ایچ آئی وی، ایڈز – بیماریاں نہیں رویے مسئلہ ہیں

Blogger Comrade Sajid Aman

(نوٹ:۔اس تحریر میں جتنی بھی مشکل اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، ان کی آسان وضاحت آخر میں ملاحظہ ہو۔ مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
انسانی ارتقائی تاریخ میں دیگر کئی چیزوں کے علاوہ کچھ بیماریاں ایسی بھی رہی ہیں، جنھوں نے صرف جسم کو نہیں، بل کہ سماج کے ضمیر کو بھی آزمایا ہے۔ ’’ایچ آئی وی‘‘ (HIV) اور ’’ایڈز‘‘ (AIDS) بھی انھی میں شامل ہیں۔ ان کا خوف اتنا نہیں، جتنا ان کے بارے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں، افواہوں اور تعصبات کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ دونوں نام سن کر لوگ ایک قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں، جیسے یہ کوئی ایسی بلا ہو جو چھونے سے منتقل ہوجاتی ہو، حالاں کہ مہذب دنیا اور میڈیکل سائنس میں حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ایچ آئی وی ایک وائرس ہے، ایک ایسا جرثومہ جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ یہ خاموشی سے جسم میں داخل ہوتا ہے اور خاص طور پر اُن خلیات کو نشانہ بناتا ہے، جو بیماریوں کے خلاف ہماری پہلی دفاعی لائن ہوتے ہیں۔ برسوں تک یہ وائرس بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں رہ سکتا ہے، اور یہی اس کی سب سے خطرناک خصلت ہے۔ جب اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے، تو آہستہ آہستہ مدافعتی نظام اس قدر کم زور ہو جاتا ہے کہ معمولی انفیکشن بھی جان لیوا ثابت ہونے لگتے ہیں۔ اسی آخری مرحلے کو ’’ایڈز‘‘ کہا جاتا ہے۔
یوں سمجھ لیجیے کہ ایچ آئی وی ایک سبب ہے اور ایڈز اس کا نتیجہ۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس بیماری کے پھیلاو کے بارے میں سب سے زیادہ غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ ملانے، ساتھ بیٹھنے یا ایک ہی برتن میں کھانا کھانے سے یہ وائرس منتقل ہوجاتا ہے۔ حال آں کہ سائنسی تحقیق اس کی مکمل تردید کرتی ہے۔ یہ وائرس صرف مخصوص جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جیسے غیر محفوظ جنسی تعلق، متاثرہ خون کی منتقلی، ایک ہی سرنج کا استعمال، یا ماں سے بچے کو منتقلی۔
اس کے علاوہ روزمرہ کے سماجی تعلقات میں اس کے پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا نہ صرف لاعلمی ہے، بل کہ یہ عمل ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ایچ آئی وی کی ایک اور پیچیدگی یہ ہے کہ اس کی ابتدائی علامات عام بخار یا فلو جیسی ہوتی ہیں۔ کچھ دنوں یا ہفتوں بعد یہ علامات ختم ہوجاتی ہیں اور مریض خود کو صحت مند سمجھنے لگتا ہے، جب کہ وائرس اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحت کے ماہرین باقاعدہ ٹیسٹنگ پر زور دیتے ہیں، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو خطرے میں ہوسکتے ہیں۔ وقت پر تشخیص نہ صرف مریض کی زندگی بچاسکتی ہے، بل کہ دوسروں کو محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
جہاں تک علاج کا تعلق ہے، یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایچ آئی وی کا مکمل خاتمہ ابھی ممکن نہیں، مگر اس کا موثر علاج موجود ہے۔ ’’اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی‘‘ (Antiretroviral Therapy, ART) نے اس بیماری کی نوعیت کو یک سر بدل دیا ہے۔ آج ایک مریض، اگر باقاعدگی سے دوا لے، تو ایک نارمل انسان کی طرح زندگی گزار سکتا ہے۔
’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘‘ (World Health Organization) سمیت دنیا بھر کے طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت علاج نہ صرف زندگی کو طول دیتا ہے، بل کہ وائرس کے پھیلاو کو بھی نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔ یوں ایک مریض صرف اپنی ہی نہیں، بل کہ دوسروں کی زندگیوں کی حفاظت میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔
ایڈز کے مرحلے میں صورتِ حال پیچیدہ ہوجاتی ہے، مگر یہاں بھی علاج کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ اس مرحلے پر اصل توجہ اُن انفیکشنز کے علاج پر ہوتی ہے، جو کم زور مدافعتی نظام کی وجہ سے حملہ آور ہوتے ہیں… اور ساتھ ہی ’’اینٹی ریٹرو وائرل میڈیسنز‘‘ (Antiretroviral Medicines) کا استعمال جاری رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک طویل اور مستقل عمل ہے، جس میں مریض کی ہمت اور خاندان کی حمایت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اس بیماری کے علاج کے لیے خصوصی مراکز قائم ہیں، جہاں نہ صرف ادویہ فراہم کی جاتی ہیں، بل کہ مشاورت اور ذہنی مدد بھی دی جاتی ہے۔ ان مراکز میں مریض کی شناخت کو مکمل رازداری کے ساتھ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس بیماری کے ساتھ جڑا ہوا سماجی دباو اکثر خود بیماری سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایک مریض کو سب سے زیادہ ضرورت دوا کے ساتھ ساتھ عزت، اعتماد اور قبولیت کی ہوتی ہے۔
یہاں ایک سوال خود ہم سے بھی پوچھا جانا چاہیے: ہمیں مریض سے نفرت کرنی چاہیے یا بیماری سے…؟
اگر ہم دیانت داری سے اس سوال کا جواب دیں، تو واضح ہوجاتا ہے کہ بیماری سے نفرت کی جاسکتی ہے، مگر مریض سے نہیں۔ ایک مریض کو تنہا چھوڑ دینا، اس سے دوری اختیار کرنا یا اسے کم تر سمجھنا نہ صرف غیر انسانی فعل ہے، بل کہ معاشرتی جرم بھی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جہاں انسانیت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
جدید سائنسی تحقیق اس میدان میں مسلسل پیش رفت کر رہی ہے۔ ویکسین پر کام جاری ہے، ’’جین تھراپی‘‘ (Gene Therapy) جیسے جدید طریقے زیرِ تحقیق ہیں… اور دنیا بھر کے سائنس دان اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی نہ کسی صورت اس وائرس کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ اگرچہ یہ منزل ابھی دور ہے، مگر اُمید کی روشنی پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوچکی ہے۔
اگر کسی گھر میں ایچ آئی وی کا مریض ہو، تو اس کے ساتھ رویہ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ اسے ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنے دینا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے علاج میں اس کا ساتھ دینا نہایت ضروری ہے۔ اس کے برعکس اگر اسے تنہائی کا شکار کر دیا جائے، تو اس کا ذہنی دباو بڑھ جاتا ہے، جو اس کی جسمانی حالت کو مزید خراب کرسکتا ہے۔
احتیاط کے حوالے سے بھی ایک متوازن رویہ اپنانا ضروری ہے۔ جہاں خون یا زخم سے بہ راہِ راست رابطہ ہو، وہاں احتیاط کی ضرورت ہے، مگر عام میل جول میں کسی قسم کے خوف کی ضرورت نہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ان دونوں چیزوں میں فرق نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں مریض غیر ضروری تنہائی اور اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
آخرِکار یہ ماننا پڑے گا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف جنگ صرف ادویہ سے نہیں جیتی جاسکتی۔ یہ جنگ شعور، ہم دردی اور درست معلومات سے جیتی جاتی ہے۔ جب تک ہم اپنے رویوں کو تبدیل نہیں کریں گے، تب تک یہ بیماری صرف جسموں ہی نہیں، بل کہ دلوں کو بھی متاثر کرتی رہے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مریض سب سے پہلے انسان ہے، اور انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ اُسے جینے کا پورا حق دیا جائے۔ (ختم شد!)
مشکل اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’ایچ آئی وی‘‘ (HIV) اور ایڈز میں بنیادی فرق:۔ایچ آئی وی دراصل ایک وائرس ہے، جو جسم کے ’’مدافعتی نظام‘‘ (Immune System) پر حملہ کرتا ہے اور اسے کم زور کرتا ہے، جب کہ ایڈز باقاعدہ ایک بیماری یا ایسی حالت ہے، جو اُس وقت پیدا ہوتی ہے، جب ایچ آئی وی بہت زیادہ بڑھ جائے اور مدافعتی نظام اتنا کم زور ہو جائے کہ جسم عام انفیکشنز اور بیماریوں سے لڑنے کے قابل نہ رہے۔
2) میڈیکل سائنس (Medical Science):۔ میڈیکل سائنس وہ علم ہے جو انسانی صحت کو سمجھنے اور بہتر بنانے کے لیے بیماریوں کی وجوہات، تشخیص، علاج اور بچاؤ پر کام کرتا ہے۔
3) ’’اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی‘‘ (Antiretroviral Therapy, ART):۔ یہ ایچ آئی وی کے مریضوں کو دی جانے والی دواؤں کا مجموعہ ہے جو وائرس کو بڑھنے سے روکتا ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھتا ہے۔
4) ’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘‘ (World Health Organization):۔ یہ اقوامِ متحدہ کا عالمی ادارۂ صحت ہے، جو دنیا بھر میں صحت کے مسائل پر رہنمائی اور تعاون فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ بیماریوں کی روک تھام، علاج، ویکسینیشن، اور صحت کے معیار بہتر بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔
5) ’’اینٹی ریٹرو وائرل میڈیسنز‘‘ (Antiretroviral Medicines):۔ یہ وہ دوائیں ہیں جو ایچ آئی وی وائرس کو جسم میں بڑھنے سے روکتی ہیں۔ یہ وائرس کو ختم نہیں کرتیں، لیکن اُس کی افزایش کو روک کر مریض کے مدافعتی نظام کو مضبوط رکھتی ہیں اور ایڈز کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔
6) ’’جین تھراپی‘‘ (Gene Therapy):۔ یہ ایک ایسا علاج ہے، جس میں خراب یا بیمار جین کو درست یا بدل کر بیماری کا علاج کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر موروثی (Genetic) بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاکہ جسم کے خلیات صحیح طریقے سے کام کرسکیں۔
7) ’’ادویہ‘‘ (’ادویات‘ غلط املا):۔ اُردو املا پر سند کی حیثیت رکھنے والے رشید حسن خان کی کتاب ’’انشا اور تلفظ‘‘ کے صفحہ نمبر 66 پر لفظ ’’اَدوِیہ‘‘ درج ملتا ہے، نہ کہ ادویات۔ اس کے معانی ’’دوا کی جمع‘‘ درج ہیں۔ نیز یہی املا (ادویہ) اُردو کی مستند لغات ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ اور ’’نور اللغات‘‘ میں بھی درج ہے۔ اس لیے ’’ادویات‘‘ کی جگہ ’’ادویہ‘‘ ہی استعمال میں لانا بہتر ہے۔
تحریر میں شامل سبھی نمایاں مشکل اصطلاحات (سوائے املائی غلطی کے) کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے