پاکستان میں ان دنوں نئی چھوٹی انتظامی اکائیوں، نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر لے دے ہو رہی ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ریاست کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے؟
کسی کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ہونے چاہییں، کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حق میں ہیں اور بعض کا خیال ہے کہ بلدیاتی نظام کو مضبوط اور بااختیار بنایا جائے۔
اس طرح کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈویژنوں، اضلاع یا کسی بھی مناسب سطح پر انتظامی اکائیاں تشکیل دی جائیں، جو محض نام کی انتظامی اکائیاں نہ ہوں، بل کہ انھیں حقیقی اختیارات حاصل ہوں اور ساتھ ایک مضبوط بلدیاتی نظام بھی قائم کیا جائے، جو عوام کو جواب دہ ہو۔
کہیں سے آواز اٹھتی ہے کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے، کوئی کہتا ہے کہ بہاولپور کو تاریخی شناخت دی جائے، کوئی ہزارہ کی الگ انتظامی یونٹ کی بات کرتا نظر آ رہا ہے اور ساتھ ساتھ مزید صوبوں کی تجویز بھی پیش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کی وجہ صوبوں کی کم تعداد ہے، یا اختیارات کے غیر متوازن ارتکاز کی وجہ سے ہے؟ پاکستان کے مسائل کی وجہ صوبوں کی تعداد نہیں، بل کہ فیصلہ سازی کا فقدان، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور جواب دہی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے اگر مالی وسائل، فیصلہ سازی، جواب دہی اور انتظامی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل نہ کیا گیا، تو انتظامی تقسیم صرف نقشے کی تبدیلی بن جائے گی۔
ملک میں نئے صوبے، نئی چھوٹی انتظامی اکائیاں بنیں، یا کسی بھی قسم کا بلدیاتی نظام وجود میں آئے… ان اقدامات سے عوام کو زندگی کی کوئی بھی سہولت میسر آنے کی اُمید نظر نہیں آتی۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ہمارے ہاں کوئی بھی دوسرے کو اُس کا اختیار دینے اور استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مشرف دور میں نئے بلدیاتی نظام پر آج کی طرح بحث ہو رہی تھی اور اُس وقت کے وفاقی وزیرِ بلدیات، جناب جاوید جبار مرحوم، صوبوں میں جاکر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور نئے بلدیاتی نظام کے بارے میں آگاہ کر رہے تھے۔ پرل کانٹی نینٹل پشاور، خیبر پختونخوا میں ایک سیمینار کے دوران میں سیکرٹری بلدیات نے جاوید جبار (مرحوم) کی موجودگی میں نئے بلدیاتی نظام کی مخالفت کی۔ وفاقی وزیر جاوید جبار (مرحوم) کا جواب تھا کہ وفاق اسی نظام کو آئینی تحفظ دے گی اور ہر کوئی اس پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہوگا۔
نئے بلدیاتی نظام کو وفاق نے آئینی تحفظ دیا اور مشرف دور میں کسی حد تک اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔ مشرف کے اقتدار سے جانے کے بعد سیاسی حکومتوں نے نئے بلدیاتی نظام کے آئینی تحفظ کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا کہ شاید دنیا کے کسی ملک یا ریاست میں ایسا ہوا ہو۔ بلدیاتی انتخابات میں رخنے ڈالے گئے، بلدیاتی نظام میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں، جس سے یہ نظام جمود کا شکار ہوا، جب کہ بلدیاتی نمایندے کٹھ پتلی بن کر رہ گئے۔
بلدیاتی اختیار صوبائی حکومت کے ہاتھوں میں منتقل ہوا، مقامی حکومتوں اور نمایندوں کو ترقیاتی فنڈز کی منتقلی ایک خواب بن کر رہ گئی، جب کہ آرٹیکل 140-A کے تحت ہر صوبے کے لیے لازم ہے کہ وہ منتخب بلدیاتی نمایندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات تفویض کرے، لیکن کوئی بھی سیاسی حکومت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کوئی بھی ضلعی محکمہ بلدیاتی نمایندوں یا مقامی حکومت کو جواب دہ نہیں رہا ہے اور مقامی حکومت کے احکامات پر عمل درآمد ایک تماشا بن گیا۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کہا کرتے تھے کہ ایم این اے اور ایم پی اے کا کام قانون سازی ہے، جب کہ ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں کا ہے۔ اگر تحریکِ انصاف حکومت میں آئی، تو سارے ترقیاتی فنڈز مقامی حکومتوں کو دیے جائیں گے۔
تحریکِ انصاف کو مرکز اور پنجاب میں ایک بار حکومت ملی، جب کہ خیبر پختونخوا میں تین بار اقتدار ملا، لیکن اُن کے دورِ اقتدار میں بھی بلدیاتی اداروں کے ساتھ کھلواڑ ہی کیا گیا۔ تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا حکومت نے بلدیاتی قوانین میں بار بار تبدیلیاں کیں اور مقامی حکومتوں کو عضوئے معطل بنا دیا۔ نچلی سطح پر اختیارات دینے کے لیے کوئی بھی سیاسی پارٹی تیار نہیں، لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر انھیں بادلِ نہ خواستہ بلدیاتی انتخابات کرنا پڑے۔
آج بھی سیاسی پارٹیاں بلدیاتی انتخابات کرنے سے پہلو تہی کر رہی ہیں اور اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے صوبائی حکومت کے اختیارات پر بہت بحث کی، مگر مقامی حکومتوں یا بلدیاتی اداروں کو حقیقی طاقت، اختیارات اور مالی وسائل سے محروم رکھا۔
عام شہری کے لیے حکومت وہی ہوتی ہے، جو اُس کے نزدیک ہو اور اُسے معلوم ہو کہ محلے کی گلی کون بنائے گا، محلے کی سڑک بنانا کس کی ذمے داری ہے، پانی کی فراہمی کس کی ذمے داری ہے، کچرا کون اٹھائے گا اور آمد و رفت کا مسئلہ کون حل کرے گا؟ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو مقامی حکومتوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ اگر نئے صوبے بن بھی جائیں اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہوں، تو عام آدمی کے لیے تبدیلی محدود رہے گی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اختیارات ایک بڑے صوبائی دارالحکومت سے نئے بننے والے صوبے کے دارالحکومت کو منتقل ہوتے ہیں، تو عام شہری کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پاکستان کو شاید نئے صوبوں کی ضرورت ہو، لیکن سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے گڈ گورننس کے اُصول طے ہوں، صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو بھی حقیقی اختیارات دیے جائیں، منتخب بلدیاتی نمایندوں کے پاس مالی وسائل ہوں اور وہ عوام کو جواب دِہ ہوں، جب کہ ساتھ اچھی حکم رانی بھی ضروری ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










