ایک برخوردار نے 11 مارچ 2019 ء کو شایع شدہ اپنے کالم بہ عنوان ’’نوابِ دیر کو محل تعمیر بارے انگریز سرکار سے ملنے والا قرضہ‘‘ میں اس بات کا جایزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ انگریز سرکار نے نوابِ دیر کو 1935ء میں دو لاکھ روپے کا قرضہ دیا تھا جسے اُسے بیس سال میں واپس کرنا تھا۔ اپنے کالم کی ابتدا میں برخوردار نے ’’متحدہ ہندوستان میں لگ بھگ 565 نوابی‘‘ ریاستوں اور ان کے حکم رانوں کو انگریز حکومت سے باقاعدگی سے سالانہ وظیفہ یا الاؤنس ملنے کی بات ہے۔
ڈاکٹر سلطانِ روم کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/dr-sultan-e-rome/
وہ مزید لکھتا ہے کہ ’’دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ ریاستوں کے حکم رانوں نے ان الاؤنسز پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہندوستان میں برطانوی حکومت سے ذاتی حیثیت میں قرضہ بھی طلب کیا اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ زیرِ نظرسطور بھی دیر اور چترال کی ریاستوں کے حکمرانوں کے ایسے ہی ذاتی قرضوں کے متعلق ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ’’یہ فائلز ٹٹولتے وقت یہ خیال ذہن میں انگڑائیاں لیتا رہا کہ اس ’لسٹ‘ میں ریاستِ سوات اور امب کے حکمرانوں کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ بہت دوڑ دھوپ کی لیکن ان دو ریاستوں کے حکمرانوں کے نام نہیں ملے۔ اگر ایک طرف دیر اور چترال کے حکمرانوں پر قرضوں کی بارش ہو رہی تھی، تو دوسری طرف اُس دور میں سوات کے حوالہ سے ایک اور مراسلہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔‘‘
برخوردار کی ان باتوں یا سوالوں کہ نوابِ دیر نے اس طرح کا ذاتی قرض کیوں لیا اور اس میں کوئی عارکیوں محسوس نہیں کی؟ اُس پر واقعی انگریزوں کی طرف سے قرضوں کی بارش ہو رہی تھی اور کیوں؟ قرضوں کی اس لسٹ میں سوات اور امب کے حکم رانوں کا ذکر کیوں نہیں؟ اور ریاستِ سوات کے حکم ران پر انگریز سرکار کی طرف سے واقعی مالی مدد کی بارش کی کوئی بوند نہیں گری، یا اس حوالے اُس سے امتیازی سلوک کرکے اُس پر نوازشات کی بارش کی جاتی رہی اور دیر اور چترال کے حکم ران محروم رکھے گئے؟ کے جوابات کی کوشش، بہ حیثیتِ مجموعی ، اُس کی اِسی تحریر کے مندراجات ہی کے ذریعے کی جانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ جو مبالغے اور مغالطے پھیلائے گئے ہیں اوریا مزیدپھیلائے جا رہے ہیں، اُن کی ممکنہ حد تک تصحیح ہوسکے۔
نوابِ دیر کو انگریز سرکار سے جن حالات میں قرض لینا پڑا، وہ برخوردار کے الفاظ میں یہ ہیں: ’’نوابِ دیر کی طرز حکومت، اور ریاست کے شہریوں کے ساتھ اُس کے طرز عمل کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔مکافات عمل دیکھئے کہ 27 اکتوبر 1935ء کی رات کو نوابِ دیر ’نواب محمد شاہ جہاں‘ کے شاہی محل میں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ آگ اتنی جلدی پھیل جاتی ہے کہ نواب اور اُس کے خاندان والوں کے لیے کوئی موقع نہیں ہوتا کہ وہ قیمتی سامان کو بچانے کے لیے دوڑ دھوپ کرسکیں۔ بعد ازاں ایک ٹیلی گرام ‘NORWEP’ پشاور سے نئی دہلی کو یکم نومبر 1935ء کو ارسال کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس مراسلے کی روانگی (Despatch) نمبر 501 تھا۔ اس ٹیلی گرام میں حکومتِ وقت کو مطلع کیا جاتا ہے کہ نواب کے محل میں آگ اس قدر خوفناک تھی کہ وہ اور اہلِ خانہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آگے لکھا گیا ہے کہ اگرچہ نواب اور دیگر کی جان بچ گئی ہے، لیکن کپڑے اور فرنیچر سب جل کر راکھ ہوگیا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نواب کا خزانہ بھی نہیں رہا، جس میں کرنسی نوٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔‘‘
دنیا کا پہلا فلسفی:
https://lafzuna.com/history/s-29574/
برخوردار آگے لکھتا ہے کہ ’’نوابِ دیر شاہ جہان دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آگ کی وجہ سے اُسے 30 تا 40 لاکھ تک کا نقصان پہنچا ہے۔ یہ مراسلہ یہاں تک محدود نہیں بلکہ اور بھی اس کے اندر سنسنی خیز انکشافات رقم ہیں۔ لکھتے ہیں کہ نواب اور اُن کے خاندان کے پاس رہنے کے لیے گھر تو کیا پہننے کے لیے دوسرا جوڑا کپڑے تک دستیاب نہیں۔ ان حالات میں ریاست کے وجود کو خطرہ درپیش ہے، اور وہ برطانوی حکومت سے مالی امداد کے لیے طلب گار ہے۔ نوابِ دیر اور ریاست تباہی کے دہانے پر ہیں اور اُس کو مالی امداد کی شدید ضرورت ہے۔ نوابِ دیر نے درخواست دی ہے کہ اُسے دیر کوہستان میں 40 ہزار درخت کاٹنے کی اجازت دی جائے، تاکہ وہ اس کی مدد سے اپنا محل دوبارہ بنواسکیں اور ریاست کے اُمور چلا سکیں۔‘‘
سنسنی خیز انکشافات کو آگے بڑھاتے ہوئے، برخوردار رقم طراز ہے: ’’نواب کی یہ درخواست انگریز سرکار اس بنا پر نامنظور کرتی ہے کہ اس سے اگر ایک طرف جنگلات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، تو دوسری طرف نواب کے لکڑی کے ’کنٹریکٹرز‘ کے ساتھ نزدیکی تعلقات استوار ہوجائیں گے اور وہ اس کے زیرِ اثر آجائے گا۔ یہ عمل مستقبل میں انگریز حکومت کے لیے مشکل پیدا کرسکتا ہے۔ چوں کہ ہر حالت میں نوابِ دیر کو مدد درکار تھی، اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ نواب کو دو لاکھ روپے کاقرضہ دیا جائے گا۔ یہ قرضہ انگریز حکومت کی طرف سے نوابِ دیر کو بغیر سود کے دیا گیا۔ اس قرضے کی واپسی کے لیے کچھ شرایط بھی رکھی گئیں۔ نوابِ دیر پر یہ بات لاگو کی گئی کہ یہ قرضہ اُسے 20 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ نوابِ دیر کو برطانوی حکومت کی طرف سے جو سالانہ الاؤ نس دیا جاتا تھا، اُس کی رقم 50,000 سالانہ ـبنتی تھی۔ چناں چہ ہر سال قرضہ کی مد میں اس رقم سے10,000 روپے کٹوتی شروع ہوئی۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے برخوردار لکھتا ہے کہ ’’ایک اور مراسلہ جو کہ 17 اپریل 1936ء کو اُس وقت کے پولی ٹیکل ایجنٹ ‘Major H.H Johnson’ نے ’این ڈبلیو ایف پی‘ (اب خیبر پختونخوا) کے چیف سیکریٹری کے نام بھیجا، اُس میں اس کٹوتی کا ذکر موجود ہے۔ اس مراسلہ سے یہ بات آشکارا ہوتی ہے کہ انگریز حکومت قرضہ واپسی کے معاملے میں کسی کو نہیں بخشتی تھی اور ایک ایک پیسہ واپس لینے پر یقین رکھتی تھی۔‘‘
آگے بڑھتے ہوئے، برخوردار ملاکنڈ میں متعین پولی ٹیکل ایجنٹ کا 12 مارچ 1940ء کو صوبائی چیف سیکریٹری کو ایک اور دلچسپ مراسلے کا اُس کی نظر سے گزرنے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’اُس خط میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ نوابِ دیر کے گھر میں چار سال پہلے جو آگ لگی ہوئی تھی، اُس سے ریاستِ دیر کی مالی پوزیشن بھی بہت کمزور ہوئی ہے۔ کیوں کہ اس آگ میں ریاست کے لاکھوں روپے بھی جل چکے ہیں اور بہت سا راسونا بھی پگھل کر ضائع ہوگیا ہے۔ انگریز سرکار کی وجہ سے نواب کے سالانہ الاؤنس سے 10 ہزار کی کٹوتی بھی ریاست پہ ایک مالی بوجھ ہے۔ اس مراسلہ میں نوابِ دیر کی مزید مالی مدد کی سفارش بھی کی گئی ہے۔‘‘
برخوردار کی تحریر کے مندرج بالا اقتباسات سے یہ بات عیاں ہے کہ نوابِ دیر کے محل میں آگ لگنے سے اُس پر کیا گزری؟ اُسے کن مشکلات اور مصایب کا سامنا کرنا پڑا؟ وہ اور اُس کے اہلِ خانہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچانے میں کامیاب تو ہوئے لیکن اُن کے کپڑے اور فرنیچرتک سب جل کر راکھ ہوگئے۔ اُس کے خاندان کا رہایشی گھر تو کیا اُن کے پاس پہننے کے لیے دوسرا جوڑا کپڑے تک نہیں رہے۔ اُس کا خزانہ بھی نہیں رہا، جس میں نہ صرف کرنسی نوٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا بلکہ ڈھیر سارا سونا بھی پگھل کر ضایع ہوا۔
اِن حالات میں بھی نوابِ دیر انگریز سامراج کو قرضہ نہیں بلکہ اپنی ہی ریاستی حدود میں دیر کوہستان میں 40 ہزار درخت کاٹنے کی اجازت کی درخواست دیتاہے، تاکہ وہ ان کی مدد سے اپنا محل دوبارہ بنواسکیں اور ریاستی اُمور چلا سکیں۔ لیکن استعماری سرکار اپنی پالیسی، مفادات اور خدشات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُسے دیر کوہستان میں اُن درختوں کے کاٹنے کی اجازت سے انکار کرتا ہے اور نوابِ دیر کو دو لاکھ روپے قرضہ دیتا ہے جس کا اُس نے درخواست نہیں دیا تھا۔ تاہم اپنی مالی خستہ حالی اور اشد ضروریات کی وجہ سے وہ انگریز استعمار ہی کی شرایط پر قرضہ لینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
برخوردار ہی کی تحریر کے مطابق، نوابِ دیر کو درپیش واقعے کی وجہ سے اُس کی مالی حالت نہایت پتلی ہونے کے باوجود انگریز استعمار نے، بغیر کسی رو رعایت اور وقفہ دینے کے، اگلے ہی سال سے اُس سے اس قرضہ کی کٹوتی اُس کو ادا کیے جانے والے سالانہ وظیفے سے شروع کی۔ اس سے واضح ہے کہ انگریز استعمار کویہ قرضہ دیتے وقت یہ مکمل اطمینان حاصل تھا کہ دیے گئے قرضے کی وصولی اُن کے ہاتھ میں ہے اور اس قرض کے ڈوبنے یا واپس نہ ملنے کا کوئی خدشہ ہی نہیں۔ اس کے باوجود بھی برخوردار کو قلق ہے کہ یہ قرضہ ’’نوابِ دیر کو بغیر سود کے دیا گیا۔‘‘
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ نوابِ دیر کو اپنی ہی ریاست میں درختوں کی کٹائی کے لیے انگریز سامراجی سرکار سے اجازت لینے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ اُس کی مجبوری تھی، اس لیے کہ یہ درخت کاٹنے کے بعد حاصل شدہ عمارتی لکڑی (ٹمبر) کو اُس سرکار کے زیرِ انتظام علاقوں میں فروخت کرنا تھا۔ انگریز استعمار کی ان درختوں کے کاٹنے کی اجازت نہ ہونے کی صورت میں کٹے ہوئے درختوں کا عمارتی لکڑی فروخت کرنا ممکن نہ تھا، اس لیے کہ انگریز اُنھیں اپنے زیرِ تسلط علاقوں میں ضبط کرتا یا اُن کی فروخت روک لیتا، لہٰذااس صورت میں وہ درخت ضایع ہوجاتے اور نواب کو اُن کے کاٹنے کا کوئی فایدہ نہ ہوتا۔
پکول مختلف تاریخی حوالوں کے تناظر میں:
https://lafzuna.com/history/s-29436/
برخوردار کی اپنی ہی بیان کردہ صورتِ حال کے تناظر میں اُس کی یہ بات بھی عجیب اور مضحکہ خیز ہے کہ ’’دلچسپ امر یہ ہے کہ کچھ ریاستوں کے حکم رانوں نے ان الاؤنسز پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہندوستان میں برطانوی حکومت سے ذاتی حیثیت میں قرضہ بھی طلب کیا اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ زیرِ نظر سطور بھی دیر اور چترال کی ریاستوں کے حکمرانوں کے ایسے ہی ذاتی قرضوں کے متعلق ہیں۔‘‘
برخوردار کے کالم کے مندرجات، اُس کی ان باتوں کے غیر معقول ہونے پر خود ہی دلالت کرتے ہیں۔ اُس کے کالم میں تو ایسی کوئی بات نہیں کہ نوابِ دیر نے انگریز استعمار سے قرضہ مانگا۔ اُس نے تو اپنی ریاست کے درخت کاٹنے کی اجازت مانگی تھی۔ درختوں کی کٹائی کی اجازت دینے کی بجائے انگریز استعمار کا اُسے اپنی شرایط پر قرضہ دینے پر مجبور کرنے پر (ایسے حالات میں کہ نواب کے پاس گھر رہا، نہ خزانہ اور نہ پہننے کے لیے کپڑوں کے دوسرے جوڑے ہی رہے) نوابِ دیر کو نہیں بلکہ انگریز استعمار کو ہدفِ تنقید بنایا جانا چاہیے۔
انگریز استعمار کوہدفِ تنقید بنانے کی بجائے نوابِ دیر پر تنقید کرنا اور یہ کہنا کہ اُس نے ’’برطانوی حکومت سے ذاتی حیثیت میں قرضہ بھی طلب کیا اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کی‘‘
ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہیے
کے مصداق ہی ہے۔
جہاں تک ریاستِ چترال کے حکم ران کی برطانوی استعماری حکومت سے قرضہ لینے کی بات ہے، تو برخوردار نے اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا ہے کہ ریاستِ چترال کے حکم ران نے یہ قرضہ کن حالات میں لیا؟ آیا یہ قرضہ اُس نے مانگا یا اُسے بھی نوابِ دیر کی طرح نامساعد حالات میں قرضہ لینے پر مجبور کیا گیا؟
اس کی مثال ایسی ہی ہوگی کہ سالوں بعد کوئی پاکستان میں اس سال، یعنی 2022ء، کے سیلاب کے تناظر میں یہ کہے کہ پاکستان پر سیلاب کی وجہ سے قرضوں کی بارش ہو رہی تھی اور قرضے بھی قرض دہندگان کی شرایط پر۔ جب کہ ان حالات میں پاکستان کو دوسروں کی شرایط پر قرضوں کی نہیں بلکہ امداد کی ضرورت ہے…… اور دنیا کو اُسے اِس آفت اور تباہی سے نمٹنے کے لیے امداد دینی چاہیے نہ کہ اپنی شرایط پر قرض۔
مذکورہ تناظر اور پس منظر میں، برخوردار متاسفانہ انداز میں اظہارِ خیال کرتا ہوا اپنے کالم کا اختتام ان الفاظ پر کرتا ہے کہ ’’یہ فائلز ٹٹولتے وقت یہ خیال ذہن میں انگڑائیاں لیتا رہا کہ اس ’لسٹ‘ میں ریاستِ سوات اور امب کے حکمرانوں کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ بہت دوڑ دھوپ کی لیکن ان دو ریاستوں کے حکمرانوں کے نام نہیں ملے۔ اگر ایک طرف دیر اور چترال کے حکمرانوں پر قرضوں کی بارش ہو رہی تھی، تو دوسری طرف اُس دور میں سوات کے حوالہ سے ایک مراسلہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ مراسلہ 27 اگست 1937 ء کو پولی ٹیکل ایجنٹ نے اُس وقت کے ’این ڈبلیو ایف پی‘ کے چیف سیکرٹری کو لکھا تھا۔ اس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے ریاستِ سوات کو تعلیم کے فروغ کے لیے محض 1800 روپیہ سالانہ دیا جاتا ہے جو کہ کسی طرح بھی اُس رقم کے برابر نہیں جو ریاست کے حکمران اپنے ہاں تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ موقع کی مناسبت سے اُستاد سوداؔ کا ایک شعر ذہن میں آرہا ہے اور اُسی پر کالم کا اختتام کرنا چاہوں گا کہ
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی‘‘
مذکورہ فائلز ٹٹولتے وقت، برخوردار کے ذہن میں یہ خیال انگڑائیاں لیتے رہنا کہ’’اس ’لسٹ‘ میں ریاستِ سوات اور امب کے حکمرانوں کا ذکر کیوں نہیں ہے؟‘‘ بھی عجب ہی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاستِ سوات اور امب کے حکم رانوں پر ایسی کوئی آفت نازل ہوئی تھی، جیسا کہ نوابِ دیر پر نازل ہوئی، اور اُنھوں نے انگریز استعمار سے کوئی امداد یا قرضہ نہیں لیا؟ اگر ریاستِ سوات اور امب کے ریاستوں کے حکم رانوں کو ایسے نامساعد حالات اور ایمرجنسی صورتِ حال درپیش نہیں ہوئی، یا ان کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تو پھر برخوردار کے ذہن میں مذکوہ خیال کا انگڑائیاں لینا اور ان دونوں ریاستوں کے حکم رانوں کے نام ڈھونڈنے کے لیے ’’بہت دوڑ دھوپ‘‘ کرنا عجیب ہے۔ اس صورتِ حال میں قرضوں کی اس لسٹ میں ریاستِ سوات اور امب کے حکم رانوں کا ذکر نہ ہونے یا نہ ملنے میں اچھنبے اور تعجب کی کوئی بات اور تُک نہیں بنتی۔ اور ریاستِ دیر اور ریاستِ چترال کے حکم رانوں کو انگریز سامراج سے مذکورہ ایک دفعہ کے قرضوں کو اُن پر’’قرضوں کی بارش‘‘ سے تعبیر کرنا بھی عجیب ہی ہے۔
رہی یہ بات اور اس پر تعجب کہ ’’27 اگست1937 ء کو پولی ٹیکل ایجنٹ‘‘ کی اُس وقت کے صوبائی چیف سیکرٹری کو لکھے گئے خط میں ’’اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے ریاستِ سوات کو تعلیم کے فروغ کے لیے محض 1800 روپیہ سالانہ دیا جاتا ہے جو کہ کسی طرح بھی اُس رقم کے برابر نہیں جو ریاست کے حکمران اپنے ہاں تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ’’موقع کی مناسبت سے اُستاد سوداؔ کا ایک شعر ذہن میں آرہا ہے اور اُسی پر کالم کا اختتام کرنا چاہوں گا کہ
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی‘‘
توجیسا کہ واضح ہے کہ نوابِ دیر کو انگریز استعمار نے امداد نہیں بلکہ کن نامساعد حالات میں اپنی شرایط پر قرضہ دیا، لیکن اُس پر بھی برخوردار کو افسوس نہیں بلکہ تعجب اورقلق ہے کہ یہ بارش نوابِ دیر پر کیوں کی گئی اور ریاستِ سوات کا حکم ران اس قسم کے قرض سے کیوں محروم رہا؟
کیا تاریخ فایدہ مند ہے؟:
https://lafzuna.com/history/s-29262/
دوسری جانب حکم رانِ راستِ سوات کو تعلیم کے فروغ کے لیے سالانہ دی جانے والی 1800 روپے امداد جو کہ قرض بھی نہیں تھی، کہ جسے اُس کو دیے جانے والے سالانہ وظیفہ سے طاقت کے زور پر سالانہ ہی کاٹا جاتا، کو ’’محض 1800 روپیہ سالانہ‘‘ قرار دے کر اُسے سراہنے کی بجائے اُس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اُستاد سوداؔ کے ایسے شعر پر اپنے کالم کا اختتام کیا ہے جس کا مذکورہ تناظر میں پیش کرنے یا اس کے ذریعے مجبوراً ایک بار کے واپس کرنے والے قرض اورنہ واپس کرنے والی سالانہ امداد کا موازنہ کیا گیا ہے، جن میں موازنے کا کوئی جواز اور تُک نہیں بنتی۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ آج کل کا ’’محض 1800 روپیہ‘‘ نہ تھا۔ اُس دور کے 1800 روپے کی قدر کتنی تھی؟ اُس سے ان کی قدر کا اندازا لگایا جانا چاہیے۔
اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ تاریخ نویسی میں تخلیقی صلاحیت اور استنباط اہم کرادر ادا کرتے ہیں، یا تخلیقی صلاحیت اور استنباط سائنسی تاریخ کے اہم عناصرہیں۔ مورخین میں وہ سب سے عظیم نکلے ہیں جو باقیوں کے مقابلے میں تخلیقی صلاحیت اور استنباط میں سب سے عظیم تھے، نہ کہ وہ جو صرف بیسیار نویس ہیں۔ تاریخ میں توجیح اور استنباط کے لیے اونچے اور اعلا درجے کی بصیرت اور ذکاوت درکار ہے۔ تاریخ نویسی صرف واقعات لکھنا نہیں بلکہ اُن واقعات سے استنباط کا عمل ہے۔
جس چیز پر برخوردار نے تعجب کا اظہار کیا ہے، یعنی1937ء میں حکم ران ’’ریاستِ سوات کو تعلیم کے فروغ کے لیے محض 1800 روپیہ سالانہ‘‘ امداد دینا، اِس نے اُن لوگوں کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے کہ ریاستِ سوات میں تعلیم کے میدان میں جو ترقی ہوئی وہ سب ریاستِ سوات کے اپنے وسایل اور کوششوں ہی سے کی گئی اور اس ضمن میں انگریزیا پاکستانی حکومتوں کی طرف سے ریاستِ سوات کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔
اس طرح کی باتوں کو، کہ ریاستِ سوات کے ترقیاتی کاموں میں انگریز اور پاکستانی حکومتوں اور ریاستِ سوات کے عوام نے ریاستِ سوات کے حکم رانوں کی مدد کی ہے اور یہ کہ ریاستِ سوات کے حکم ران انسان اور مطلق العنان حکم ران ہونے کی وجہ سے زیادتیوں کے مرتکب بھی ہوئے ہیں، اور اُن کا دور اتنا شان دار بھی نہیں تھا جیسا کہ اُسے مبالغوں کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے، بعض لوگوں کی طرف سے ریاستِ سوات کے حکم رانوں سے (حتیٰ کہ اس طرح کے دوسرے افراد کے ضمن میں بات ہو، تو بھی) کینہ، بغض اور عناد وغیرہ سے منسوب اور تعبیر کیاجاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک تحریر پر سوشل میڈیا پر اس طرح کے ایک تبصرے پر برخوردار کا اپنی طرف سے مہرِ تصدیق ثبت کرنے کی خاطر تبصرہ تھا کہ ’’بالکل درست فرمایا۔‘‘ ایسے افراد یہ بھول جاتے ہیں کہ شخصی حکم رانی کے اپنے فواید بھی ہیں اور نقصانات بھی…… یعنی اس کے منفی اور مثبت دونوں پہلو ہوتے ہیں اور یہی ریاستِ سوات کے ضمن میں بھی تھا۔
معلوم نہیں کہ برخوردار اپنی مذکورہ تحریر میں دیے گئے انگریز افسر کے لکھے ہوئے اس ثبوت کو بھی’’بالکل درست فرمایا‘‘ کے طور پر قبول کرے گا کہ ریاستِ سوات کو انگریز حکومت کی طرف سے تعلیمی ترقی میں باقاعدہ مالی امداد بھی ملتی تھی؟ نہ صرف یہ کہ تعلیم کے میدان میں بلکہ صحت اور مواصلات وغیرہ کے میدانوں میں بھی پہلے انگریز اور بعد میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ریاستِ سوات کی کئی حوالوں سے مدد ہوتی رہی ہے۔
تاہم معتقدین پر نہ صرف اس طرح کے حقایق کاسامنے لانا ناگوار گزرتا ہے بلکہ اس کے ماننے کے لیے کسی طور تیار بھی نہیں، جو کہ اندھے اعتقاد کے منفی اثرات کا حصہ ہے۔ لیکن اِس کا اُصولِ فنِ تاریخ نویسی اور اُصولِ تحقیق کے تحت تاریخ لکھنے اور تحقیق کرنے میں کوئی گنجایش نہیں کہ معتقدین پر گراں گزرنے کی خاطر حقایق کو سامنے لانے سے گریز کیا جائے یا اُن پر جھوٹ کی ملمع کاری کی جائے۔ جو بھی ایسا کرتا ہے، وہ پیشہ ورانہ خیانت کا ارتکاب کرتا ہے۔ نہ صرف ریاستِ سوات کے حکم رانوں، بلکہ اس طرح کے دوسرے لوگوں اور افراد کے ضمن میں بھی بعض لوگوں پر حقایق کا سامنے لایا جانا شاق اور گراں گزرتا ہے۔ تاہم ایسے افراد کے بارے میں تحقیق اور غور کرنے پروہ یا تو معتقدین نکلتے ہیں، یا آلۂ کار، اور یا اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے اسیر ہونے کی وجہ سے کچھ بھی کرنے، کہنے اور لکھنے سے گریز نہ کرنے والے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔