شمسی توانائی کا ناگزیر انتخاب

Blogger Hazer Gul, Islampur Swat

پاکستان کے بالائی اضلاع اس وقت بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے اور توانائی کی غیر مستحکم فراہمی کے باعث شدید معاشی دباو کا شکار ہیں۔ سوات میں تقریباً 3 ہزار تجارتی ارکان رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم، اس رسمی شعبے کے نیچے ایک بہت بڑی غیر دستاویزی اور غیر رسمی معیشت موجود ہے، جو کہ ہزاروں چھوٹے اور درمیانہ کاروباروں پر مشتمل ہے۔ ان میں اسلام پور کی روایتی صنعت، سیکڑوں سیاحتی ہوٹل، مہمان خانے، مستری خانے اور چھوٹے دکان دار شامل ہیں۔ چوں کہ اُن کے پاس مالیاتی تحفظ کے ذرائع انتہائی محدود ہیں، اس لیے بجلی کے ناقابلِ برداشت اخراجات اُن کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے اور اس معاشی بحران کے حل کے لیے شمسی توانائی اب محض ایک متبادل نہیں، بل کہ معاشی تحفظ کا ایک لازمی اور ناگزیر آلہ بن چکی ہے۔
موسمِ گرما کے دوران میں سوات میں بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے، جو پشاور الیکٹرک سپلائی  کمپنی کے پہلے سے کم زور اور خسارے کا شکار نیٹ ورک پر شدید بوجھ ڈالتی ہے۔ ہمسایہ ضلع بونیر کا بحران اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، جو کہ پاکستان کی کُل سنگِ مرمر کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے۔ بونیر کے بھاری کٹنگ بلیڈز اور پروسیسنگ پلانٹس ایک کم زور اور پرانے علاقائی گرڈ اسٹیشن پر انحصار کرتے ہیں۔ جب روزانہ کئی گھنٹے بجلی معطل رہتی ہے، تو مذکورہ فیکٹریوں کو پیداواری عمل برقرار رکھنے کے لیے مہنگے ڈیزل جنریٹرز چلانے پڑتے ہیں، جس سے نہ صرف مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، بل کہ اچانک وولٹیج کے گرنے سے قیمتی مشینری بھی خراب ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں نجی اسکولوں، آٹوموبائل مرمت کی ورکشاپس اور سنگِ مرمر کے کارخانوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرکے ایک کثیر شعبہ جاتی پائیدار ماڈل قائم کیا جاسکتا ہے۔
اس پورے بحران کی ایک بڑی وجہ بجلی کی ترسیل کے دوران میں ہونے والے لائن لاسز، تکنیکی خرابیاں اور بڑے پیمانے پر ہونے والی بجلی کی چوری ہے، جس کا حرجانہ بلآخر مخلص بل دہندگان اور صنعتوں کو بھاری ٹیرف اور سرچارجز کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ جب یہ پیداواری یونٹس ’’آن گرڈ‘‘ اور ہائبرڈ شمسی نظام اپناتے ہیں، تو بجلی بہ راہِ راست ضرورت کی جگہ پر پیدا ہوتی ہے، جس سے قومی گرڈ پر لائن لاسز کا بوجھ ختم ہو جاتا ہے اور ترسیلی نظام کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
نجی اسکولوں کے اوقاتِ کار بہ راہِ راست سورج کی روشنی کے اوقات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ چناں چہ وہ دن کے وقت سورج سے پیدا ہونے والی 100 فی صد بجلی استعمال کرکے اپنے اخراجات بچا سکتے ہیں اور گرمیوں کی تعطیلات کے دوران میں فاضل بجلی قومی نیٹ ورک کو بیچ کر اپنے سردیوں کے بلوں کو بھی ختم کرسکتے ہیں۔
اسی طرح تجارتی مراکز میں موجود گاڑیوں کی ورکشاپس، جو ویلڈنگ اور کمپریسرز کا استعمال کرتی ہیں، کے لیے شمسی توانائی بروئے کار لائی جاسکتی ہے۔ اس سے کام کا تسلسل برقرار رہے گا اور یہ چھوٹے کاروبار شام کے اوقات میں بھی کام جاری رکھ سکیں گے۔ سنگِ مرمر کے بڑے کارخانوں کو اگر صنعتی سطح کے بڑے شمسی نیٹ ورک پر منتقل کیا جائے، تو انھیں بجلی اور ڈیزل کے بھاری اخراجات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، جس سے فی مربع فٹ پیداواری لاگت نمایاں حد تک کم ہو جائے گی اور ہزاروں مقامی صنعتی ملازمتیں محفوظ ہوں گی۔
اس وسیع پیمانے پر منتقلی کو ممکن بنانے کے لیے حکومت کو ایک جامع اور حکمتِ عملی پر مبنی کثیر الجہتی طریقۂ کار اپنانا ہوگا، جس میں کلسٹر پر مبنی مقامی گرڈ سسٹمز اور انفرادی سہولت کاری دونوں شامل ہوں۔ جہاں چھوٹے کاروبار اور کارخانے کلسٹرز کی شکل میں ایک جگہ کام کر رہے ہیں (جیسے بونیر کا ماربل سیکٹر، اسلام پور کا ہینڈ لوم کلسٹر یا مینگورہ کی آٹو موبائل مارکیٹس)، وہاں حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ سمال اسکیل گرڈ سسٹم پر مبنی شمسی نیٹ ورکس قائم کرے۔ یہ سینٹرلائزڈ سولر گرڈز پورے کلسٹر کو اجتماعی اور سستی بجلی فراہم کریں گے، جس سے فیکٹری مالکان کو الگ الگ بھاری سرمایہ کاری نہیں کرنی پڑے گی۔ اس کے برعکس، جہاں کاروبار بکھرے ہوئے ہیں اور کلسٹر بنانا ممکن نہیں، وہاں حکومت کو انفرادی سطح پر شمسی توانائی کی پیداوار کی بھرپور حوصلہ افزائی اور سہولت کاری کرنی چاہیے۔ اس دوہرے ماڈل کی کام یابی کے لیے حکومت کو فرنٹ سیٹ پر آنا ہوگا، جہاں وہ ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ دینے کے ساتھ ساتھ اس منتقلی کے لیے درکار بنیادی سرمایہ، مالیاتی گرانٹس اور سبسڈیز خود فراہم کرے۔
اس طرح حکومت کو چاہیے کہ وہ سولرائزیشن کے لیے درکار تمام اشیا پر سے امپورٹ ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر تمام ریگولیٹری ٹیکسوں کو مکمل طور پر ختم کرے۔ اس استثنا میں نہ صرف سولر پینلز شامل ہوں، بل کہ جدید بیٹریاں، انورٹرز، نیٹ میٹرنگ کے آلات اور فکسنگ کے لیے استعمال ہونے والا ہارڈ ویئر بھی لازمی شامل کیا جائے۔ کسی چھوٹے تاجر یا اسکول انتظامیہ کے لیے ابتدائی لاگت میں 20 سے 30 فی صد کی کمی ہی وہ بنیادی محرک بن سکتی ہے، جو انھیں اس صاف توانائی کو اپنا کر بجلی کے بھاری بلوں سے نجات پانے پر آمادہ کرے گی۔
مزید برآں، غیر ملکی آلات پر انحصار طویل المدتی حل نہیں اور حقیقی معاشی خودمختاری اس وقت حاصل ہوگی، جب حکومت ملک کے اندر ان آلات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس مقصد کے لیے صنعتی زونز میں سستی زمین کی فراہمی، 10 سالہ ٹیکس چھوٹ اور مینوفیکچرنگ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد جیسے جارحانہ مراعاتی پیکیجز متعارف کروائے جائیں۔ مقامی سطح پر سولر پینلز اور انورٹرز کی اسمبلنگ سے نہ صرف ملکی زرِ مبادلہ بچایا جاسکے گا، بل کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے اسمبلي لائن ورکرز، تکنیکی ماہرین اور انرجی آڈیٹرز کی شکل میں ہزاروں اعلا تکنیکی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ غیر مرکزی شمسی توانائی کا فروغ، بجلی کی چوری اور لائن لاسز کے ستائے قومی بجلی کے نظام پر سے ساختی بوجھ کو کم کرنے اور مائیکرو اور سمال انڈسٹریز کے مقررہ اخراجات کو کم کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی توانائی کی پالیسیوں کو خطے کی معاشی حقیقتوں کے مطابق استوار کرے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے