوڑ بدنما محسوس ہو، مگر اُس وقت وہ جوڑ اس بات کی علامت تھا کہ یہ برتن ابھی زندہ ہے، ابھی کام آسکتا ہے۔
’’پیالو اُستاد‘‘ معاوضہ بھی عجیب، مگر خوب صورت تھا۔ اُس کی محنت کا معاوضہ ہمیشہ نقد رقم نہیں ہوتا تھا۔ اکثر گھر کا کاٹھ کباڑ ہی اُس کی اجرت بن جاتا۔ لوہے کا کوئی ٹکڑا، پرانا سامان، خراب برتن، بوتلیں یا گھر میں پڑی ایسی چیزیں جنھیں اہلِ خانہ اپنے استعمال کے قابل نہیں سمجھتے تھے، اُستاد انھیں اپنے معاوضے کے طور پر لے لیتا۔یہ ایک ایسا سادہ سا معاشی نظام تھا، جس میں پیسے کے بغیر بھی لین دین ممکن تھا۔
آج ہم معمولی سی خدمت کے بدلے بھی نقد رقم، آن لائن ادائی، رسید اور حساب کتاب چاہتے ہیں، مگر اُس زمانے میں اعتماد بھی ایک کرنسی تھا۔ کام کے بدلے سامان، سامان کے بدلے خدمت… اور دونوں طرف عزت۔
دراصل مرمت صرف برتن کی نہیں ہوتی تھی۔ شاید اس روایت کی سب سے خوب صورت بات یہ تھی کہ ’’پیالو اُستاد‘‘ صرف برتن نہیں جوڑتا تھا، وہ اپنے ساتھ ایک سوچ بھی لے کر چلتا تھا کہ ’’جو چیز ٹوٹ جائے، اُسے پہلے بچانے کی کوشش کرو۔‘‘
یہی سوچ اُس وقت گھروں، کپڑوں، جوتوں، فرنیچر اور دوسری چیزوں کے بارے میں بھی تھی۔ کپڑا پھٹتا، تو رفو ہوتا۔ جوتا خراب ہوتا، تو موچی کے پاس جاتا۔ چارپائی کی بان ٹوٹتی، تو دوبارہ بنائی جاتی… اور اگر کوئی برتن ٹوٹتا، تو ’’پیالو اُستاد‘‘ کو بلایا جاتا۔
یعنی زندگی کا اُصول تھا: ’’پھینکو نہیں، درست کرو!‘‘
آج کی دنیا نے اس کے بالکل برعکس ایک نیا اُصول ہمیں دے دیا ہے: ’’خراب ہوا… تو نیا لے آؤ!‘‘
ٹوٹے ہوئے برتنوں کے نشان بھی ایک تاریخ تھے۔ اُن پرانے پیالوں کو غور سے دیکھا جائے، تو اُن کے جسم پر پڑی ہوئی دراڑیں اور اُن کے جوڑ کسی کتاب کے حاشیے کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ یہ دراڑیں بتاتی تھیں کہ یہ پیالہ ایک حادثے سے گزرا ہے۔ اُسے کسی بچے کے ہاتھ سے گرنا پڑا ہوگا، کسی خاتون کے ہاتھ سے پھسل گیا ہوگا، یا شاید مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے ہوئے حادثاتی طور پر ٹوٹ گیا ہوگا… مگر پھر کسی نے اسے پھینکنے کے بہ جائے اٹھایا اور کسی ہنرمند نے اُسے دوبارہ زندگی دے دی۔
یہی وجہ ہے کہ اُن پرانے برتنوں کو دیکھ کر محض ایک پرانی چیز نظر نہیں آتی، بل کہ ایک پورا معاشرتی منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ گاؤں کی گلی، کچے یا نیم پکے گھر، لکڑی کے دروازے، صحن میں بیٹھے بزرگ، چولھے سے اُٹھتا دھواں، بچوں کا شور اور دور سے آتی ایک مخصوص آواز: ’’پیالو استاد… ٹوٹے ہوئے پیالے مرمت کرالو!‘‘
وہ کاریگر کہاں گئے؟ وقت نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا۔ پلاسٹک نے مٹی کے برتنوں کی جگہ لے لی۔ اسٹیل اور شیشے نے پرانے پیالوں کی جگہ سنبھال لی۔ پھر جدید چینی کے برتن، ڈسپوزایبل کپ اور نت نئے ڈیزائن بازار میں آگئے… اور یوں پیالو اُستاد کی صدا آہستہ آہستہ خاموش ہوگئی۔ اب وہ آواز گلی میں سنائی دیتی ہے، نہ بچے اُس آواز کو پہچانتے ہیں اور نہ گھروں میں ٹوٹے ہوئے برتن سنبھال کر ہی رکھے جاتے ہیں۔
اب ٹوٹا ہوا کپ اکثر مرمت کے قابل نہیں، بل کہ ردی کے قابل سمجھا جاتا ہے… اور شاید یہی جدید زندگی کا ایک بڑا المیہ ہے کہ ہم نے چیزوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ رشتوں اور رویوں کی مرمت کا کام بھی چھوڑ دیا ہے۔
کاش! ہم چیزوں سے کچھ سیکھ سکتے۔ اُن پرانے پیالوں کو دیکھ کر ایک خیال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ اگر ایک کاریگر ٹوٹے ہوئے پیالے کو جوڑ کر اُسے دوبارہ قابلِ استعمال بناسکتا تھا، تو کیا ہم اپنے ٹوٹے ہوئے رشتے نہیں جوڑ سکتے، کیا ناراض بھائی کو منایا نہیں جاسکتا، کیا روٹھے ہوئے دوست کو دوبارہ گلے نہیں لگایا جاسکتا، کیا خاندان میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کو ختم نہیں کیا جاسکتا؟
ہم نے آج معمولی خراش والی چیز بھی بدلنے کی عادت ڈال لی ہے اور شاید یہی عادت آہستہ آہستہ ہمارے تعلقات تک پہنچ گئی ہے۔ چیز ٹوٹی، بدل دی۔ رشتہ ٹوٹا، چھوڑ دیا۔ دوستی میں دراڑ آئی، راستہ بدل لیا… جب کہ ہمارے بزرگوں کا زمانہ ہمیں یہ سکھاتا تھا کہ ٹوٹنے کا مطلب ختم ہونا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ٹوٹنے کے بعد جوڑنا ہی اصل ہنر ہوتا ہے۔
’’پیالو اُستاد‘‘ صرف ایک کاریگر نہیں تھا۔ وہ اپنے عہد کا ایک ایسا کردار تھا، جس نے شاید کبھی کتاب نہیں لکھی، مگر اُس کے ہاتھوں کا ہنر ایک پوری تہذیب کی کہانی لکھ گیا۔ اُس کے پاس جدید مشینیں نہیں تھیں، کوئی بڑی دکان نہیں تھی، اشتہار نہیں تھا، سوشل میڈیا نہیں تھا۔ بس ایک ہنر تھا، ایک آواز تھی اور لوگوں کا اعتماد تھا۔ وہ دروازے کھٹکھٹاتا تھا اور لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے برتن اُس کے حوالے کردیتے تھے۔ آج ہمارے پاس ہر سہولت موجود ہے، مگر اعتماد کے وہ دروازے کم ہوتے جارہے ہیں۔
آج یہ پیالے ہمارے سامنے پڑے ہیں، تو یوں لگتا ہے جیسے یہ ہمیں دیکھ کر پوچھ رہے ہوں: ’’ہم ٹوٹ کر بھی بچ گئے، تم لوگ معمولی اختلافات پر کیوں بکھر جاتے ہو؟‘‘ شاید یہی ان پرانے پیالوں کا سب سے بڑا سبق ہے۔
ہر پرانی چیز بے کار نہیں ہوتی، کچھ پرانی چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کیا تھے… اور یہ بھی کہ ہم نے کیا کھو دیا!
’’پیالو اُستاد‘‘ چلا گیا، اُس کی آواز بھی خاموش ہوگئی، مگر اُس کے ہاتھوں سے جڑے ہوئے یہ پیالے آج بھی گواہی دے رہے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا، جب لوگ ٹوٹی ہوئی چیزوں کو پھینکتے نہیں تھے، بل کہ اُنھیں دوبارہ زندگی دیتے تھے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے