کیا ہمارے صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ صرف دہشت گردی ہے؟
کیا کبھی ہم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ دہشت گردی میں مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور ہمارے اپنے لوگ ذاتی دشمنیوں، معمولی تنازعات، زمین کے جھگڑوں، چوری، غیرت، انا اور بندوق کے بے دریغ استعمال سے ایک دوسرے کو کتنی بڑی تعداد میں قتل کر رہے ہیں؟
یہ سوال شاید دہشت گردی کے خلاف جنگ سے بھی زیادہ اہم ہے، کیوں کہ دہشت گرد سامنے سے حملہ کرتا ہے، مگر معاشرتی تشدد ہمارے گھروں، محلوں اور خاندانوں کے اندر پل رہا ہے۔
دست یاب اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو تصویر انتہائی خوف ناک دکھائی دیتی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق 2024 میں دہشت گردی کے واقعات میں کم از کم 378 افراد جاں بہ حق ہوئے، جب کہ اُسی سال قتل کے دیگر واقعات میں 3,109 افراد جان سے گئے۔
اس طرح 2025 میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات کی تعداد 502 بتائی جاتی ہے، جب کہ دست یاب دس ماہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3,200 افراد مختلف باہمی تنازعات، دشمنیوں اور معمولی جھگڑوں میں قتل ہوئے۔
آخری دو ماہ کا مکمل ڈیٹا دست یاب نہ ہونے کے باعث یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
مختلف غیر سرکاری ریکارڈز میں مجموعی قتل کے اعداد اس سے بھی زیادہ بیان کیے گئے ہیں۔ بعض جگہ 2024 میں تقریباً 3,500 اور 2025 میں 4,100 سے زائد قتل کے کیسز کا ذکر ملتا ہے۔ ان اعداد و شمار کی مکمل سرکاری تصدیق ضروری ہے، مگر اصل مسئلہ صرف عدد نہیں، وہ خوف ناک رجحان ہے، جو ان اعداد کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم آخر کس طرف جا رہے ہیں؟
ایک ایسا معاشرہ جہاں معمولی سی بات پر بندوق نکل آئے، ذرا سی تلخی قتل تک پہنچ جائے، ذاتی دشمنی نسلوں تک چلتی رہے اور انا کی تسکین کے لیے انسان کی جان لے لی جائے، اسے صرف دہشت گردی کا شکار معاشرہ کہنا کافی نہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے اندر عدم برداشت، انتقام، بندوق کلچر اور قانون سے بے خوفی نے خطرناک حد تک جگہ بنا لی ہے۔
اور یہی وہ ماحول ہے جس میں جرائم پنپتے ہیں، چوری اور ڈکیتی بڑھتی ہے، مسلح گروہوں کے لیے نوجوان دست یاب ہوتے ہیں اور انتہا پسند تنظیموں کو اپنی صفوں کے لیے افرادی قوت ملتی ہے۔
جب معاشرے میں تشدد معمول بن جائے، تو دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف پولیس، فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے نہیں جیتی جاسکتی۔
یہاں حکم رانوں کا کردار سب سے اہم ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں حکم رانوں کو قوم کے زخموں پر مرہم رکھنا چاہیے، لوگوں کو قانون کی طرف لانا چاہیے، نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مُثبت سرگرمیوں کی طرف متوجہ کرنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر اپنی زبان سے نفرت کے بہ جائے امن پیدا کرنا چاہیے۔
مگر بدقسمتی سے ہمارا سیاسی ماحول اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ مائیک ہاتھ میں آتے ہی بعض حکم ران اور سیاسی راہ نما ایسے لب و لہجے کا مظاہرہ کرتے ہیں، جیسے ان کا کام قوم کو سنبھالنا نہیں، بل کہ مزید مشتعل کرنا ہو۔ دھمکیاں، اشتعال، غصہ، الزام تراشی اور سیاسی مخالفین کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ۔۔۔ گویا عوام پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں اور حکم رانوں کی زبان مزید چنگاریاں پھینک رہی ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اس مسئلے کو پیچیدہ کردیا ہے۔ ہر واقعے کو تحقیق، تحمل اور ذمے داری سے بیان کرنے کے بہ جائے فوری سنسنی، الزام اور پروپیگنڈے میں بدل دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بہ جائے مزید تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ مذہبی راہ نماؤں سے بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں خوفِ خدا، برداشت، صبر اور انسانی جان کی حرمت پیدا کریں، مگر جب منبر کی زبان بھی چیخ، الزام اور اشتعال کی زبان بن جائے، تو پھر عام آدمی کس طرف دیکھے؟
اصل المیہ دہشت گردی سے بھی بڑا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی مشینری موجود ہے، فوج ہے، پولیس ہے، قانون ہے اور ادارے ہیں۔۔۔ مگر معاشرے کے اندر پھیلتی ہوئی نفرت، انتقام، عدم برداشت اور بندوق کلچر کے خلاف ہماری اجتماعی حکمت عملی کہاں ہے؟
ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ دہشت گرد کہاں سے آتا ہے؟ ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ ایسا ماحول کون پیدا کرتا ہے، جس میں ایک نوجوان کے ہاتھ میں بندوق آنا آسان اور کتاب آنا مشکل ہوجاتا ہے؟
اگر ایک شخص معمولی تنازع پر دوسرے انسان کی جان لینے کو اپنا حق سمجھتا ہے، تو مسئلہ صرف اُس شخص کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس بھٹکے ہوئے معاشرے کو راہ دکھانے والے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاست اپنی جنگ لڑ رہی ہے، مذہب اپنی گروہی تقسیم میں الجھا ہے، ریاست دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار ہے اور معاشرہ اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بندوق دیں گے یا کتاب، انتقام دیں گے یا برداشت، نفرت دیں گے یا امن…؟
دہشت گردی ضرور ہمارا بڑا مسئلہ ہے، مگر اگر ہم نے اپنے اندر کے قاتل کو شکست نہ دی، تو دہشت گردی کے خلاف جیتی جانے والی ہر جنگ بھی ادھوری رہے گی۔
قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں، جب ان کے اپنے لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں اور حکم ران انھیں روکنے کے بجائے ان کے غصے کو اپنی سیاست کا ایندھن بناتے رہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










