احتساب کمیشن خیبر پختونخوا (مرحوم)

Blogger Hazir Gul

جب سنہ 2014 میں خیبر پختونخوا احتساب کمیشن قائم کیا گیا تھا، تو اسے ایک انقلابی سنگِ میل اور کرپشن کے خلاف ایک تاریخی ہتھ یار بنا کر پیش کیا گیا۔ صوبائی حکومت نے دعوا کیا تھا کہ یہ ادارہ ماضی کے روایتی اور بے اثر انسدادِ کرپشن اداروں سے بالکل مختلف ہوگا۔ ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ کمیشن ایک مکمل آزاد اور خود مختار نگران ادارے کے طور پر کام کرے گا، جو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہو کر بڑے ’’مگرمچھوں” پر ہاتھ ڈالے گا… لیکن دسمبر 2018 میں اس ادارے کے اچانک اور خاموش خاتمے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ پورا تجربہ محض ایک سیاسی تماشا، اربوں روپے کا ضیاع اور عوام کے ساتھ ایک مذاق تھا۔
اگر ہم اس ادارے کی کارکردگی اور اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو ایک واضح اور ہول ناک داستان سامنے آتی ہے۔ اپنے 4 سالہ ہنگامہ خیز وجود کے دوران میں اس کمیشن نے عوام کے ٹیکسوں سے 1 ارب 5  کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم اُڑا دی۔ اس بھاری بھرکم بجٹ کے بدلے صوبے کے عوام کو کیا ملا…؟ سرکاری ریکارڈ کے مطابق بدعنوان عناصر سے نہ تو کوئی قابلِ ذکر ریکوری (پیسوں کی واپسی) ہوسکی اور نہ کسی بڑے مجرم کو مستقل سزا ہی دلوائی جاسکی۔
شروع میں جب کمیشن نے کچھ ہمت دکھائی، تو اس نے چند انتہائی ہائی پروفائل کیسز پر ہاتھ ڈالا۔ جولائی 2015 میں صوبائی وزیر برائے معدنیات ضیاء اللہ آفریدی کو غیر قانونی کان کنی اور من پسند ٹھیکوں کے ذریعے صوبائی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح سابق صوبائی وزیر لیاقت شباب کو کروڑوں روپے کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نعیم خالد کو فنڈز میں کروڑوں روپے کے غبن کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ٹاؤن میونسپل آفیسر نور دراز خٹک کو بھی زمین پر غیر قانونی قبضے کے الزامات پر پکڑا گیا… لیکن اس پورے معاملے کا اصل المیہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ جب تک یہ ادارہ کروڑوں اور اربوں روپے کے ان اسکینڈلز کی آڑ میں صرف حزبِ اختلاف یا مخصوص لوگوں پر ہاتھ ڈالتا رہا، حکومت اس کی تعریفیں کرتی رہی… لیکن جیسے ہی تحقیقات کی آنچ خود حکم ران جماعت کے وزرا اور اثر و رسوخ والے افراد تک پہنچنے لگی، تو حکومت نے فوراً پینک بٹن دبا دیا۔
جب کمیشن کے پہلے ڈائریکٹر جنرل محمد حامد خان نے قانون کے مطابق اپنا کام کرنا چاہا، تو حکومت نے راتوں رات قانون میں ایسی ترامیم کر دیں، جنھوں نے ڈی جی کے اختیارات کا گلا گھونٹ دیا۔ قانون بدل کر ڈی جی کی طاقت کو کم کیا گیا، جسمانی ریمانڈ کی مدت گھٹائی گئی اور کمیشن کو پابند کر دیا گیا کہ وہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے ایک طویل کمیٹی کی منظوری لے۔ ایک آزاد ادارے کو اڑان بھرنے کے بہ جائے، حکومت نے اس کے پر کاٹ دیے۔ کیوں کہ احتساب کا نعرہ اب خود اُن کے لیے سیاسی طور پر نقصان دِہ بن رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ڈی جی محمد حامد خان نے احتجاجاً استعفا دے دیا اور ادارہ بغیر قیادت کے مفلوج ہوگیا۔
بالآخر، دسمبر 2018 میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس کمیشن کو ختم کرنے کا بِل پاس کر دیا اور درجنوں ادھورے کیس اور تحقیقات کا پورا ریکارڈ دوبارہ پرانے روایتی ادارے یعنی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کرکے اپنے ہاتھ دھولیے۔ احتساب کمیشن کا یہ عروج و زوال عوام کے لیے ایک تلخ سبق ہے۔ جب تک حکم ران طبقہ خود کو قانون کے سامنے جواب دہ بنانے کا سچا ارادہ نہ رکھے، تب تک محض چمک دار قوانین اور اشتہاری مہمات سے حقیقی احتساب ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا احتساب کمیشن اس لیے ناکام نہیں ہوا کہ احتساب ناممکن تھا، بل کہ یہ اس لیے ناکام ہوا کہ حکومت اس ادارے کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھی، نہ کہ ایک ایسی تلوار کے طور پر جو سب پر یک ساں چلے۔
آج خیبر پختونخوا کے شہریوں نے ایک ارب روپے سے زیادہ کی بھاری قیمت چکاکر وہی پرانا سبق سیکھا ہے: طاقت ور طبقہ ادارہ جاتی آزادی کو صرف اُس وقت تک برداشت کرتا ہے، جب تک وہ اُن کے اشاروں پر ناچے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلا سہیل آفریدی کی جانب سے خوش نما اور جذباتی تقاریر اور نعرے محض سراب ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے