ابنِ رشد تا ابنِ سینا، زوال کی داستان

Blogger Comrade Sajid Aman

دنیا کا سب سے بڑا سانحہ شاید بغداد کی تباہی نہیں تھا۔ اصل سانحہ وہ دن تھا، جب سوال پوچھنے والوں کو مشکوک سمجھا جانے لگا۔ جب فلسفہ گم راہی قرار پایا، جب عقل کو ایمان کے مقابل کھڑا کر دیا گیا اور جب کتابوں سے خوف کھایا جانے لگا۔کوئی تہذیب صرف جنگوں سے تباہ نہیں ہوتی، وہ اُس وقت زوال کا شکار ہوتی ہے، جب اُس کے ذہن خوف زدہ ہو جائیں۔ مسلم دنیا  میں بھی ایک ایسا موڑ گزرا ہے، جب تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی، سوال کی جگہ خاموشی نے… اور جست جو کی جگہ خوف نے۔
اور بدقسمتی یہ تسلسل ابھی تک جاری ہے۔
یہ وہی مسلم دنیا  تھی، جنھوں نے کبھی دنیا کو الجبرا دیا، طب کو نئی بنیادیں دیں، فلکیات کو ترقی دی اور تجرباتی سائنس کی بنیاد رکھی۔ بغداد، قرطبہ، دمشق، بخارا اور سمرقند صرف شہر نہیں تھے، انسانی عقل کے روشن مینار تھے۔ یورپ اُس وقت تاریک دور سے گزر رہا تھا، جب بغداد کی گلیوں میں فلسفہ، ریاضی، طب اور فلکیات پر مباحث ہوتے تھے۔
الخوارزمی نے الجبرا کی بنیاد رکھی۔
ابن الہیثم نے روشنی اور بصارت پر تحقیق کرتے ہوئے تجرباتی سائنس کی بنیاد مضبوط کی۔ مغرب اُنھیں "Father of Optics” کہتا ہے۔
البیرونی نے زمین کے قطر کی پیمایش حیران کن درستی سے کی، جب کہ پورا یورپ ابھی زمین اور کائنات کے بنیادی تصورات میں الجھا ہوا تھا۔
ابنِ نفیس نے صدیوں پہلے دورانِ خون کی وضاحت کی۔
الرازی نے چیچک اور خسرہ پر الگ الگ تحقیق کی، ہسپتالوں کے نظام کو بہتر بنایا اور طب کو مشاہدے اور تجربے سے جوڑا۔
ابنِ سینا کی ’’القانون فی الطب‘‘ چھے سو برس تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہی… اور یہ مسلم دنیا کی علم پرستی کی مثال ہے۔
یہ سب لوگ صرف سائنس دان نہیں تھے۔ یہ اُس تہذیب کے نمایندے تھے، جو علم کو عبادت سمجھتی تھی۔ قرآن کی پہلی وحی ’’اقرأ‘‘ تھی، یعنی ’’پڑھو۔‘‘ کائنات میں غور و فکر ایمان کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ابتدائی مسلم دنیا میں سوال پوچھنا بے ادبی نہیں، بل کہ جست جو کہلاتا تھا… لیکن رفتہ رفتہ ایک فکری تبدیلی نے جنم لیا۔ فلسفے اور عقل پر شبہ کیا جانے لگا۔ سوال اُٹھانے والے لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ امام غزالی کی ’’تہافۃ الفلاسفہ‘‘ ایک علمی کتاب تھی، مگر بعد میں اسے فلسفے کے خلاف ہتھ یار بنا لیا گیا۔ غزالی خود ریاضی یا سائنسی تحقیق کے دشمن نہیں تھے، لیکن بعد کے قدامت پسند حلقوں نے اُن کی تنقید کو اس انداز سے استعمال کیا کہ فلسفہ اور عقل ہی مشکوک بن گئے۔ نئی دُکانیں کھل گئیں۔ عقل دشمنی پڑھائی جانے لگی۔ یہاں سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوا، جہاں سوال کرنے والا شخص آسانی سے ’’گم راہ‘‘ قرار دیا جاسکتا تھا۔ رفتہ رفتہ مدارس کے نصاب بدلنے لگے۔ فلکیات، فلسفہ، منطق اور سائنسی علوم سکڑتے گئے، جب کہ فقہی مناظرے اور لفظی بحثیں بڑھتی گئیں۔ ایک ایسا ذہن تیار ہونے لگا، جو حفظ تو کرسکتا تھا، مگر سوال سے ڈرتا تھا۔ مسلمان سائنس دانوں کی جگہ ذاکر و مقرر پیدا کرنے کا عمل شروع ہوا۔
اسی گھٹن زدہ ماحول میں اندلس کے عظیم مفکر ابنِ رشد سامنے آئے۔ اُنھوں نے کہا کہ مذہب اور عقل میں تضاد نہیں ہوسکتا۔ اگر خدا نے انسان کو عقل دی ہے، تو اس کا استعمال گناہ کیسے ہوسکتا ہے؟
ابنِ رشد نے فلسفے کا دفاع کیا، سائنسی فکر کا دفاع کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ سچائی ایک ہی ہوتی ہے، چاہے وہ مذہب سے ملے یا عقل سے۔ اُنھوں نے امام غزالی کی تنقید کا جواب دیا اور کہا کہ فلسفہ دراصل کائنات میں خدا کی نشانیوں کو سمجھنے کی کوشش ہے… مگر تاریخ اکثر اپنے بہترین ذہنوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتی ہے۔ ابنِ رشد پر الحاد کے الزامات لگے، اُن کی کتابیں جلائی گئیں، اُنھیں جَلا وطن کیا گیا اور اُن کے شاگرد خوف کے ماحول میں منتشر ہوگئے۔
یہاں تاریخ کا سب سے بڑا طنز سامنے آتا ہے۔ جس ابنِ رشد کو مسلم دنیا نے مسترد کیا، یورپ نے اُسی ابنِ رشد کو گلے لگالیا۔ لاطینی دنیا میں اُن کے افکار نے نشاۃِ ثانیہ کی بنیادیں مضبوط کیں۔ یورپی جامعات نے اُن کی تشریحات پڑھیں، جب کہ مسلمان دنیا آہستہ آہستہ اپنی علمی روایت سے دور ہوتی گئی۔
ابنِ رشد اکیلے نہیں تھے۔ ابنِ سینا کو اپنے فلسفیانہ خیالات کی وجہ سے شک اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنھیں درباروں کی سیاست، جَلا وطنی اور مسلسل عدم تحفظ میں زندگی گزارنی پڑی۔
الرازی چوں کہ عقل اور تجربے پر زور دیتے تھے، اس لیے اُنھیں شدید تنقید برداشت کرنا پڑی۔
سہروردی کو اُن کے فلسفیانہ نظریات کی وجہ سے قتل کر دیا گیا اور وہ تاریخ میں ’’شیخ مقتول‘‘ کہلائے۔
ابن الہیثم کو سیاسی قید اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں کئی علما نے اپنی اصل آرا چھپانا سیکھ لیا، کیوں کہ کھل کر سوچنا خطرناک عمل ثابت ہوچکا تھا۔
یہ صرف چند افراد کی کہانی نہیں تھی، یہ پورے فکری ماحول کی تبدیلی تھی۔ جب معاشرے میں سوال خطرناک بن جائے، تو پھر ذہین لوگ خاموش ہوجاتے ہیں۔ تخلیقی ذہن یا تو جَلا وطن ہوتے ہیں یا اندر ہی اندر مرنے لگتے ہیں۔ تاریخ میں زوال ہمیشہ تلوار سے نہیں آتا، بعض اوقات وہ فتوؤں، خوف اور خاموشی سے آتا ہے۔
مسلم دنیا کے زوال کی وجہ اکیلی مذہبی شدت پسندی نہیں تھی۔ گو کہ منگول حملے ہوئے، بغداد کی عظیم لائبریریاں دریائے دجلہ میں پھینک دی گئیں، سیاسی انتشار بڑھا، سلطنتیں ٹوٹتی رہیں اور بعد میں یورپی استعمار نے بھی شدید نقصان پہنچایا… لیکن اصل مسئلہ یہ تھا کہ جب دنیا سائنسی انقلاب کی طرف بڑھ رہی تھی، مسلمان دنیا کے کئی حصوں میں ابھی تک یہ بحث جاری تھی کہ فلسفہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ایسا نہ ہوتا، تو مسلم دنیا شاید باقی تمام عوامل کا مقابلہ کرلیتی۔
یورپ نے مسلمانوں سے علم لیا، پھر سوال پوچھنے کی آزادی کو قبول کرلیا۔ وہاں گلیلیو کو ابتدا میں مخالفت کا سامنا ضرور کرنا پڑا، مگر آخرِکار یورپ نے سائنسی طریقۂ کار کو تسلیم کر لیا۔ یونیورسٹیاں آزاد ہوئیں، تحقیق کو ریاستی سرپرستی ملی اور سائنس ترقی کا راستہ بن گئی… جب کہ مسلم دنیا کے کئی معاشروں میں اختلافِ رائے کو خطرہ سمجھا جانے لگا۔
بدقسمتی سے آج بھی ہمارے ہاں اکثر نوجوان سائنسی سوال پوچھتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اُنھیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں اُن کے ایمان پر شک نہ کیا جائے۔ یہی خوف اصل بحران ہے۔ کیوں کہ سائنس صرف لیبارٹری کا نام نہیں، یہ ایک ذہنی رویہ ہے۔ ایسا رویہ جو سوال پوچھتا ہے، غلطی تسلیم کرتا ہے اور نئی حقیقتوں کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور سائنس میں کبھی جنگ نہیں تھی۔ جنگ ہمیشہ خوف اور عقل کے درمیان رہی ہے۔ جب معاشرے سوال سے ڈرنے لگیں، تو زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ شاید آج مسلم دنیا کو دوبارہ ابنِ رشد کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ دوبارہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوال پوچھنا بغاوت نہیں، بل کہ علم کی پہلی سیڑھی ہے۔ کیوں کہ قومیں صرف ماضی کے فخر سے زندہ نہیں رہتیں۔ وہ اپنے زندہ ذہنوں سے زندہ رہتی ہیں۔
ہم اکثر اپنی تاریخ کے سنہرے دور پر فخر کرتے ہیں، مگر شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر الخوارزمی، ابنِ سینا، الرازی یا ابنِ رشد آج ہماری سوسائٹی میں پیدا ہوتے، تو کیا ہم اُنھیں عزت دیتے، یا ہم بھی اُنھیں مشکوک قرار دے کر خاموش کرا دیتے؟
یہ سوال صرف تاریخ کا نہیں، ہمارے حال اور مستقبل کا بھی ہے۔ کیوں کہ جس دن کوئی تہذیب اپنے سوال پوچھنے والوں کو خاموش کر دے، اُس دن اُس کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ اور ہمارے ہاں یہ گم راہی ہے کہ ہم علم و تعلیم کو الگ الگ کہتے ہیں، علم فرض ہے تعلیم نہیں۔ ایمان کو یقین کہتے ہیں، مگر شک میں رہتے ہیں اور نقصان پر نقصان کیے جا رہے ہیں۔
خلیل جبران نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمیں اپنے سائے کے سوا کچھ نظر نہیں آسکتا، کیوں کہ ہم نے سورج کی طرف پشت کرلی ہے۔ 
اگر ہم مڑ کر سورج نہیں دیکھنا چاہتے، اُس کی روشنی کا مشاہدہ نہیں کرسکتے، تو سائے اور اندھیرے ہمارا نصیب ہوں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے