حوثی تحریک کی تاریخ (2)

Blogger Comrade Sajid Aman

بیسویں صدی کے وسط تک دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوچکی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم ختم ہوچکی تھی، نوآبادیاتی سلطنتیں بکھر رہی تھیں، عرب قوم پرستی زور پکڑ رہی تھی اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر پورے عرب خطے میں انقلاب، جمہوریت اور بادشاہتوں کے خاتمے کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ ان تبدیلیوں کی گونج یمن کے پہاڑوں تک بھی پہنچی، جہاں تقریباً ایک ہزار برس سے قائم زیدی امامت اپنے آخری دور سے گزر رہی تھی۔
1962ء میں شمالی یمن کے امام محمد البدر اپنے والد امام احمد بن یحییٰ کی وفات کے بعد تخت نشین ہوئے، لیکن اُن کی حکومت چند ہی دن قائم رہ سکی۔ فوج کے ایک گروہ نے کرنل عبداللہ السلال کی قیادت میں بغاوت کر دی، شاہی محل پر قبضہ کرلیا اور ’’یمن عرب جمہوریہ‘‘ (Yemen Arab Republic) کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یہ صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں تھی، بل کہ ایک ہزار سالہ زیدی امامت کے خاتمے کا اعلان تھا۔
اس انقلاب نے یمن کو فوری طور پر ایک خوں ریز خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔ ایک طرف جمہوریہ کے حامی فوجی افسران تھے اور دوسری طرف زیدی قبائل اور شاہی خاندان کے وفادار، جو امام البدر کی بہ حالی چاہتے تھے۔ یہ تنازع جلد ہی علاقائی طاقتوں کی جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
صدر جمال عبدالناصر نے عرب قوم پرستی کے فروغ کے لیے انقلابی حکومت کی بھرپور حمایت کی۔ مصر نے ہزاروں فوجی یمن بھیجے، جدید اسلحہ فراہم کیا اور فضائیہ بھی استعمال کی۔ بعض اندازوں کے مطابق ایک وقت میں 70 ہزار کے قریب مصری فوجی یمن میں موجود تھے۔ دوسری جانب سعودی عرب، اُردن اور بعض دیگر بادشاہتوں نے شاہی وفادار قبائل کی مالی اور عسکری مدد کی۔ کیوں کہ اُنھیں خدشہ تھا کہ اگر ناصریت کام یاب ہوگئی، تو اُن کی اپنی بادشاہتیں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی۔
یوں یمن پہلی مرتبہ جدید دور کی ایک بڑی ’’پراکسی جنگ‘‘ کا میدان بن گیا۔ مصری فوج اور سعودی حمایت یافتہ قبائل کے درمیان 8 برس تک شدید لڑائیاں جاری رہیں۔ ہزاروں افراد مارے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور یمن کی کم زور معیشت مزید کم زور ہونے کے بعد برباد ہوگئی۔ بالآخر 1970ء میں سعودی عرب نے بھی نئی جمہوری حکومت کو تسلیم کرلیا اور خانہ جنگی اختتام کو پہنچی، لیکن زیدی آبادی کے ایک بڑے حصے کے دل میں یہ احساس باقی رہا کہ اُن کی صدیوں پرانی سیاسی اور مذہبی قیادت اُن سے چھین لی گئی ہے۔
اسی دوران جنوبی یمن کی تاریخ الگ رُخ اختیار کر رہی تھی۔ عدن اور اس کے گرد و نواح پر 19ویں صدی سے برطانیہ قابض تھا۔ عدن نہ صرف ایک اہم بندرگاہ تھی، بل کہ برطانوی سلطنت کے لیے بحرِ ہند اور نہرِ سویز کے درمیان ایک کلیدی فوجی اڈّا بھی تھی… لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد آزادی کی تحریکیں یہاں بھی زور پکڑنے لگیں۔
1967ء میں برطانیہ نے عدن چھوڑ دیا اور ’’عوامی جمہوریۂ جنوبی یمن‘‘ وجود میں آئی، جسے بعد میں ’’عوامی جمہوریۂ یمن‘‘ (People’s Democratic Republic of Yemen) کا نام دیا گیا۔ یہ عرب دنیا کی واحد ریاست تھی، جس نے کھل کر مارکسی اور سوشلسٹ نظریات اختیار کیے۔ سوویت یونین اس کا سب سے بڑا اتحادی بن گیا، جب کہ شمالی یمن، سعودی عرب اور مغربی ممالک کے قریب ہوتا گیا۔
یوں ایک ہی قوم دو مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔ شمال، قبائلی، مذہبی اور نسبتاً سرمایہ دارانہ نظام کی طرف مائل تھا، جب کہ جنوب، سوشلسٹ منصوبہ بندی، قومیانے اور کمیونسٹ سیاسی ڈھانچے کے تحت چل رہا تھا۔ دونوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہوتی رہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بغاوتوں کی سرپرستی بھی کی جاتی رہی۔
1978ء میں شمالی یمن کی سیاست میں ایک ایسے فوجی افسر کا ظہور ہوا، جس نے اگلے تین دہائیوں تک یمن کی سیاست پر غلبہ قائم رکھا۔ یہ تھے علی عبداللہ صالح۔ وہ ’’قبیلۂ سنحان‘‘ سے تعلق رکھتے تھے اور فوج میں بہ تدریج ترقی کرتے ہوئے صدر کے منصب تک پہنچے۔ صالح بڑے نظریہ ساز تھے اور نہ غیر معمولی مقرر… لیکن وہ قبائلی سیاست، مفاہمت، طاقت کے توازن اور مخالفین کو ساتھ لے کر چلنے کے غیر معمولی ہنر کے مالک تھے۔
بعد میں خود علی عبداللہ صالح نے ایک مشہور جملہ کہا کہ ’’یمن پر حکومت کرنا سانپوں کے سروں پر رقص کرنے کے مترادف ہے۔‘‘ یہ جملہ یمن کی پیچیدہ قبائلی، مذہبی اور سیاسی حقیقت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
صالح نے مختلف قبائل، فوجی جرنیلوں، مذہبی راہ نماؤں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان طاقت کا ایسا توازن قائم کیا کہ برسوں تک اقتدار اُن کے ہاتھ میں رہا۔ اُنھوں نے کبھی کسی ایک قوت کو اتنا طاقت ور نہیں ہونے دیا کہ وہ اُن کے لیے خطرہ بن جائے۔
دوسری جانب جنوبی یمن میں بھی اندرونی اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے تھے۔ 1986ء میں سوشلسٹ قیادت کے مختلف دھڑوں کے درمیان خوں ریز خانہ جنگی ہوئی، جس میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ اس لڑائی نے جنوبی یمن کو شدید کم زور کر دیا۔ اسی دوران میں بین الاقوامی منظرنامہ بھی بدل رہا تھا۔ سوویت یونین زوال پذیر تھا، سرد جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی اور جنوبی یمن اپنی سب سے بڑی بیرونی حمایت کھوتا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں شمال اور جنوب دونوں کے لیے اتحاد ایک عملی ضرورت بنتا جا رہا تھا۔
22 مئی 1990ء کو شمالی اور جنوبی یمن باضابطہ طور پر متحد ہوگئے۔ ’’جمہوریۂ یمن‘‘ (Republic of Yemen) وجود میں آئی، علی عبداللہ صالح متحدہ یمن کے پہلے صدر بنے، جب کہ جنوبی راہ نما علی سالم البیض نائب صدر مقرر ہوئے۔ عرب دنیا میں اس اتحاد کو ایک تاریخی کام یابی قرار دیا گیا… لیکن جلد ہی واضح ہوگیا کہ اتحاد سیاسی معاہدہ تو بن گیا ہے، قومی یک جہتی ابھی بہت دور کی بات ہے۔
شمالی قیادت کے پاس ریاستی اداروں، فوج اور قبائلی حمایت پر مضبوط گرفت تھی، جب کہ جنوبی راہ نما خود کو بہ تدریج اقتدار سے محروم محسوس کرنے لگے۔ معاشی مسائل، اختیارات کی تقسیم اور فوجی تقررات پر اختلافات بڑھتے گئے۔ صرف چار برس بعد 1994ء میں جنوبی قیادت نے دوبارہ علاحدگی کا اعلان کر دیا۔
اس مرتبہ علی عبداللہ صالح نے پوری قوت سے کارروائی کی۔ شمالی فوج نے چند ہی ہفتوں میں جنوبی مزاحمت کو شکست دے دی اور علاحدگی پسند حکومت ختم ہوگئی۔ اس فتح نے صالح کی سیاسی طاقت میں بے پناہ اضافہ کردیا، مگر اس کے ساتھ ہی جنوبی یمن میں محرومی اور ناراضی کی جڑیں بھی مزید گہری ہوگئیں۔
اُدھر شمال کے زیدی علاقوں میں بھی ایک مختلف قسم کی بے چینی جنم لے رہی تھی۔ زیدی علما محسوس کر رہے تھے کہ جمہوری نظام میں اُن کی مذہبی شناخت مسلسل کم زور ہو رہی ہے، جب کہ سعودی عرب کی سرپرستی میں ’’سلفی فکر‘‘ کے مدارس اور مراکز تیزی سے پھیل رہے ہیں، خصوصاً صوبۂ صعدہ میں۔ بہت سے زیدی علما کے نزدیک یہ صرف مذہبی اختلاف نہیں، بل کہ اُن کی صدیوں پرانی تہذیبی شناخت کے لیے ایک چیلنج تھا۔
ان حالات میں چند نوجوان علما اور دینی کارکنوں نے زیدی علمی روایت کو زندہ رکھنے، نوجوان نسل کو اپنی مذہبی شناخت سے جوڑنے اور فکری تربیت دینے کے لیے ایک تعلیمی و ثقافتی تنظیم قائم کی، جسے "الشباب المؤمن” (ایمان والے نوجوان) کا نام دیا گیا۔ ابتدا میں یہ کوئی مسلح تنظیم نہیں تھی۔ اس کا بنیادی مقصد دینی تعلیم، زیدی فقہ کی تدریس، نوجوانوں کے لیے علمی نشستیں، مذہبی شعور کی بیداری اور ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ تھا… لیکن آنے والے برسوں میں یہی تنظیم یمن کی جدید تاریخ کی سب سے طاقت ور مزاحمتی تحریک کی بنیاد ثابت ہوئی۔
"الشباب المؤمن” کے نوجوان راہ نماؤں میں ایک نام تیزی سے نمایاں ہونے لگا، جو غیر معمولی خطابت، گہری مذہبی تعلیم اور سیاسی شعور کی وجہ سے جلد ہی ہزاروں نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اُس نوجوان عالم کا نام تھا حسین بدر الدین الحوثی، جس کی فکر اور قیادت نے ’’الشباب المؤمن‘‘ کو ایک تعلیمی تحریک سے ایک انقلابی سیاسی و عسکری تحریک میں تبدیل کر دیا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے