ثور انقلاب کی تاریخ (دوسری قسط)

Blogger Comrade Sajid Aman

پچھلی قسط میں ہم نے انقلاب سے پہلے افغانستان کا جائزہ لیا تھا، جہاں بہ ظاہر بادشاہت قائم تھی، مگر اندر ہی اندر تبدیلی کی کئی لہریں جنم لے رہی تھیں۔ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ نوجوان سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہو رہے تھے، تو دوسری طرف مذہبی اور قوم پرست حلقے بھی اپنی اپنی سیاسی شناخت بنا رہے تھے۔ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے نام سے معروف ہونے والے بائیں بازو کے دو دھڑے وجود میں آچکے تھے، لیکن ابھی اقتدار ان کی دست رس سے بہت دور تھا۔ اس دوران میں ایک ایسی شخصیت منظر پر اُبھری، جس نے نہ صرف افغان بادشاہت کا خاتمہ کیا، بل کہ غیر ارادی طور پر اُن حالات کو بھی جنم دیا، جنھوں نے چند برس بعد ’’ثور انقلاب‘‘ کی راہ ہم وار کی۔
افغانستان کے سابق وزیرِ اعظم اور شاہی خاندان کے ممتاز رُکن محمد داؤد خان ایک مضبوط ارادے، قوم پرستانہ سوچ اور جدید ریاست کے حامی راہ نما سمجھے جاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ افغانستان کی ترقی کے لیے ایک مضبوط مرکزی حکومت، جدید فوج، صنعتی ترقی اور سماجی اصلاحات ناگزیر ہیں… مگر اُن کی شخصیت میں ایک نمایاں وصف یہ بھی تھا کہ وہ اقتدار کو مضبوط ہاتھوں میں رکھنے پر یقین رکھتے تھے اور مخالف سیاسی قوتوں کو زیادہ گنجایش دینے کے قائل نہیں تھے۔
1973 میں جب بادشاہ محمد ظاہر شاہ علاج کی غرض سے بیرون ملک گئے ہوئے تھے، تو داؤد خان نے فوج کے بعض افسروں کی مدد سے ایک خاموش اور پُرامن فوجی اقدام کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور افغانستان کو جمہوریہ قرار دے کر خود صدر بن گئے۔ تقریباً 40 برس پر محیط بادشاہت کا خاتمہ بہت سے افغانوں کے لیے غیر متوقع تھا، لیکن ابتدا میں اس اقدام کو بڑے پیمانے پر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
داؤد خان کی کام یابی میں فوج کے اُن افسران کا اہم کردار تھا، جو بائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھے۔ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ دونوں دھڑوں سے تعلق رکھنے والے کئی فوجی افسر اس تبدیلی میں شریک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ابتدا میں ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘‘ کے بہت سے راہ نماؤں نے داؤد خان کی حکومت کو ایک مُثبت پیش رفت سمجھا۔ اُن کا خیال تھا کہ بادشاہت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں سماجی اصلاحات اور ترقی پسند پالیسیاں نافذ کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔
ابتدائی مہینوں میں داؤد خان نے بعض پرچمی راہ نماؤں کو حکومت میں بھی جگہ دی۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید قوم پرست اور بائیں بازو کی قوتیں ایک مشترکہ سیاسی راستہ اختیار کرلیں گی… لیکن یہ مفاہمت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ داؤد خان اگر چہ اصلاحات کے حامی تھے، مگر وہ کسی سیاسی جماعت کو اتنا طاقت ور نہیں دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ ریاست کے لیے چیلنج بن جائے۔ دوسری طرف ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے راہ نما یہ سمجھتے تھے کہ اُن کی قربانیوں اور حمایت کے بغیر داؤد خان اقتدار میں نہیں آسکتے تھے، اس لیے انھیں حکومت میں زیادہ اثر و رسوخ ملنا چاہیے۔ یہی اختلاف آہستہ آہستہ بداعتمادی میں تبدیل ہونے لگا۔
اسی دوران میں داؤد خان نے اپنی خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی لانا شروع کی۔ ابتدا میں اُن کے سوویت یونین سے قریبی تعلقات تھے، لیکن بعد میں اُنھوں نے عرب ممالک، ایران، مصر اور مغربی دنیا کے ساتھ بھی روابط بڑھانے کی کوشش کی، تاکہ افغانستان کسی ایک طاقت پر انحصار نہ کرے۔ یہ تبدیلی ماسکو میں تشویش کی نظر سے دیکھی گئی۔ کیوں کہ سوویت قیادت، افغانستان کو اپنے اہم ہمسایہ اور اثر کے دائرے میں رکھنا چاہتی تھی۔
دوسری طرف خود ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘‘ کے اندر بھی اختلافات کم ہونے کے بہ جائے بڑھتے جا رہے تھے۔ ’’خلق‘‘ دھڑے کی قیادت نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے ہاتھ میں تھی۔ اُن کا خیال تھا کہ افغانستان میں انقلاب جلد اور فیصلہ کن انداز میں آنا چاہیے۔ اس کے برعکس ’’پرچم‘‘ دھڑے کے راہ نما ببرک کارمل نسبتاً تدریجی تبدیلی کے قائل تھے۔ اگرچہ دونوں کا نظریاتی سرچشمہ ایک ہی تھا، مگر قیادت، حکمتِ عملی اور اقتدار کے تصور میں فرق واضح ہوتا جا رہا تھا۔
داؤد خان نے جلد ہی محسوس کیا کہ بائیں بازو کے فوجی افسر ریاست کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ چناں چہ اُنھوں نے کئی کمیونسٹ رجحان رکھنے والے افسروں کے تبادلے کیے، بعض کو ملازمت سے الگ کیا اور متعدد راہ نماؤں پر نگرانی سخت کر دی۔
دوسری جانب مذہبی جماعتوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں۔ یوں رفتہ رفتہ تقریباً ہر منظم سیاسی قوت داؤد خان سے فاصلے پر چلی گئی۔ 1977 میں سوویت قیادت کی خواہش پر ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے درمیان وقتی مفاہمت ہوئی اور دونوں دھڑے دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر آگئے۔ اگرچہ دلوں کی دوریاں باقی تھیں، لیکن حالات نے اُنھیں وقتی اتحاد پر آمادہ کر دیا۔ یہ اتحاد آنے والے واقعات میں فیصلہ کن ثابت ہونے والا تھا۔
اسی دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جس نے پورے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اپریل 1978 میں معروف بائیں بازو کے راہ نما میر اکبر خیبر کو کابل میں قتل کر دیا گیا۔ اُن کے قتل کے ذمے داروں کے بارے میں آج بھی مختلف آرا موجود ہیں، مگر اُس وقت ’’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘‘ نے حکومت پر شبہ ظاہر کیا۔ اُن کی نمازِ جنازہ اور تدفین ایک بڑے سیاسی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اس مظاہرے نے داؤد خان کو یہ احساس دلایا کہ بائیں بازو کی تنظیمی قوت اُن کے اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔
جواباً حکومت نے پارٹی کی اعلا قیادت کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ نور محمد ترکئی سمیت متعدد راہ نما حراست میں لے لیے گئے۔ حفیظ اللہ امین کو بھی نظر بند کیا گیا، لیکن تاریخی روایات کے مطابق وہ اپنی گرفتاری کے ابتدائی مرحلے میں فوج کے اندر موجود اپنے حامی افسروں تک انقلابی پیغام پہنچانے میں کام یاب رہے۔ یہی وہ لمحہ تھا، جس نے آنے والے چند دنوں کی سمت متعین کر دی۔
فوج کے اندر موجود ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ سے ہم درد افسر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ اگر اُنھوں نے فوری اقدام نہ کیا، تو پوری قیادت گرفتار یا ختم کر دی جائے گی۔ دوسری طرف داؤد خان بھی ریاستی رٹ قائم رکھنے کے لیے سخت کارروائی پر آمادہ تھے۔ اب مصالحت کے امکانات تقریباً ختم ہوچکے تھے۔ نتیجتاً افغانستان ایک ایسے تصادم کے دہانے پر کھڑا تھا، جہاں سیاسی اختلاف بندوقوں کی زبان میں بدلنے والا تھا۔
اپریل 1978 کے آخری ہفتے میں کابل کے فوجی مراکز، فضائی اڈے اور اہم سرکاری تنصیبات غیر معمولی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں افغانستان کی تاریخ کا ایک نیا باب کھلنے والا ہے۔ چند فوجی یونٹ خاموشی سے اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے تھے، جب کہ صدارتی محل میں داؤد خان کو یقین تھا کہ وہ ہر ممکن بغاوت کو کچل دیں گے… مگر تاریخ اکثر اُن لمحوں میں کروٹ لیتی ہے، جب حکم ران خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے