امریکہ، اسرائیل و ایران تنازع: پاکستان کو درپیش چیلنجز

Blogger Fazal Manan bazda

دنیا اس وقت جس بے چینی اور اضطراب سے گزر رہی ہے، اس کی وجہ مختلف خطوں میں جاری جنگیں ہیں۔ کہیں سرحدی تنازعات ہیں، کہیں نظریاتی اختلافات اور کہیں طاقت اور توازن کی کش مہ کش۔
پہلی جنگِ عظیم سے لے کر آج تک ان جنگی اقدامات نے ثابت کیا ہے کہ جنگ خواہ کسی بھی نام سے لڑی جائے، اس کا اصل بوجھ ہمیشہ عام انسان ہی اٹھاتا ہے۔ کیوں کہ جنگ سماجی، معاشی اور انسانی زندگی میں خلل کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات انقلاب اور ردِ انقلاب میں کش مہ کش کی وجہ سے ’’سول وار‘‘ جنم لیتی ہے۔ جنگ میں اگرچہ کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی، پھر بھی جنگ جیتنے والے جنگ و جدل کو ایک خوب صورت اور خوش نما شے کے طور پر بیان یا پیش کرتے ہیں، مگر جنگوں کی حقیقت صرف اُن لوگوں کو معلوم ہے، جو جنگ کی تباہ کاریوں سے گزرے ہوں… اور صرف وہی لوگ بتلا سکتے ہیں کہ جنگ کا ٹل جانا اُن کے لیے کیسے ذہنی سکون کا سبب بنتا ہے؟
جنگ و جدل میں بے گناہ انسانوں کے قتلِ عام کے ساتھ ساتھ سکول، کالج، ڈیم، پل، سڑکیں، کارخانے، ایئرپورٹس اور دیگر انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ جنگوں سے صرف عمارتیں ہی نہیں گرتیں، بل کہ ایک پوری نسل کے خواب بکھر جاتے ہیں۔ تعلیمی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، ہسپتالوں پر دباو بڑھ جاتا ہے اور بنیادی سہولیات نایاب ہو جاتی ہیں۔
جنگ صرف جسمانی تباہی کا سبب نہیں بنتی، بل کہ ذہنی اور نفسیاتی زخم بھی چھوڑ جاتی ہے۔ خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی لوگوں کے مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بچے جو جنگ میں جوان ہوتے ہیں اور روز بمباری کی آوازیں سنتے ہیں، اُن کے لاشعور میں امن کا تصور کم زور ہو جاتا ہے اور وہ ہر وقت تشدد پر کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ ماؤں کو ہر وقت بچوں کی سلامتی کی فکر لاحق رہتی ہے اور اُن کے دل میں زندگی کی خوشیاں ماند پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔
دنیا میں جنگی حالات اور جنگی اقدامات سے کروڑوں انسان بھوک، افلاس اور بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ لاکھوں لوگ آبائی علاقوں سے مہاجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں… اور یہ جنگ کے وہ اثرات ہیں جو کسی رپورٹ یا اعداد و شمار میں مکمل طور پر بیان نہیں کیے جاسکتے۔
عالمی طاقتیں اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتی ہیں اور اُن فیصلوں کے اثرات کم زور ممالک کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ذاتی خواہش کی تکمیل کے لیے کشیدگی کو برقرار رکھنا ضروری سمجھتے ہیں، تاکہ طاقت کا توازن برقرار رہے۔ کشیدگی برقرار رکھنے میں اُن کی جنگی صنعتیں قائم و دائم رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جنگیں ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہیں۔
1945ء سے لے کر آج تک ایک اندازے کے مطابق اب تک 280 کے قریب چھوٹی اور بڑی جنگیں ہوچکی ہیں، جن میں بعض خانہ جنگیاں بھی شامل ہیں۔ ان میں کہیں جنگوں میں امریکہ اور مغربی اتحادی کسی نہ کسی طرح حصہ دار رہے ہیں۔
’’حقیقی ریاست‘‘ اور ’’مافیا ریاست‘‘ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حقیقی ریاست کے حکم ران ریاست کو بین الاقوامی سطح پر قائم اصولوں اور قواعد و ضوابط کے تحت چلاتے ہیں، جب کہ مافیا ریاست ایک مادر پدر آزاد قسم کی دہشت انگیز اور وحشیانہ اسلوبِ شناخت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا نے صدیوں سے انسانوں کو اس خود غرضانہ، مجرمانہ اور وحشیانہ پن سے بچانے کے لیے کوششیں جاری رکھی ہیں، لیکن بعض مافیائی ریاستیں دنیا کے امن کو تباہ و برباد کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسرائیل آج کی ’’مافیائی ریاستیں‘‘ ہیں۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طور پر 28 فروری 2026ء کو شروع کی گئی جنگ، جس کے لیے مشاورت اور تیاری کئی ماہ سے جاری تھی… جب کہ دوسری جانب جون 2025ء کی جنگ میں کافی نقصان اٹھانے والے ایران نے جون کی 12 روزہ جنگ سے بہت کچھ سیکھا تھا اور ایران نے اُسی وقت سے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیاری شروع کر دی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائیوں اور اس کے جواب میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں شہری پہلے بھی ہلاک ہوچکے ہیں اور اب بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ دونوں فریقین کا دعوا ہے کہ اُن کے اقدامات درست اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں، جب کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2 (4) کہتا ہے کہ کوئی بھی ریاست دوسری ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکتی۔ اس طرح آرٹیکل 51 ریاستوں کو مسلح دفاع کی اجازت دیتا ہے، لیکن حملے کو جائز ثابت کرنے کے لیے فوری طور پر ناقابلِ تردید ثبوت درکار ہوتے ہیں… لیکن امریکہ اور اسرائیل نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
اب یہاں اقوام متحدہ کا کردار باقی رہا ہے اور نہ بین الاقوامی قانون ہی نظر آتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے عرب اور خلیجی ریاستوں سمیت پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کار یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس جنگ کے پاکستان پر سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ چوں کہ پاکستان کی افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی عروج پر ہے، اس لیے پاکستان ایران کے ساتھ ایک غیر مستحکم سرحدی صورتِ حال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
1870ء میں انگریزوں نے بلوچوں کو ایران اور پاکستان میں تقسیم کر دیا تھا اور آج دونوں جانب کے بلوچ قبائل پر مشتمل نسلی اور فرقہ وارانہ گروہ ’’جیش العدل‘‘ علاحدگی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘ اور ’’بلوچستان لبریشن فرنٹ‘‘ پاکستان کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں۔
اب اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کا تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے اور ایران میں ریاستی نظم و نسق کم زور پڑتا ہے، تو نتیجے میں سرحدی علاقے شدت پسندوں اور علاحدگی پسندوں کے لیے زرخیز میدان بن سکتے ہیں… جس سے پاکستان کو اندرونی سیکورٹی کے مزید سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور پاکستان چین اقتصادی راہ داری کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کار یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری بھی آسکتی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ بیان کہ تل ابیب کو ایرانی فضاؤں پر مکمل غلبہ حاصل ہے، پاکستان کی تزویراتی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
پاکستان ہرگز یہ نہیں چاہے گا کہ اسرائیل کا اثر و رسوخ ایرانی فضائی حدود سے بڑھتا ہوا پاکستان کی سرحد تک پہنچے… اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیلی فضائی رسائی پاکستان کی سرحد تک ہو جائے گی اور مشرقِ وسطیٰ کا سیکورٹی بحران پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
امریکہ اور اسرائیل اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی میں کام یاب ہوتے ہیں، تو یہ پاکستان کے لیے ایک اور مسئلہ پیدا کرے گا۔ اگرچہ پاکستان ایران میں اسرائیل نواز حکومت کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکتا… کیوں کہ اس طرح پاکستان افغانستان، بھارت اور ایران جیسے دشمن ریاستوں کے نرغے میں گھر جائے گا۔ اس لیے حکم رانوں اور اپوزیشن جماعتوں کو یک جہتی کے ساتھ تدبر اور حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے