کرپشن بیوروکریسی تک محدود نہیں

Blogger Ikram Ullah Arif

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ایک سینیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کے ایک افسر کے پاس پچاس ارب سے زائد اثاثے ہیں۔
سینیٹر صاحب کے بہ قول، یہ آمدن سے زیادہ اثاثوں کا ایک ’’پرفیکٹ کیس‘‘ ہے اور نیب کو اس حوالے سے دیکھنا چاہیے۔
سینیٹر نے اُس افسر کا نام تو نہیں بتایا، مگر یہ ضرور کہا کہ وہ پوری ذمے داری کے ساتھ یہ بات کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں آپ نے میڈیا پر سنا اور دیکھا ہوگا کہ کچھ ہفتوں قبل وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بیان دیا تھا کہ درجنوں بیوروکریٹس نے پرتگال میں زمینیں خرید رکھی ہیں اور وہاں کی شہریت بھی حاصل کی ہوئی ہے…!
مگر یہ دونوں بیانات مشتِ نمونہ از خروارے کے مصداق سمجھ لیجیے۔ کیوں کہ مالی کرپشن کو تو اب ایک بڑی حد تک غلط سمجھا ہی نہیں جاتا۔
اب دیکھ لیجیے کہ جب سے حکومت نے ایران-اسرائیل جنگ کے تناظر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا، تو عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ کفایت شعاری کے اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا، جن میں سرکاری عمال کے لیے تیل کی حد کم کرنا بھی شامل ہے… مگر اس کے بعد بھی ایک باخبر صحافی دوست نے خبر دی ہے کہ بڑے بڑے افسران کے پاس درجنوں گاڑیاں موجود ہیں۔ اُن افسران کے بچے، بھائی، رشتے دار اور بعض کے قریبی عزیز بھی سرکاری گاڑیوں اور پیٹرول کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
بات گھوم پھر کر پھر اسی نکتے پر آ جاتی ہے کہ مالی کرپشن کو اب ’’کرپشن‘‘ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ یہ اس لیے بھی ہوتا ہے کہ مالی کرپشن سے پہلے انسان اخلاقی کرپشن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یوں جب ایک بار اخلاقیات کا جنازہ پڑھ لیا جاتا ہے، تو مالی کرپشن کو ’’غلط‘‘ سمجھنے والی ذہنیت کی تدفین پھر آسان ہو جاتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف سرکاری اہل کار اور سیاست دان ہی کرپشن کرتے ہیں… کیا ہم باقی لوگ دودھ کے دھلے ہیں؟ میرے لیے تو اس سوال کا جواب نفی میں ہونا حیران کن نہیں۔ کیوں کہ مَیں اپنی پاک دامنی کا دعوا قطعاً نہیں کرسکتا اور نہ کسی اور پر بغیر ثبوت کے الزام ہی لگا سکتا ہوں۔ بس جو کچھ آنکھوں دیکھا ہو، بلا کم و کاست وہی بیان کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد فیصلہ دوسروں پر چھوڑ دیتا ہوں۔
مبارک مہینا ’’رمضان‘‘ اپنے آخری عشرے کے آخری لمحوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس مبارک مہینے میں ایک سرکاری ملازم صبح دفتر آتا ہے اور دوپہر کے بعد چھٹی کر جاتا ہے، مگر ان تمام دنوں میں اُسے صرف ایک دن کمپیوٹر کھول کر دفتر کا کام کرتے دیکھا گیا ہے۔ حالاں کہ وہ بھرتی ہی کمپیوٹر آپریٹر کی پوسٹ پر ہوا ہے۔ باقی سارا دن وہ موبائل پر بیش تر قرآنِ پاک کھول کر تلاوت کرنے میں مصروف رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ سرکاری دفتر میں سرکاری کام کرنے آتا ہے، یا تلاوت کرنے…؟ حکومت اسے تن خواہ سرکاری کام کے لیے دیتی ہے، یا قرآن پاک کی تلاوت کے لیے؟
اسی طرح ایک پی ایچ ڈی میڈم صاحبہ ہیں۔ اُن کا بنیادی کام پڑھانا ہے، مگر اکثر اُنھیں دفتر میں قرآنِ پاک کھول کر تلاوت کرتے دیکھا جاتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ سرکاری دفتر میں سرکاری کام سے پہلو تہی کرکے تلاوت کو ثواب کی نیت سے کرنا، کام کچھ نہ کرنا اور تن خواہ پوری لینا، کرپشن ہے یا نہیں…؟
راقم کو ایک نہایت باوثوق ذریعے نے بتایا ہے کہ ایک سرکاری گرلز پرائمری اسکول میں ایک میم صاحبہ نے اس رمضان میں ایک لفظ بھی بچوں کو نہیں پڑھایا۔ وہ صبح آتی ہیں اور قرآنِ پاک کھول کر تلاوت کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔ جب یہ بات ہیڈ ٹیچر صاحبہ کے نوٹس میں لائی گئی، تو اُنھوں نے بے بسی کا اظہار کیا۔
اسی طرح آپ بازار میں قسائی کے پاس جائیں، پیسے آپ سے خالص گوشت کے لے لیے جاتے ہیں، مگر جو کچھ دیا جاتا ہے، اس میں گوشت کم اور ہڈیاں، چھیچھڑے اور چربی وغیرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یہ تو رہے دنیاوی معاملات… کبھی تراویح کے اوقات میں مساجد کا دورہ کیجیے، تو توہینِ مسجد کے مناظر بھی نظر آ جائیں گے۔ نوجوان لڑکے تراویح پڑھنے کے بہ جائے مساجد میں بے ہودہ گپ شپ کے لیے جمع ہو جاتے ہیں۔ آج کل تو اعتکاف پر بیٹھے بعض نوجوان بھی موبائل فون پر فلمیں دیکھنے سے باز نہیں آتے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کرپشن صرف سرکاری اہل کاروں اور سیاست دانوں تک محدود نہیں، بل کہ ہم میں سے اکثریت کسی نہ کسی حد تک اس میں ملوث ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسروں کی کرپشن ہمیں نظر آتی ہے، جب کہ اپنی کرپشن ہمیں ’’غلط‘‘ محسوس نہیں ہوتی۔
آخری گزارش یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں ڈیوٹی کے اوقات میں تلاوت کرنے والوں سے گزارش ہے کہ اپنی تن خواہ بھی غریبوں میں تقسیم کر دیا کریں، تاکہ آپ کو زیادہ ثواب حاصل ہوسکے۔ کیا ایسا کرپائیں گے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے