جرگہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مفہوم اجتماعی فکر، اشتراکیت اور متفقہ فیصلہ ہے۔ اسی لیے پشتون معاشرے میں ان مقاصد کے حصول کے لیے لفظ ’’جرگہ‘‘ مستعمل ہے، جب کہ دیگر اقوام میں عربی میں ’’شوریٰ‘‘، ہندی اور پنجابی میں ’’پنجائیت‘‘ اور انگریزی میں ’’پارلیمنٹ‘‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ صدیوں پر محیط روایت کے تناظر میں، فریقین کے مابین تنازعات کے حل، صلح و تصفیہ اور باہمی مشاورت کے عمل کو ’’جرگہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
جرگے کا وجود جس طرح صدیوں پر محیط ہے، اسی طرح پشتونوں کا جغرافیہ، ثقافت، زراعت، لوک ادب، نفسیات اور سیاسی تاریخ بھی ہزاروں برس پر پھیلی ہوئی ہے۔ پشتون مورخ عبدالحئی حبیبی (مرحوم) اپنی کتاب ’’د افغانستان لرغونے تاریخ‘‘ میں پشتون تہذیب و تمدن پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پشتونوں کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے اور یہ دیگر قدیم اقوام کی مانند ایک قدیم قوم ہیں۔
زمانۂ قدیم سے پشتون معاشرے میں جرگے منعقد ہوتے آئے ہیں اور ان کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ جرگے کے لیے علاقے کے ایسے عمائدین کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو فہم و فراست کے حامل ہوں اور اپنے فیصلے منوانے کی صلاحیت رکھتے ہوں؛ بہ صورتِ دیگر جرگہ اپنی اِفادیت کھو دیتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ایک ضرب المثل مشہور ہے: ’’جنگ جیتنا آسان ہے، لیکن جرگہ جیتنا مشکل ہے۔‘‘
دل چسپ امر یہ ہے کہ جرگے کا کوئی باقاعدہ تحریری دستور یا قانون نہیں تھا، بل کہ ہر قسم کے تنازعات اور جرائم کے لیے صدیوں سے رائج روایات کے مطابق سزائیں دی جاتی تھیں، جن کا تعین عمائدین حالات و واقعات کو مدنظر رکھ کر کرتے تھے۔ قبیلۂ یوسف زئی میں بھی دیگر قبائل کی طرح جرگوں کا رواج عام تھا۔
میری اس تحریر کا مقصد صدیوں پر محیط جرگہ نظام کی تاریخ بیان کرنا نہیں، بل کہ انگریز دور میں ملاکنڈ میں قائم ہونے والے جرگے کے چند فیصلوں کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ اس سے قطعِ نظر کہ یہ فیصلے مکمل طور پر عدل و انصاف پر مبنی تھے یا نہیں، یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ان کے نتیجے میں علاقے میں امن و امان کی فضا قابلِ تحسین حد تک قائم رہی۔
انگریزوں کی آمد سے قبل بھی ملاکنڈ میں جرائم اور تنازعات کے فیصلے یوسف زئی قبیلہ کے جرگے کے ذریعے ہی کیے جاتے تھے۔ جب انگریز گلگت کے راستے چترال تک اپنا تسلط قائم کرچکے تھے، تو اُنھیں اس راستے کی دشواری کا سامنا تھا۔ چناں چہ اُنھوں نے ملاکنڈ اور دیر کے راستے چترال تک رسائی کے لیے مقامی عمائدین سے جرگے کیے، لیکن ابتدائی طور پر اُنھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذکرہ شدہ ناکامی کے بعد انگریزوں نے ملاکنڈ پر حملہ کیا اور بعض علاقوں پر قبضہ جمالیا۔ تاہم وہ بہ خوبی جانتے تھے کہ محض قبضہ کافی نہیں، بل کہ فوجی قافلوں اور ساز و سامان کی محفوظ نقل و حرکت بھی ضروری ہے۔ لہٰذا اُنھوں نے مقامی عمائدین سے ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت عمائدین انگریز قافلوں کی حفاظت کے ذمے دار ٹھہرے، جب کہ انگریزوں نے وعدہ کیا کہ وہ مقامی معاشرت، تہذیب، عائلی قوانین میں مداخلت نہیں کریں گے اور پولیٹیکل ایجنٹ جرگے کے فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔ (واضح رہے کہ ملاکنڈ کے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ میجر ڈین تھے… اور اس ایجنسی میں ملاکنڈ، دیر، سوات، چترال اور باجوڑ کے علاقے شامل تھے۔)
پاکستان کے قیام کے بعد بھی 1969ء تک ملاکنڈ میں جرگہ نظام برقرار رہا اور اس کے فیصلوں پر مکمل عمل ہوتا رہا۔ ذیل میں جرگے کے چند فیصلے پیش کیے جاتے ہیں، جن کے باعث علاقے میں مثالی امن و امان قائم رہا۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جرگے نے اکثر فیصلے اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کے خلاف کیے اور کسی غریب یا کم زور کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔
تھانہ شہر میں دو بااثر خاندانوں کے درمیان جھگڑوں میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ جرگے نے فیصلہ دیا کہ ایک سال تک ایک خاندان اور اگلے سال دوسرا خاندان شہر میں سکونت اختیار کرے گا، اور یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔
اس طرح تھانہ ہی کے ایک نوجوان نے گاؤں کے خان صاحب پر پستول سے فائر کیا۔ اگرچہ وہ جان بچانے میں کام یاب رہے، مگر جرگے نے ملزم کو 14 سال قید اور جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی۔ بعد ازاں مذکورہ جائیداد نیلام کی گئی۔
ایک اور مثال بھی شہر تھانہ ہی کی ہے۔ شہر میں دو خاندانوں کی لڑائی کے نتیجے میں ایک شخص قتل ہوا، جس پر جرگے نے قاتل خاندان کے گھر مسمار کروا دیے اور اُنھیں علاقہ بدر کر دیا۔ طویل عرصے بعد اُنھیں واپسی کی اجازت ملی۔
بازدرہ بالا میں ایک قتل کے واقعے پر جرگے نے نہ صرف قاتل، بل کہ اس کے بھائی کو بھی 14 سال قید اور علاقہ بدری کی سزا سنائی، حال آں کہ وہ وقوعہ کے وقت موجود نہیں تھے۔
شیر خانہ گاؤں کے ایک واقعے میں مسجد کے اندر جھگڑے کے دوران میں فائرنگ سے ایک شخص زخمی اور ایک مہمان جاں بہ حق ہوا۔ جرگے نے ملزم کو گرفتار کروا کر عمر قید کی سزا دی۔
اسی طرح ایک اور قتل کے مقدمے میں، جہاں قاتل ابتدا میں مفرور رہا، بعد ازاں خود گرفتاری پیش کرنے پر اسے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ذکر شدہ فیصلوں کے نتیجے میں ملاکنڈ میں ایسا امن و امان قائم رہا، جس کی آج تک مثال دی جاتی ہے۔ اُس دور میں لوگ جرائم کے ارتکاب سے گریزاں رہے… تاہم، جرگہ نظام کے خاتمے کے بعد آج کسی کی جان محفوظ ہے، نہ مال اور نہ عزت و آبرو۔
نمایاں اصطلاح کی وضاحت:
1) عبدالحئی حبیبی:۔ افغانستان کے جدید تاریخ نویسی کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے پشتو زبان کو علمی سطح پر بلند کیا اور افغان قوم کی فکری شناخت کو مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاح کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










