کسی بھی تحریک کا حقیقی مطالعہ صرف اُس کی عسکری قوت یا سیاسی کام یابیوں سے نہیں کیا جاسکتا، بل کہ اُس کے فکری ڈھانچے، مذہبی نظریات، ریاستی تصور اور مستقبل کے اہداف کو بھی سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی اُصول حوثی تحریک پر بھی صادق آتا ہے۔ اگرچہ آج دنیا اُنھیں ایک مسلح گروہ، ایک سیاسی قوت یا ایران کے قریبی اتحادی کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن اُن کی فکری شناخت کی بنیاد اب بھی ’’زیدی مذہبی روایت‘‘ میں پیوست ہے، جس میں وقت کے ساتھ نئے سیاسی اور انقلابی عناصر بھی شامل ہوتے گئے ہیں۔
حوثی تحریک خود کو رسمی طور پر "انصار اللہ” کہتی ہے… اس کا مطلب "اللہ کے مددگار” ہے۔ تحریک کے رَہ نما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اُن کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بل کہ یمن کی خودمختاری، غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ، بدعنوانی کے خلاف جد و جہد اور اسلامی اقدار پر مبنی ایک آزاد ریاست کا قیام ہے۔
دوسری طرف اس تحریک کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ عملی سیاست میں تحریک نے طاقت کے ارتکاز، اختلافِ رائے پر پابندی اور عسکری غلبے کو بھی فروغ دیا ہے۔ یمن اور بیرونِ یمن کے مبصرین کے درمیان اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
مذہبی اعتبار سے حوثی تحریک کی بنیاد زیدی فقہ پر ہے، لیکن گذشتہ تین دہائیوں میں اس کے نظریاتی ڈھانچے میں تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ بہت سے محققین کا خیال ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب، حزب اللہ لبنان کے تجربے اور خطے کی سیاسی کش مہ کش نے اس کی فکری تشکیل پر اثر ڈالا۔ اس کے باوجود حوثیوں کو مکمل طور پر اثنا عشری شیعہ قرار دینا درست نہیں۔ کیوں کہ اُن کی بنیادی فقہی روایت آج بھی ’’زیدی‘‘ ہے۔
اہلِ سنت اور زیدیوں کے درمیان تعلق کو اکثر غیر ضروری سادگی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ حال آں کہ حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔ زیدی مسلمان قرآن، سنت، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور اسلام کے بنیادی عقائد میں اہلِ سنت سے بڑی حد تک مشترک ہیں۔ وہ بارہویں امام کی غیبت، آئمہ کی مطلق عصمت اور بعض دیگر عقائد کو اس طرح قبول نہیں کرتے، جیسے اثنا عشری شیعہ کرتے ہیں۔ اسی بنا پر بہت سے قدیم مسلم علما نے زیدی فقہ کو شیعہ مکاتب میں اہلِ سنت کے نسبتاً قریب قرار دیا ہے۔
دوسری طرف امامت کے مسئلے پر اختلاف بنیادی نوعیت کا ہے۔ زیدیوں کے نزدیک اہلِ بیت کی قیادت کو خاص مذہبی اور سیاسی اہمیت حاصل ہے، جب کہ اہلِ سنت خلافت و امامت کو امت کے اجتماعی انتخاب اور اجتہاد کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ یہی فرق صدیوں سے دونوں مکاتب کے درمیان موجود ہے، اگرچہ عملی زندگی میں یمن کے بہت سے علاقوں میں زیدی اور شافعی سنی آبادی ایک ساتھ رہتی رہی ہے اور سماجی تعلقات بھی قائم رہے ہیں۔
حوثیوں کی سیاسی فکر میں ایک اہم عنصر ’’مزاحمت‘‘ کا تصور ہے۔ اُن کے بیانیے میں امریکہ، اسرائیل اور بیرونی مداخلت کے خلاف جد و جہد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اُن کا مؤقف ہے کہ یمن کو بیرونی طاقتوں نے مسلسل اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، جب کہ مخالفین کہتے ہیں کہ یہی تحریک خود بھی ایک علاقائی طاقت کی حمایت سے اپنے اثرات بڑھاتی رہی ہے۔ یہی تضاد حوثی تحریک کے بارے میں عالمی مباحث کا ایک مستقل حصہ ہے۔
ایران اور حوثیوں کے تعلقات پر آج بھی مختلف تجزیے موجود ہیں۔ عمومی اتفاق یہ ہے کہ وقت کے ساتھ دونوں کے سیاسی اور سفارتی روابط مضبوط ہوئے، خصوصاً 2014ء کے بعد۔ متعدد بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں نے مختلف اوقات میں حوثیوں کو ایرانی ساختہ یا ایرانی طرز کی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی ملنے کے شواہد پیش کیے، جب کہ ایران نے بہ راہِ راست عسکری کنٹرول یا مداخلت کے الزامات کو مسترد کیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ دونوں کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں، لیکن حوثیوں کو صرف ایران کی ایک شاخ قرار دینا، یمن کی داخلی تاریخ، قبائلی سیاست اور زیدی روایت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
2023ء کے اواخر میں غزہ کی جنگ کے بعد حوثی تحریک ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔ تحریک نے اعلان کیا کہ جب تک غزہ میں جنگ جاری رہے گی، وہ اسرائیل سے متعلق سمجھے جانے والے بحری جہازوں کو بحیرۂ احمر اور باب المندب کے راستے محفوظ گزرنے نہیں دیں گے۔ اس کے بعد متعدد بحری جہازوں پر حملے، ڈرون کارروائیاں اور میزائل حملے ہوئے۔ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے ان حملوں کے جواب میں یمن میں حوثی تنصیبات پر فضائی کارروائیاں کیں۔
اس صورتِ حال نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو یہ احساس دلایا کہ یمن کی جنگ صرف ایک مقامی تنازع نہیں رہی، بل کہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری راستوں سے بہ راہِ راست جُڑ چکی ہے۔ باب المندب دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات ایشیا، یورپ اور افریقہ تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
سیاسی طور پر آج یمن ایک منقسم ملک ہے۔ دارالحکومت صنعاء اور شمال کے بڑے حصے پر حوثیوں کا کنٹرول ہے، جب کہ جنوبی اور مشرقی علاقوں میں مختلف حکومت نواز، قبائلی اور مقامی قوتیں موجود ہیں۔ بعض علاقوں میں جنوبی عبوری کونسل کا اثر ہے، جب کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت بھی اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس تقسیم نے یمن کے مستقبل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا حوثی تحریک ایک مستقل ریاستی نظام قائم کرسکے گی؟ اس کا جواب ابھی واضح نہیں۔ ایک طرف اس نے مضبوط عسکری تنظیم، موثر انتظامی ڈھانچا اور مقامی حمایت کا ایک حلقہ قائم کیا ہے، لیکن دوسری طرف معاشی مشکلات، بین الاقوامی پابندیاں، مسلسل جنگ، داخلی اختلافات اور انسانی بحران ایسے مسائل ہیں، جن کا حل صرف فوجی طاقت سے ممکن نہیں۔
تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ حوثی تحریک کو صرف ایک مذہبی جماعت، ایک شیعہ گروہ، ایک قبائلی بغاوت یا صرف ایرانی اتحادی کے طور پر بیان کرنا اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یہ تحریک زیدی مذہبی روایت، یمنی قبائلی سماج، سیاسی محرومی، علاقائی طاقتوں کی رقابت، عرب بہار، ریاستی کم زوری اور بین الاقوامی کش مہ کش کے امتزاج سے وجود میں آنے والا ایک پیچیدہ سیاسی و عسکری مظہر ہے۔
شاید اسی لیے حوثیوں کی کہانی صرف یمن کی تاریخ نہیں، بل کہ اس پورے مشرقِ وسطیٰ کی کہانی ہے… جہاں مذہب، سیاست، جغرافیہ، قبائلی وفاداریاں، عالمی طاقتوں کے مفادات اور عوامی محرومیاں ایک دوسرے میں اس طرح گتھم گتھا ہوچکی ہیں کہ کسی ایک عنصر کو الگ کرکے پوری حقیقت کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ یہی پیچیدگی حوثی تحریک کو عصرِ حاضر کی سب سے اہم اور سب سے زیادہ زیرِ بحث سیاسی و عسکری تحریکوں میں شامل کرتی ہے… اور یہی وجہ ہے کہ اس کے مستقبل کا اثر صرف یمن تک محدود نہیں رہے گا، بل کہ آنے والے برسوں میں پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر بھی گہرے نقوش چھوڑ سکتا ہے۔ (تمت بالخیر)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










