قومی تڑون جرگہ، دیر آید درست آید

Blogger Sajid Aman

ضلع سوات کی سطح پر قائم ’’سوات قومی جرگہ‘‘ کو غیر متنازع حیثیت حاصل ہے۔ برے سے برے وقت میں دھمکیوں اور جان سے جانے کے خطروں کے باوجود سوات قومی جرگہ نے گرینڈ سوات جرگہ کی حیثیت سے اپنی طاقت، استقامت اور پائیداری دکھائی۔
سوات قومی جرگہ اگرچہ غیر سیاسی ہے، مگر سوات کے عوام کے تمام سیاسی، ذاتی، خاندانی، علاقائی اور دیگر اختلافات سے بالاتر ہوکر نہ صرف منظم، مستحکم اور فعال ہے، بل کہ یہ سوات بھر کے عوام اور ساتوں تحصیلوں کی نمایندگی کرتا ہے۔
ساجد امان کی دیگر تحاریر:
مینگورہ (کل اور آج)
غلام غوث: معروف کاروباری و سماجی شخصیت
مینگورہ شہر کے ملک خاندان کا المیہ
ایمان اداس کی کہانی: کچھ اُن کی کچھ میری زبانی

قارئین، جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ’’جرگہ‘‘ پختون روایات میں اعلا مقام رکھتا ہے۔ اس کی اقسام اور مقاصد ہوتے ہیں، جو چم یا محلے کی سطح سے لے کر قومی سطح تک پھیلے ہوتے ہیں۔ تحصیلِ بابوزئی سوات کا مرکزی شہر، دارالحکومت اور دل ہے، مگر بدقسمتی سے ’’میٹروپولیٹن کلچر‘‘ نے پختون کلچر پر غلبہ حاصل کرلیا اور جرگہ، جو محض ایک رسم نہیں، بل کہ پختون روایات کا بنیادی جزو اور معاشرتی ضرورت ہے، سے تحصیلِ بابوزئی محروم رہی۔ جرگہ نہ صرف مقامی فیصلے کرتا ہے، بل کہ دوسرے علاقوں میں جا کر ثالثی کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سوات میں قومی سطح پر ’’سوات قومی جرگہ‘‘ ایک موثر آواز ہے، جو دہشت گردی کے خلاف اور امن کے لیے پوری قوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ’’موٹر وے‘‘ اور ’’سیکشن فور‘‘ جیسے مسائل پر بھی سوات کی وکالت کرتا ہے۔ اگر ہم اس کے دائرۂ کار کو محدود کریں، تو دہشت گردی اور امن، تحصیلِ بابوزئی کے بھی اہم مسائل ہیں، مگر شاید ’’موٹر وے‘‘ متاثرین اور ’’سیکشن فور‘‘ جیسے مسائل اس تحصیل کے بڑے مسائل میں شامل نہیں۔ یہاں کے بڑے مسائل میں شہری سہولیات کی فراہمی کے لیے عوام کو یک جا کرنا اور خاندانی دشمنیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔
مثال کے طور پر ملک خاندان میں سانحوں پر سانحے ہوئے، مگر ایک مؤثر جرگے کی عدم موجودگی ایک خلا ہے، جسے ’’قوی تڑون جرگہ‘‘ بہ خوبی پُر کرسکتا ہے اور مستقبل میں فریقین کو امن سے رہنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تحصیلِ بابوزئی میں زیادہ تر مقامی لوگ یا تو ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں، یا خاندانی تعلقات اُس درجے کے ہیں، جو رشتے داری کے قریب ہیں۔ ’’قومی تڑون جرگہ‘‘ کو تحصیل کی سطح کا جرگہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
قومی تڑون جرگہ کے کرنے کے کام:۔
٭ منشیات فروشی اور منشیات کا استعمال شہری زندگی کا ایک مکروہ حصہ ہے، جس کے مقابلے کے لیے عوامی بیداری، شعوری کاوش اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ترجیح بنانا اس جرگے کے لیے چنداں مشکل نہ ہوگا۔
٭ اس وقت تحصیلِ بابوزئی میں کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں، اُن کی بہ حالی اور اس مقصد کے لیے جد و جہد بھی یہ جرگہ بہ خوبی کرسکتا ہے۔
٭ ترقیاتی منصوبوں پر مکمل نظر رکھنا اور ماضی میں بیوٹیفکیشن کے نام پر ہونے والی کرپشن جیسے واقعات دوبارہ نہ ہونے دینا بھی ’’قومی تڑون جرگہ‘‘ کا کام ہوگا۔
٭ تحصیلِ بابوزی میں تعلیمی اداروں کی کمی کے باعث ہر سال سیکڑوں بچے میٹرک سے آگے نہیں پڑھ پاتے، اس کے لیے بھی جرگہ متحرک ہوسکتا ہے۔
٭ ملاکنڈ ڈویژن کے بڑے ہسپتال یہاں موجود ہیں۔ سول سوسائٹی نے خود ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف، وکلا اور تاجروں کو متحرک کرکے سرکاری ہسپتالوں کی نج کاری روکی اور مقتدر حلقوں کی سازش ناکام بنائی۔ گذشتہ دنوں ہسپتال میں ’’کیتھ لیب‘‘ غیر مؤثر ہو گئی اور نجی ہسپتالوں میں بھی دل کے امراض کے علاج کی سہولیات ختم کر دی گئیں۔ ان اُمور پر نظر رکھنا بھی جرگے کا کام ہوگا۔
٭ سیدوشریف قبرستان پر قبضے اور اس کے خلاف سیدو مینگورہ کے عوام کی جد و جہد طویل عرصے سے جاری ہے۔ جرگہ اس سلسلے میں پوری بابوزئی تحصیل کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرسکتا ہے اور بااثر افراد کو مجبور کرسکتا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر قبضے نہ کریں۔
٭ گریویٹی اسکیم میں موجود نقائص اور اس منصوبے کے ساتھ عالمی اداروں کی طرف سے سہولیات دینے کے وعدے، جنھیں منتخب نمایندے، ٹھیکے دار اور بیوروکریسی نے چھپا رکھا ہے، اگر تحصیلِ بابوزئی میں مضبوط آواز ہو، تو یہ سب باتیں چھپائی نہیں جاسکتیں…… اور مضبوط آواز جرگہ کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے!
بہ ہرحال، یہ کہنا بے جا نہیں کہ ’’قومی تڑون جرگہ‘‘ کا قیام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ پختون روایات کو تحصیلِ بابوزئی میں نمایاں ہونا چاہیے تھا اور ایک قومی آواز مؤثر انداز میں موجود ہونی چاہیے تھی۔ دیر سے سہی، مگر درست وقت پر قدم اٹھایا گیا ہے۔
اس جرگہ کے فوائد پورے ضلع اور ڈویژن کو حاصل ہوں گے اور اس سے ’’سوات قومی جرگہ‘‘ کو بھی تقویت ملے گی۔ یہ عوام میں بے زاری اور عدمِ تحفظ کا احساس ختم کرے گا، بہ شرط یہ کہ اس کی تشکیل عین پختون روایات کے مطابق کی جائے۔
سیاسی اور گروہی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام اسٹیک ہولڈرز کو قومی تڑون جرگہ میں نمایندگی دینا ہوگی۔ ہر نسلی گروہ کو برابر نمایندگی دی جائے۔ اس کے لیے ہم باچا صاحب اور والی صاحب کے دور کے جرگوں اور کمیٹیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ آج کے دور میں چوں کہ نئے اسٹیک ہولڈر بھی سامنے آئے ہیں، جیسے کاروباری طبقہ اور ان کے ذیلی طبقات، اُنھیں بھی نمایندگی دینا ضروری ہے۔ مینگورہ اور اردگرد کے قصبوں کے نمایندوں کو شامل کیا جائے اور نتیجتاً محلے اور قصبے کی سطح پر چھوٹی کمیٹیاں یا جرگے تشکیل دیے جائیں، تاکہ مرکزی جرگہ مزید مؤثر اور مفید ہو۔
تحصیلِ بابوزی کی سطح پر جرگے کا قیام انتہائی ضروری تھا اور اس کے لیے سوچنا بھی بابوزئی کے عوام ہی کا کام تھا…… مگر جیسا کہ ذکر ہوا، تحصیل کا ہر کونا ایک کاروباری مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس کارپوریٹ کلچر نے پختون روایات پر گہری گرد ڈال دی تھی۔ خیر ہو اُن لوگوں کی، جنھوں نے اسے محسوس کیا اور تحصیلِ بابوزئی کی دبی ہوئی آواز کو اُٹھانے کا سوچا۔
یاد رہے کہ قومی اتحاد قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ نہ صاحبِ اقتدار کو پسند آتا ہے، نہ اداروں کو، نہ انتظامیہ کو اور نہ سماج دشمن عناصر کو۔ اس لیے بہت سوجھ بوجھ سے قدم اٹھانا ہوں گے۔ یہ احساس دلانا ہوگا کہ یہ جرگہ نہ تو سوات قومی جرگہ کی ہیئت کو بدلنے آیا ہے، نہ اسے چیلنج کرے گا، نہ اس کے مقابل ہی کھڑا ہوگا۔ نیز کسی کے اشارے پر بنا ہے ، نہ عوامی طاقت یا سیاسی جماعتوں کی اِفادیت ختم کرنے کا منصوبہ ہی رکھتا ہے، بل کہ یہ ایک مشترکہ آواز ہے، جو انصاف اور پختون روایات کا امین رہے گا اور جس کے فیصلے عوامی مفاد اور انصاف پر مبنی ہوں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے