ملک میں غیر یقینی صورتِ حال کا ذمے دار کون؟

ملک اس وقت انتہائی غیر یقینی صورتِ حال سے گزر ہا ہے۔ کل کیا ہو جائے گا کسی کو کوئی علم نہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہے اور ہر کوئی اپنی راگنی گا رہا ہے۔ انتخابی دھاندلی سے مسلط شدہ حکومت کے بس کی بات نہیں کہ وہ ملکی معاملات کو احسن انداز میں چلائے۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھٹی قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) میرے پیارے قارئین! آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ کس طرح ریاستی نظام، شان دار رفتار اور کارکردگی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ رابطے […]
اونسالا رصدگاہ سویڈن کے دورے کا احوال

رصد گاہ (Observatory) ایک ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جو مخصوص طور پر آسمانی، زمینی اور بحری اجسام و واقعات کے مشاہدے کے لیے ایک خاص ہیئت پر بنائی جاتی ہے۔ یہ ہئیت فلکیات (Astronomy)، موسمیات (Meteorology)، سمندری سائنس (Oceanography) اور آتش فشانیات (Volcanology) پر تحقیق میں کام آتی ہے۔ پچھلے دنوں ہماری یونیورسٹی نے […]
ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب، لڑکی معافی کیوں مانگے؟

بہ حیثیت مسلمان مَیں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کو بہت پسند کرتا ہوں۔ دینِ اسلام کی تبلیغ و ترویج کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ گذشتہ دنوں لکی مروت کی رہایشی لڑکی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر ڈاکٹر صاحب کو سیخ پا ہوتے دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب کے لب […]
علی امین گنڈاپور کی روپوشی و رونمائی بارے چند چبھتے سوالات

علی امین گنڈاپور اپنے لاؤ لشکر اور سرکاری وسائل کے ساتھ جوں جوں اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، پی ٹی آئی کے ورکروں کا جوش اُس سے دُگنی رفتار سے آسمانوں کی طرف محوِ پرواز تھا۔ وہ راستے بھر جوشیلا خطاب کرتے ہوئے ورکروں میں ایک ولولۂ تازہ بھی پیدا کرتے چلے آ […]
پاکستان کا قیام، استحصال اور موجودہ تحریکیں: ایک جائزہ

ریاست کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی ضامن ہو۔ قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ہر شہری کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے، قطعِ نظر اس کے کہ اس کی قومیت، مذہب، نسل یا علاقے کا تعلق کیا ہے…… لیکن […]
ہمارے دور میں سینما گھروں کے ٹکٹ ریٹ

تحریر: ساجد آرائیں 1992ء میں جب سینما بینی کا آغاز ہوا، تو لاہور شہر کے سینماؤں کے ٹکٹ ریٹس معمولی سے فرق کے ساتھ مختلف ہوتے تھے۔ لاہور میں سینماؤں کی دو اقسام تھیں: مین سرکٹ کا سینما اور سائیڈ سینما۔ مین سرکٹ سے مراد سینما کی مرکزی مارکیٹ لاہور کے ایبٹ روڈ اور میکلورڈ […]
بختِ رحمان اور جمالیات سے عاری سماج

سوشل میڈیا پر وائرل کانٹینٹ اور شخصیات ہمیں سماجی ترجیحات کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔ اس تحریر پر بختِ رحمان کی ایک وڈیو نے مائل کردیا، جس میں اُسے موٹر کی اگلی سیٹ پر بٹھایا گیا ہے اور پیچھے موجود لوگ اُس کا جسم نوچ کر تنگ کر رہے ہیں، تاکہ وہ گالیوں […]
’’حیات‘‘ غلام فاروق اور ’’مرحوم‘‘ غلام فاروق

قارئین! غلام فاروق سے شناسائی تو معلوم نہیں کتنی پرانی ہے،مگر کالج میں پہنچا، تو پتا چلا کہ وہ ایک کلاس آگے تھا، آج کے غلام فاروق سے بہت مختلف۔ غلام فاروق ایک سیدھا سادھا، گرم جوش اور منھ پھٹ نوجوان تھا۔ لمبا چوڑا اور وجیہہ شخصیت کا مالک۔ غلام فاروق کی سنگت، زندگی اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پانچویں قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) شگئی سکول کو، اضافی تعمیرات کرکے، ہائی اسٹینڈرڈ پر اَپ گریڈ کر دیا گیا اور سنٹرل جیل، سیدو شریف کو(پرانی عمارت کو مناسب تبدیلیوں اور […]
گووندا، خالص مقامی اداکار

تحریر: ڈاکٹر مختیار ملغانی ہندوستانی فلم انڈسٹری ایک بڑی تاریخ رکھتی ہے اور تاریخ کے اس دھارے میں کتنے ہی لوگ ہیں، جو اس انڈسٹری سے منسلک رہے، جنھوں نے جہاں ایک طرف اپنی محنت سے اس انڈسٹری میں چار چاند لگا دیے، تو وہیں دوسری طرف انڈسٹری نے جواباً اُنھیں بے پناہ شہرت اور […]
ڈراما باز ججوں سے خدا کی پناہ

ریاستِ پاکستان کی بدقسمتی رہی، جہاں انصاف کے نام پر سرِ عام کھلواڑ کیا جاتا رہا۔ ایوانِ عدل میں براجمان منصفوں نے من مرضی آئین و قانون کی تشریحات جاری کیں۔ غیر آئینی و غاصب حکم رانوں کو حقِ حکم رانی عطا کرنا ہو، یا پھر عوامی نمایندوں کو پھانسی و پابندِ سلاسل یا اقتدار […]
کچھ عبدالغفور صاحب کے بارے میں

وہ جو راہ دِکھاتے ہیں، خود بھی منزلیں پاتے ہیں اور دوسروں کو بھی دلاتے ہیں۔ قابلیت اور صلاحیت راستے کی کسی دیوار کو نہیں مانتی۔ مین بازار مینگورہ میں چھولے بیچنے والے خوددار عبدالقیوم کو ایک ہی گلہ تھا کہ ’’مَیں پڑھ نہ سکا۔ کاش! مَیں پڑھ پاتا۔‘‘ اُن کا مصمم ارادہ تھا کہ […]
آرٹیکل 63 اے: کیا مولانا کی گاڑی چھوٹ گئی؟

سپریم کورٹ کے پنج رُکنی بنچ نے متفقہ طور پر مئی 2022ء میں دیا جانے والا آرٹیکل ’’63 اے‘‘ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب حکومت پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم کا بِل پیش کرنے جا رہی ہے۔ دو ہفتے قبل اس مقصد کے لیے قومی […]
نئی آئینی عدالت کے قیام کا اصل مقصد

آج کل آئینی ترمیم کا بڑا زور و شور ہے۔ اسے منظور کروانے کے لیے بڑے جتن ہو رہے ہیں، لیکن قانونی ماہرین اور وکلا نے اس ترمیم کو ذاتی مفادات کا شاخ سانہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ایک ملک گیر تحریک اس آئینی ترمیم کے بطن سے جنم لے رہی ہے، […]
سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوتھی قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) میرے والد نے اپنے بیٹے کو دوبارہ دیکھنے کی اُمید کبھی نہیں چھوڑی۔ جب ہم سردیوں کی لمبی راتوں میں آگ کے گرد بیٹھتے، تو […]
فضل حکیم کو سٹیج سے کیوں اُتارا گیا؟

قارئین! جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ 27 ستمبر بہ روز جمعہ نشاط چوک میں ’’سوات قومی جرگہ‘‘ کے زیرِ سایہ کام یاب اور تاریخی احتجاج ہوا۔ یاد رہے احتجاج سے ایک روز پہلے ڈپٹی کمشنر سوات نے سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا، لیکن پھر بھی اس احتجاج میں عام عوام، صحافی، […]
اب علم نہیں، معلومات اکھٹی کرنے کا دور ہے

ایک دور تھا کہ لڑکوں کے لیے پرائمری پاس کرلینا اُن کے پڑھا لکھا ہونے کی سند سمجھا جاتا تھا، بل کہ پرانے دور کے پرائمری پاس بزرگ اکثر میٹرک پاس نوجوانوں کو مقابلے کا چیلنج دیا کرتے تھے۔ زیادہ تر ریاضی کے مضمون میں یہ چیلنج ہوا کرتا تھا۔ نوجوان اُن کا چیلنج قبول […]
مزارِ شیخ ملی اور انتظامیہ کی ذمے داری

ملک شیخ آدم ملی یوسف زئی عالم فاضل مشاہیر میں سے ایک تھے، جو یوسف زئی کے مشہورملک، ملک احمد خان بابا کے ہم عصر اور اُن کے رفقائے کار میں سے تھے۔ پختونخوا پر قبضہ کے بعد بڑا سوال یہ تھا کہ مقبوضہ علاقوں کویوسف زئی اقوام میں کیسے تقسیم کیاجائے اور یہ کام […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیسری قسط)

(فضل رازق شہابؔ صاحب کی انگریزی میں لکھی گئی خود نوشت "Never Ever Dream Again” کا اُردو ترجمہ، جسے لفظونہ ڈاٹ کام پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے) اَب اپنے بچپن میں واپس چلتے ہیں۔ مجھے غالباً 1950ء میں سکول بھیجا گیا۔ میرا بڑا بھائی پہلے ہی تیسری جماعت میں زیرِ تعلیم تھا۔ […]