سنہ 1990ء کو ہمارے دادا مع خاندان محلہ وزیر مال سے محلہ امان اللہ خان (نشاط چوک) نقلِ مکانی کرگئے۔ اُس وقت ہماری عمر بہ مشکل نو یا دس سال ہوتی ہوگی۔ محلے کی جامع مسجد بھی ’’امان اللہ خان‘‘ ہی کے نام سے مشہور تھی، تاحال اسے ’’امان اللہ خان جمات‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
امجد علی سحاب کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sahaab/
محلے میں آتے ہی مَیں اس تجسس میں پڑگیا کہ ’’امان اللہ خان‘‘ کون ہیں؟ روزانہ مدرسے جاتے ہوئے مَیں اپنے والد (مرحوم) سے چونی (چار آنے) لیا کرتا۔ اُن دنوں ہمارا روئی کا چمکتا کاروبار تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔ ہماری دکان جس جگہ تھی، اب وہاں پر ایک بڑی مارکیٹ قایم ہے۔ یہ مارکیٹ ’’امان اللہ خان جمات‘‘ کے صدر دروازے کے سامنے اور (مرحوم) شیرزادہ ٹھیکیدار کے مکان کے عقب میں ہے۔ (مرحوم) باور خان منیاری والے کی دکان مذکورہ مارکیٹ میں آج بھی قایم ہے۔ مرحوم کا چھوٹا بیٹا آج سے چار پانچ سال پہلے اُس دکان میں بیٹھا دکھائی دیا تھا۔ اب ایک عرصہ ہوا وہاں سے اگر گزرا بھی ہوں، تو مذکورہ مارکیٹ کی طرف دھیان نہیں گیا ہے۔
قبلہ رُو کھڑے ہوکر ہماری روئی والی دکان کے سیدھے ہاتھ پندرہ بیس سیڑھیاں چڑھ کر ایک خوب صورت حجرہ اور اُس کی بالکونی واضح طور پر دکھائی دیتی۔ اس حجرے سے کئی بار ایک لمبی داڑھی والی نورانی سے چہرے کی حامل شخصیت اُترتی یا چڑھتی آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔
ذہن پر زور ڈالتا ہوں، تو مذکورہ شخصیت کا ناک نقشہ ذہن کے کینوس پر کچھ یوں بنتا دکھائی دیتا ہے: اکہرا بدن، دراز قد، چوڑی پیشانی، خوب صورت نیم باز آنکھیں، ستواں ناک، سیاہ گھنے بال، لمبی ڈاڑھی، موچھیں، ہر وقت سر پر ٹوپی پہنے، پائینچے ٹخنوں سے اوپر، ہمہ قوت سفید شلوار قمیص میں ملبوس…… یہ شخصیت کسی اور کی نہیں’’عظیم خان‘‘ (مرحوم) کی تھی۔




عظیم خان (مرحوم) کی نوجوانی کی تصویر۔ (بہ شکریہ عاصم خان)

عظیم خان اپنے لباس کا بطورِ خاص خیال رکھتے تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ کبھی اُنھوں نے سفید شلوار قمیص کے علاوہ کسی اور رنگ کا کپڑا پہنا ہو۔ پاس سے گزرتے، تو کپڑوں پر لگی مخصوص خوش بو مشامِ جاں کو مہکا دیتی۔
خدا بخشے جب تک عظیم خان حیات تھے، محلہ امان اللہ خان میں کسی چوکی دار کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ وہ دعوے سے کہتے کہ یہ میرا محلہ ہے۔ یہاں چور اُچکے غلطی سے بھی انٹر نہیں ہوسکتے۔ اس طرح کوئی لچا لفنگا یا بدمعاش ٹائپ لونڈے ہمارے محلے کی گلی کوچوں میں کھڑے یا گھومتے ہوئے کم از کم مجھے نہیں یاد۔
ہم اکثر شام کو مدرسے اور ٹیوشن سے واپسی کے وقت عظیم خان کو دور سے ایک نظر دیکھتے۔ وہ اکثر اپنے حجرے کی بالکونی میں کھڑے پائے جاتے یا پھر چھت سے محلے کی گلیوں کا جایزہ لیتے دکھائی دیتے۔ ان کے حجرے سے پورا محلہ دکھائی دیتا۔
نوابِ دیر پر قرضوں کی بارش کیوں؟:
https://lafzuna.com/history/s-30279/
کئی بار دن کے وقت انھیں گاڑی میں بازار کی جانب جاتے دیکھنا بھی یاد ہے۔ حجرے سے گاڑی نکالتے، تو راستے میں سبزی فروش ہتھ ریڑھی والے کھڑے ہوتے۔ راستہ تنگ ہوتا مگر کبھی انھیں ہارن بجاتے یا غصہ ہوتے نہیں دیکھا۔ آرام سے تب تک گاڑی کھڑی رکھتے جب تک ہتھ ریڑھی والا جگہ پا کر راستہ نہ دیتا۔
ہم عظیم خان کے بڑے بیٹے عاصم خان کے ساتھ اکثر ان کے حجرے کھیلنے جاتے۔ اس طرح حجرے یا گھر کا چھوٹا موٹا کام بھی کردیتے۔ حجرے پر کم از کم ہماری موجودگی میں جتنے بھی سایلین آئے، بلا مبالغہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے مَیں نے نہیں دیکھے ۔ عظیم خان اکثر نقد رقم کے ساتھ سایلین کو کھانا کھلانے کا بھی کہلواتے۔
ملکہ ازبتھ کا دورۂ سوات:
https://lafzuna.com/history/s-29653/
نشست کے آغاز میں ’’امان اللہ خان‘‘ کا ذکرِ خیر ہے۔ یہ تو بعد میں مولا خوش رکھے فضل رازق شہاب صاحب کی ایک تحریر (ایک ’’نر پختون‘‘ کی کہانی) چھاپتے ہوئے پتا چلا کہ موصوف کون تھے؟ شہاب صاحب اپنی تحریر کے ایک پیراگراف میں امان اللہ خان کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’ایک دفعہ فضاگٹ کے قریب کسی پاکستانی افسر نے جو سیر کے لیے ریاست آیا تھا، تارکول کے اسپرے کے دوران میں اپنی جیپ آگے لے جانے کی کوشش کی، تو امان اللہ خان نے اُسے جیپ سے اُترواکر اُس کی بڑی بڑی مونچھوں کو زور سے کھینچا، تو ایک طرف کی مونچھ اُن کے ہاتھ میں آگئی۔ اس واقعہ سے بڑا ’’ڈپلومیٹک ایشو‘‘ کھڑا ہوگیا، مگر مرحوم والی صاحب نے اس معاملے کو ٹھنڈا کروایا۔‘‘

امان اللہ خان (مرحوم) کی تصویر، جن کے نام پر محلہ امان اللہ خان آباد ہے۔

(مرحوم) عظیم خان، انھی امان اللہ خان کے بیٹے تھے۔ سابق امیدوار صوبائی اسمبلی اور عوامی نیشنل پارٹی کے راہ نما عاصم خان اور سالم خان دونوں (مرحوم) عظیم خان کے بیٹے ہیں۔
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
پھر ملیں گے اگر خدا لایا!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔