تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی
(’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا ستائیس واں لیکچر ہے، مدیر)
٭ کلیات کا مسئلہ اور افلاطون (Problem of Universals and Plato):۔ افلاطون کا یہ تصور تھا کہ جو مختلف انفرادی اور الگ الگ چیزیں ہمیں نظر آرہی ہیں، اگر ہم اُن کو ایک بڑے ڈِبے میں ڈال رہے ہیں اور کَہ رہے ہیں کہ یہ تمام چیزیں جو ہیں، ان کو ہم کہتے ہیں کہ یہ عالم گیر (یونی ورسل) ہیں، اور اس یونی ورسل میں مثلاً: یہ تمام چیزیں گھوڑے ہیں، فُلاں تمام چیزیں انسان ہیں، فُلاں بلیاں ہیں وغیرہ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تصورات جو ہیں یعنی انسان، مرد، عورت، گھوڑا، بلی، میز، کرسی وغیرہ…… یہ یونی ورسل تصورات جو ہیں، ان کی ہی بنیاد پر جو فرداً فرداً گھوڑے بنتے ہیں، یا فرداً فرداً بلیاں بنتی ہیں، یا فرداً فرداً انسان، مرد وعورت، کرسیاں یا میز وغیرہ جو بن رہی ہیں، وہ انھی بنیادی تصورات پر بنیاد ہیں جو کہ مثالی اور ساکن ہیں۔
مثال کے طور پہ جب ہم کرسی کا ذکر کرتے ہیں، تو آپ کے ذہن میں ایک خاکہ ضرور آجاتا ہے کہ کرسی یہ چیز ہوتی ہے، وہ زمین سے اُٹھی ہوگی، تین یا چار ٹانگیں ہونگیں، اتنی چھوٹی ہوگی، فُلاں قسم کی طرح اس کی ساخت ہوگی وغیرہ، مگر آپ کے ذہن میں کرسی کا کوئی بنیادی ایک تصور ہے، جب آپ کرسی کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرت کے اندر جو مختلف چیزیں ہمیں ملتی ہیں، تو کوئی ایسا اُس چیز کا تصور ہے کہ جس سانچے کی بنیاد پر وہ چیز اور مختلف چیزیں وجود میں آجاتی ہیں۔
اب وہ تصور کہاں پر ہے، کدھر ہے، وہ تصور کس کے ذہن میں ہے وغیرہ۔ وہ دراصل کسی فرد کے ذہن میں نہیں بلکہ ایک تصوراتی دنیا میں ہے۔ افلاطون کے مطابق ایک مثالی دنیا (Ideal World) میں ہے۔
افلاطون کی یہ اپروچ اس لیے تھی کہ شاید اُس کے ذہن میں فیثا غورث (Pythagoras) کے خیالات شامل تھے۔
ہم نے پچھلی اقساط میں یہ ذکر کیا ہے کہ فیثا غورث کے مطابق”The world is numbers.” یعنی ہر چیز جو دنیا میں پائی جاتی ہے، وہ ایک ریاضیاتی تناسب (Mathematical Proportion) میں ہے اور اس کے نیچے ریاضیاتی اصول کارفرما ہیں۔
افلاطون کو یہ تصور بہت پسند تھا۔ جس طرح سے ہم نے افلاطون کی قسط میں یہ پڑھا کہ افلاطون نے اپنے اکیڈمی پر لکھا تھا کہ "Let no man enter who does not know geometry.” افلاطون نے اپنے اکیڈمی کا نشان (Symbol) بھی مثلث (Triangle) رکھا تھا۔ بہرحال افلاطون کو یہ تصور بہت اچھا لگا کہ ریاضی جو ہے وہ دنیا کی اصل اور مطلق بنیاد ہے۔ ایک دفعہ اُس نے اپنا لیکچر سنانے کے لیے ایتھنز کے لوگوں کو بلایا کہ ہم اچھائی کو سمجھیں گے۔ لوگ اُدھر پہنچ گئے کہ اخلاقی لیکچر ہوگا، لیکن افلاطون نے لیکچر ریاضی پر دیا۔ لوگ پریشان اور نااُمید ہوجاتے ہیں کہ افلاطون نے تو سارا لیکچر ریاضی پر دیا اور ہم تو کچھ اور سمجھ رہے تھے۔ تو ریاضی کی کون سی بات تھی جو افلاطون کو اتنی پسند تھی ؟ دراصل افلاطون کو ریاضی کی یہ بات بہت پسند تھی کہ دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے، چاہے زلزلہ آجائے، چاہے پوری دنیا نیست و نابود ہوجائے، انسان ختم ہوجائے لیکن ریاضیاتی سچائیاں جو ہیں، وہ ختم نہیں ہوسکتیں…… یعنی ریاضی کا وقت اور حالات کے ساتھ اور مادے کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
تاریخ دُشمنی 
زندگی بارے کنفیوشس کا فلسفہ 
حضرت علامہ محمد اقبال کا فلسفہ  
امام غزالی کا فلسفہ پر اثر  
مثال کے طور پر دو جمع دو چار ہی ہوں گے، ہمیشہ ہوں گے، چاہے کچھ بھی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افلاطون کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ”Mathematical truths are absolute.”یعنی ریاضیاتی سچائیاں مطلق ہیں، جو کہ زمان و مکاں اور مادے کے حالات پر منحصر نہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ ریاضی اس تبدیلی والی دنیا (ہیراکلائٹس والی دنیا) سے آزاد ہیں۔
یہ جو تصور ہے کہ سچائی اُس قسم کی ہونی چاہیے کہ جس قسم کے ریاضیاتی ایگزیومیٹک سچائیاں (Mathematical Axiomatic truths)ہیں۔ ایگزیومیٹکل سچائیوں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو اپنی تعریف (Definitions) میں ہی سچ ہوں۔ تو افلاطون کا یہ خیال تھا کہ تمام جو دنیا کے اندر ہم چیزیں نکالتے ہیں، اُن کی بنیاد پہ کچھ اسی قسم کے سچ ہونا چاہیے جو کہ ریاضیاتی تصورات کی طرح کبھی تبدیل نہیں ہوتا…… یعنی تبدیلی کی دنیا کی بنیاد پہ کچھ ایسی تعریفیں (Definitions) اور تصورات ہیں جو ریاضیاتی تصورات کی طرح کھبی تبدیل نہیں ہوتے۔
مثال کے طور پر گھوڑے کا کوئی ایسا تصور ہے کہ جو جتنے مزید مختلف قسم کے گھوڑے بن جائیں، وہ تصور اپنی جگہ سے ایک ریاضیاتی سچائی کی طرح کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔
افلاطون کا جو علمیاتی نظریہ یا ’’تھیری آف نالج‘‘ ہے، اُس کو ڈیولزم/ ثنویت (Dualism) کہتے ہیں (جس کا ہم پچھلی قسط ’’افلاطون کی ڈیولزم/ ثنویت‘‘ میں ذکر کرچکے ہیں۔)
دو پہلو یا دو سطح (Levels) پر یہ علمیاتی نظریہ بنتا ہے۔
٭ تصوراتی اور مثالی دنیا (World of Forms/Mind):۔ ایک لیول پہ وہ تصورات جو کہ اس دنیا میں نہیں بلکہ ایک تصوراتی دنیا میں ہیں، ایک مثالی دنیا میں ہیں اور وہ مثالی دنیا ’’پرمینڈیز‘‘ کی دنیا ہے یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور وہ ’’ایگزیومیٹکلی‘‘ اور ریاضی کی طرح سچ ہوتی ہے، یعنی اس میں ایک مثلث بالکل ایک مثلث ہوتا ہے وغیرہ اور وہ کبھی تبدیل بھی نہیں ہوتا۔
٭ مادی دنیا (World of Matter /Body):۔ اس تصوراتی دنیا کی بنیاد پر ہمیں مادے کی دنیا نظر آتی ہے جوکہ ہیراکلائٹس کی دنیا ہے، جس کے اندر ہر وقت تبدیلی نظر آتی ہے…… مگر تبدیلی بھی جو اُس کے اندر نظر آتی ہے، وہ ایک لیول پہ جو تصورات کی دنیا ہے، اس سے جڑی ہوئی ہے۔ اور اس کے اِرد گرد گھومتی رہتی ہے۔ جیسے گھوڑے کا جو مادی تصور ہے، وہ اسی تصوراتی دنیا کے اِردگرد ہی گھومتا رہتا ہے۔ یعنی دو قسم کی دنیا ہے؛ تصوراتی دنیا (World of Forms/ Mind) اور مادی دنیا یعنی (World of Matter/ Body)۔
جو مادی دنیا ہے، وہ ہر وقت تبدیل ہورہی ہے اور یہ تبدیلی ہم اپنی حسیات (Senses) سے دیکھ اور محسوس کررہے ہیں۔ دوسری دنیا تصوراتی دنیا ہے، جس میں نہ تبدیل ہونے والی تصوراتی سچائیاں ہیں۔
باقی آیندہ!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔