ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے باسیوں کو ریاست کی طرف سے زندگی کی بنیادی سہولیات بغیر کسی طویل جد و جہد، مطالبے یا احتجاج کے میسر آتی ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں روٹی، کپڑا اور مکان کے علاوہ صحت، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع اور جدید انفراسٹرکچر کا حصول شہریوں کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے اور ریاستیں یہ تمام سہولیات فراہم کرنے کی اپنی آئینی و اخلاقی ذمے داری احسن طریقے سے نبھاتی ہیں۔
اس کے برعکس، تیسری دنیا کے پس ماندہ ممالک کے عوام اپنی روزمرہ زندگی کی بقا کے لیے تگ و دو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کے لوگ صحت کی بنیادی سہولیات، سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم، روزگار کے ذرائع اور سڑکوں، بجلی اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات کے لیے سراپا احتجاج رہتے ہیں۔ یہ اُن کا حق ہے اور اس کے حصول کے لیے آواز اٹھانا کوئی اَن ہونی بات نہیں۔
تاہم، ان سب کے بالکل برعکس ایک ایسا خطہ بھی موجود ہے، جہاں پچھلے 40 سال سے انسانی المیے اور دکھوں کی ایک طویل داستان رقم ہو رہی ہے۔ یہ پختون قوم کا خطہ ہے، جو دنیا کی شاید وہ بدقسمت ترین قوم بن چکی ہے، جس کی ترجیحات وقت کے جبر نے یک سر بدل دی ہیں۔ وہ قوم جو کبھی اپنی شان دار روایات، مہمان نوازی اور علمی و ادبی ذوق کے لیے جانی جاتی تھی، آج زندگی کی بنیادی ترین سطح پر آگئی ہے۔ حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ پختون خطے کے باسیوں نے اب سرکاری اسپتالوں میں مفت دوائیوں، اسکولوں میں بہتر تعلیمی معیار، پکے راستوں، بجلی کی فراہمی اور صاف پانی جیسی زندگی کی عام آسایشوں یا سہولیات کا مطالبہ کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ دہائیوں کے مسلسل بحران، جنگوں اور عدم استحکام نے ان کی بنیادی ضروریات کے پیمانے ہی بدل دیے ہیں۔
پچھلے چار عشروں سے اس خطے کے باسیوں کا واحد، حتمی اور بنیادی مطالبہ صرف اور صرف ’’امن‘‘ بن چکا ہے۔ یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں، جو نہ تو اب ترقیاتی اسکیموں کی بات کرتے ہیں اور نہ اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز یا انفراسٹرکچر کا تقاضا ہی کرتے ہیں۔ ان کا سب کچھ لٹ چکا ہے، ان کے گھر اجڑ چکے ہیں، بازاروں میں لاشیں گرتی رہی ہیں اور نسلیں اس آگ کی بھٹی میں جھلس چکی ہیں، جس کے بعد ان کے پاس کسی بھی دوسری دنیوی آسایش کی کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔ وہ آج بھی دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر صرف ایک ہی التجا کرتے ہیں کہ انھیں جینے کا حق دیا جائے، ان کی آنے والی نسلوں کو جنگ کی گولیوں اور بارود کے دھماکوں سے نجات دلائی جائے اور ان کی زمینوں پر پرندوں کی طرح امن سے سانس لینے کا ماحول فراہم کیا جائے۔
کسی بھی معاشرے کی اجتماعی نفسیات کا اس حد تک ٹوٹ جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہاں ریاست اور نظام نے اپنے فرائض سے کس قدر غفلت برتی ہے۔ جب ایک پوری قوم ترقی، تعلیم اور روزگار کے بنیادی حقوق سے دست بردار ہوکر صرف جان کی امان اور امن کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ اس خطے کے حکم رانوں، پالیسی سازوں اور عالمی طاقتوں کے ضمیر پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پختون قوم نے امن کی خاطر جو لازوال قربانیاں دی ہیں، تاریخ میں اس کی دوسری مثال مشکل سے ملتی ہے۔ گھروں کے ویران ہوتے آنگن، بازاروں میں پھیلنے والی لاشیں اور معصوم بچوں کے ہاتھوں میں قلم کی بہ جائے تباہی کے مناظر اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس خطے کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس خطے کے باسیوں کو محض بقا کی جنگ لڑنے کے لیے اکیلا نہ چھوڑا جائے، بل کہ انھیں امن کا وہ گہوارہ واپس کیا جائے، جہاں وہ اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ عزت، سکون اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










