جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی، البتہ جنگیں اپنے پیچھے ناقابلِ تلافی نقصان، تباہی اور گہرے زخم چھوڑ جاتی ہیں، اور رہتی دنیا تک ان کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔
جنگ میں بے گناہ لاکھوں شہریوں سمیت فوجی بھی مارے جاتے ہیں، ہزاروں افراد دیگر ممالک کی جانب نقلِ مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں، جب کہ بے شمار لوگ اپنے ہی وطن میں بے گھر ہوکر آئی ڈی پیز (IDPs) کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ معیشت بیٹھ جاتی ہے، کارخانے، سڑکیں اور پُل ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں، بے روزگاری اور غربت جیسے طوفان جنم لیتے ہیں۔ فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، فضائی آلودگی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور پینے کا پانی بھی زہریلا ہو جاتا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کبھی انسانیت کے لیے باعثِ فخر نہیں رہی، بل کہ ہمیشہ عبرت کی علامت بنی ہے۔ جب جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں، تو صرف فوجی محاذ ہی نہیں، بل کہ انسانوں کے خواب، معیشتیں، تہذیبیں، تاریخ اور نسلیں بھی راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ انسانی ترقی، امن و امان اور استحکام کے خواب، جنگ کی ایک معمولی سی چنگاری سے بھی خاکستر ہو جاتے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ نے تاریخ کو ہلا کر رکھ دیا، جس میں تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ افراد لقمۂ اجل بنے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ اس جنگ میں جاپان، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہوگیا۔
ذاتی مفادات کے لیے پراکسی جنگیں بھی لڑی جاتی ہیں۔ پراکسی جنگیں وہ ہوتی ہیں، جن میں بڑی عالمی سامراجی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف بہ راہِ راست جنگ کرنے کے بہ جائے چھوٹے ممالک یا غیر ریاستی گروہوں کو استعمال کرتی ہیں، تاکہ اپنے مفادات حاصل کرسکیں۔ اگرچہ ان جنگوں میں نشانہ حریف کی طاقت ہوتی ہے، لیکن سب سے زیادہ نقصان ان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جو اُن جنگوں کے اسباب سے واقف ہوتے ہیں اور نہ اُن کے پاس اُن سے بچنے کا کوئی راستہ ہی ہوتا ہے۔
امریکہ کی تاریخ اور اس کی خارجہ پالیسی میں فوجی مداخلت اور جنگوں کا ایک طویل سلسلہ رہا ہے۔ 1776ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے امریکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بہ راہِ راست جنگوں اور پراکسی تنازعات میں ملوث رہا ہے۔ 20 مارچ 2003ء کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کر دیا اور 9 اپریل 2003ء کو دارالحکومت بغداد پر قبضہ کرلیا۔ امریکہ نے عراق پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، لیکن بعد ازاں یہ الزام غلط ثابت ہوا۔
اس جنگ کے دوران میں عراقی فضائیہ کا کردار نہ ہونے کے برابر رہا۔ عراق پر حملوں کے دوران میں ایک بھی عراقی طیارہ امریکی یا اتحادی طیاروں کا مؤثر مقابلہ نہ کرسکا۔ کہا جاتا ہے کہ عراق پر حملے سے قبل صدام حسین نے ایک نامعلوم حکمتِ عملی کے تحت فضائیہ کے بہترین طیارے صحرا کی ریت میں دبا دیے تھے، تاکہ وہ تباہی سے محفوظ رہیں اور بعد میں استعمال کیے جاسکیں۔
موجودہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ میں بھی ایرانی فضائیہ کا کردار بہت محدود دکھائی دیا۔ اگرچہ ایران نے اسرائیلی اور امریکی فوجی اہداف کو ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے ضرور نشانہ بنایا۔ اسرائیلی اور امریکی جنگی طیارے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہو کر مختلف شہروں پر بمباری کرتے رہے، لیکن ایرانی فضائیہ کا کوئی طیارہ دشمن کے جنگی طیاروں کو روکنے کے لیے مؤثر انداز میں فضا میں بلند نہ ہوسکا۔
جدید جنگوں میں فضائیہ (Air Force) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا بنیادی کام دشمن کے فضائی حملوں سے ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا، بری اور بحری افواج کو مدد فراہم کرنا، دشمن کے جنگی طیاروں اور فضائی اڈوں کو ناکارہ بنانا، اپنی افواج کی پیش قدمی میں رکاوٹ بننے والے دشمن کے ٹینکوں، ٹھکانوں، بکتر بند گاڑیوں اور سپلائی لائنز کو تباہ کرنا، نیز دشمن کی دفاعی صلاحیت، گہرائی میں واقع اسلحہ ساز فیکٹریوں، مواصلاتی مراکز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر اُنھیں تباہ کرنا ہوتا ہے۔ عراق اور امریکہ کی جنگ میں عراقی فضائیہ، جب کہ اسرائیل، امریکہ اور ایران کی حالیہ جنگ میں ایرانی فضائیہ اپنے مقاصد کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔
امریکی اور ایرانی جنگ کے حتمی نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اللہ نہ کرے کہ امریکہ اپنے مذموم مقاصد میں کام یاب ہو، لیکن اگر ایسا ہوا، تو خدشہ ہے کہ وہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف بھی ایسے اقدامات شروع کرسکتا ہے۔ کیوں کہ امریکہ پہلے ہی پاکستان پر یہ الزام عائد کرچکا ہے کہ پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے، جن سے امریکہ کو خطرہ لاحق ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی یہی ہے کہ مغربی اور مشرقی سرحدوں پر ہمارے دشمن پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اگر امریکہ اپنے مذموم مقاصد میں کام یاب ہوتا ہے، تو ہماری جنوبی سمت بھی ایک نئے دشمن کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کے لیے اس سے بہتر موقع شاید کوئی اور نہ ہو، اور وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا، جب کہ اسرائیل، ہندوستان اور افغانستان اس کے ممکنہ اتحادی ہوسکتے ہیں۔
اللہ نہ کرے کہ پاکستان کو کبھی ایسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے، لیکن اگر ایسا ہوا، تو کیا ہماری فضائیہ دشمن کے فضائی حملوں کو مؤثر انداز میں روک پائے گی، یا پھر پاکستانی فضائیہ بھی عراق اور ایران کی فضائیہ کی طرح مفلوج ہوسکتی ہے؟
پاکستانی حکم رانوں، سیکیورٹی اداروں اور پاک فضائیہ کو چاہیے کہ وہ وقت سے پہلے ایسی کسی بھی ممکنہ صورتِ حال کے تدارک کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کریں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










