تجاوزات، درختوں کی کٹائی اور بے معنی ترقی

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

قارئین! شہروں کی ترقی صرف نئی تعمیرات، دکانوں اور کیبنوں کے اضافے کا نام نہیں ہوتی، بل کہ اصل ترقی وہ ہوتی ہے، جو شہریوں کو سہولت، ماحول کو تحفظ اور شہر کو خوب صورتی عطا کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ترقی کے نام پر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں، جن کے فوری فوائد تو دکھائی دیتے ہیں، مگر اُن کے دور رس نقصانات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔
مینگورہ شہر میں پیپلز چوک کے قریب قبرستان کے ساتھ سڑک کنارے عوام کے لیے سودا فروخت کرنے کی غرض سے کیبن تعمیر کرنے کا حالیہ اقدام بھی اسی نوعیت کا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر یہ قدم ایک فلاحی اور عوام دوست منصوبہ محسوس ہوتا ہے۔ یقیناً بے روزگاری کے اس دور میں چھوٹے کاروبار کے مواقع پیدا کرنا ایک مثبت سوچ ہوسکتی ہے، مگر کسی بھی منصوبے کی کام یابی کا دار و مدار صرف نیت پر نہیں، بل کہ اس کے نتائج اور اثرات پر ہوتا ہے۔ اگر ایک ایسا اقدام، جو وقتی طور پر فائدہ مند دکھائی دے، مستقبل میں عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے، تو پھر اس پر سوال اٹھانا شہریوں کا حق بھی ہے اور ذمے داری بھی۔
مینگورہ شہر پہلے ہی تجاوزات کے شدید مسئلے سے دوچار ہے۔ بازاروں، سڑکوں اور چوراہوں پر غیر منظم تعمیرات اور ناجائز تجاوزات نے ٹریفک کے نظام کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ شہر کی بیش تر سڑکیں دن کے اوقات میں گھنٹوں جام رہتی ہیں، مریض اسپتال پہنچنے میں پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، طلبہ تعلیمی اداروں تک بروقت نہیں پہنچ پاتے اور عام شہری ذہنی اذیت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں مزید کیبنوں اور دکانوں کی تعمیر دراصل ٹریفک اور تجاوزات کے مسئلے میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کیبنوں کی تعمیر کے لیے قبرستان کے ساتھ موجود درختوں کو کاٹا گیا۔ یہ درخت محض لکڑی کے ٹکڑے نہیں تھے، بل کہ شہر کے ماحول، خوب صورتی اور فضا کو بہتر رکھنے کا ایک اہم ذریعہ تھے۔ مینگورہ جو کبھی سرسبز درختوں، ٹھنڈی فضا اور قدرتی حسن کے لیے پہچانا جاتا تھا، آج تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوگیا ہے۔ بلند عمارتیں، بے ہنگم تعمیرات اور درختوں کی مسلسل کٹائی نے شہر کو ماحولیاتی آلودگی، گرمی اور گرد و غبار کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
دنیا بھر میں ترقی یافتہ شہر سبزہ بڑھانے، درخت لگانے اور ماحول دوست منصوبوں پر زور دے رہے ہیں، جب کہ ہمارے ہاں اُلٹا درختوں کو ترقی کی راہ کی رکاوٹ سمجھ کر کاٹا جارہا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف افسوس ناک ہے، بل کہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ درخت کسی بھی شہر کے پھیپڑے ہوتے ہیں، اور جب پھیپڑے ہی ختم ہوجائیں، تو فضا کا زہریلا ہونا لازمی امر بن جاتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر منصوبہ بندی کرتے وقت متعلقہ ادارے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آج کے فیصلوں کے کل کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ کیا صرف وقتی داد سمیٹنا کافی ہے یا آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول اور منظم شہر چھوڑنا بھی ہماری ذمے داری ہے؟ ترقی اگر شہری زندگی کو مزید مشکلات میں دھکیل دے، تو ایسی ترقی پر نظرِ ثانی ناگزیر ہوجاتی ہے۔
اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مینگورہ شہر کے مسائل کا مستقل اور دور اندیشی پر مبنی حل تلاش کیا جائے۔ تجاوزات کے خاتمے، ٹریفک کی روانی، ماحول کے تحفظ اور سبزہ بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ شہریوں کو روزگار دینا یقیناً ضروری ہے، مگر اس کے لیے ایسی جگہوں اور منصوبوں کا انتخاب ہونا چاہیے، جو شہر کی خوب صورتی اور عوامی سہولتوں کو متاثر نہ کریں۔
مینگورہ صرف عمارتوں کا نام نہیں، یہ ایک تاریخی، ثقافتی اور قدرتی حسن رکھنے والا شہر ہے۔ اگر ہم نے آج بھی بے معنی ترقی اور ماحول دشمن فیصلوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے