وہ توروالی صنعت جو معدوم ہوگئی

ایک صفحہ اریل سٹئین (Aurel Stein) کی کتاب "On Alexander’s Track to Indus” یعنی ’’دریائے سندھ تک سکندر اعظم کے راستے پر‘‘ سے لیتے ہیں۔ یہ سفر انھوں نے 1925ء میں کیا تھا۔ اس صفحے اور اس سے اگلے صفحوں کی رُو سے یہاں توروال میں اونی کمبل بنائے جاتے تھے جو کہ پورے ہندوستان […]

رمضان کا عشرۂ مغفرت

رمضان المبارک کے ’’عشرۂ مغفرت ‘‘ کا آغاز ہوچکا ہے، جو کہ اپنے اندر پہلے سے زیادہ اجر و ثواب سموئے ہوئے ہے۔ رمضان المبارک وہ مہینا ہے کہ جس میں نفل نماز کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب 70 گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ نہ جانے آیندہ سال اس ماہِ […]

کیا روزہ صرف منھ باندھنے کا نام ہے؟

ماہِ صیام کے آتے ہی مسجدیں پہلے سے زیادہ آباد ہوجاتی ہیں۔ 11 مہینے تک دن رات کاروبار اور دیگر کاموں میں بے تحاشا مصروف رہ کر نماز سے غفلت کرنے والے حضرات بھی اس ایک مہینے کے لیے نیک بن جاتے ہیں۔ رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک […]

موپاساں کی پیوند کاری اور ریاض قدیر

تحریر: ڈاکٹر روش ندیم مترجم کا کردار تاریخ میں نہایت بلند رہا ہے۔ کیوں کہ وہ دیگر تہذیبوں اور ثقافتوں کے افکارو تصورات اور فن وجمال کا لین دین کرتا ہے۔ مترجم کا کردار اتنا اہم رہا ہے کہ وہ اپنے تراجم کے ذریعے سے تہذیب و ثقافت کا جمود اور ان کے افکار و […]

ساغرؔ صدیقی اور ستارۂ امتیاز

کل جنھیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں مست مجذوب درویش شاعر ساغر صدیقی کو انتقال کے 50 سال بعد ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ ساغرؔ زندگی کو جبرِ مسلسل کی طرح کاٹنے والے شاعر تھے۔ ان کی سخی لعل شہباز قلندر کی عقیدت میں لکھی گئی […]

تاریخِ عالم (کتاب کا تعارف)

تحریر: اخلاق احمد قادری (کتاب کے مصنف) العلم التاریخ اپنے وسیع معنی میں انسان کی سرگذشت اور اُس کو اِس دنیا میں پیش آنے والے واقعات کا مرقع ہے۔ اِس مرقع کا آغاز اُس وقت ہوا جب انسان آدم سے پہلے یا بعد حیوانات کی منزل سے انسانیت کے دائرے میں قدم رکھا تھا۔ اس […]

عمران خان مذاکرات کے دروازے کھولیں

عمران خان کے لاہور کے جلسے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مقدمات، قاتلانہ حملے اور کردار کشی کی بدترین مہم کے باوجود وہ آج بھی غیر معمولی طور پر مقبول ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کو کامیاب کرکے لوگ 70 برس کی محرومیوں، غصے اور مقتدر طبقات سے اپنی ناراضی […]

میعاد

میعاد (عربی، اسمِ مونث) کا اِملا عام طور پر معیاد لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ علمی اُردو لغت (جامع)، فرہنگِ تلفظ، فرہنگِ آصفیہ، فرہنگِ عامرہ، نوراللغات، کریم اللغات، فیروز اللغات (جدید)، اظہر اللغات (مفصل)، جہانگیر اُردو لغت (جدید)، آئینۂ اُردو لغت اور جامع اُردو لغت کے مطابق صحیح اِملا ’’میعاد‘‘ ہے جب کہ اس کے […]

فرحت عباس شاہ کا اعزاز

وہ روایت شکن بھی ہے اور روایت گر بھی۔ جب کسی کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک کرنا ہو، تو کُھل کھلا کر کرتا ہے۔ نفرت بھی بے دھڑک اور ببانگِ دُہل کرتا ہے۔ اگر ایک طرف شجرِ ادب کی بلند و بالا شاخوں پر بیٹھے بوڑھے اور روایتی گِدھوں کو آڑے ہاتھوں لیتا […]

حقیقی فرانز کافکا کی تلاش

ترجمہ: عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی) پہلی دفعہ جب فرانز کافکا کی آواز میرے دماغ میں داخل ہوئی، تو مَیں اُس وقت پندرہ سال کا تھا۔ اَدب میں مشترکہ دلچسپی رکھنے کی بنیاد پر جو دو نئے دوست بنائے تھے، انھوں نے مجھے فرانز کافکا کے فکشن سے متعارف کروایا ۔ ہم باری باری "Willa” اور […]

کیا نواز شریف نے دیر کردی؟

اُردو کی مشہور ضرب المثل ہے: ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل!‘‘ فرہنگِ آصفیہ میں اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی کا نظروں سے اوجھل ہو جانا یا درمیان میں پہاڑ کا آ جانا ایک برابر ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھیں، تو یہ ضرب المثل اس پر 100 فی صد […]

باتونی بسیا (سلاوی لوک کہانی)

ترجمہ: جاوید بسام  (نوٹ:۔ یہ ایک ’’سلاوی لوک کہانی‘‘ (Salavic folk tale) کا ترجمہ ہے جس کا انگریزی میں عنوان "Chatterbox Basya” ہے، مدیر) سب لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ماہی گیر فطرتاً کم گو ہوتے ہیں۔ وہ شکار کے لیے سمندر میں جارہے ہوں، یا تھکے ہوئے ساحل پر واپس آرہے ہوں…… […]

روزے کا اصل مقصد

ایک بادشاہ کے دور میں کسی فاحشہ عورت نے چار جگہ شادیاں رچا رکھی تھیں۔ ایک خاوند سے خرچہ پانی لیتی۔ کچھ وقت گزارتی اور پھر میکے جانے کے بہانے دوسرے خاوند کے ہاں مال بٹورنے چلی جاتی۔ آخر کب تک وہ اس طرح کرتی! بات نکلتے نکلتے دربارِ سرکار تک جاپہنچی، تو تصدیق کے […]

احساسِ شرمندگی اور نفسیات

ایک مرتبہ ایک صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا، جو بااثر طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ہم انسان یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم سماجی مخلوق ہیں اور ہماری زیادہ تر گفت گو غیر زبانی اشاروں (Non-verbal Cues) میں ہوتی ہے۔ جناب کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا، لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ […]

توشہ خانے کے حمام میں سب ننگے ہیں

ریاستی اربابِ اختیار جب بھی بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں، تو واپسی پرغیر ملکی حکم رانوں کی طرف سے انتہائی قیمتی تحائف سے نوازے جاتے ہیں۔ فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/ پاکستان میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ہمارے طبقۂ اشرافہ […]

کبھی کبھار ہار بھی جایا کیجیے!

عقل بہت بڑی نعمت ہے۔ اتنی بڑی کہ گزرے وقتوں میں اس کا موازنہ بھینس سے کیا جاتا تھا اور اکثر یہ مثل سننے میں آتی کہ ’’عقل بڑی کہ بھینس!‘‘ یہ مثل عموماً اس وقت سننے میں آتی، جب کسی سے کوئی بے وقوفوں والا کام یا حرکت سرزد ہوجاتی تھی۔ رفیع صحرائی کی […]

ننھا فریک اور اس کا وائلن (ناروے کی لوک کہانیاں)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے) (نوٹ:۔ محترمہ شگفتہ شاہ نے ناروے کی لوک کہانیوں کو ترجمہ کرنے کا سلسلہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ کے ایک صفحہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ پر شروع کر رکھا ہے۔ ’’ننھا فریک اور اُس کا وائلن‘‘ مذکورہ سلسلے کی پانچویں کڑی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) بہت […]

آن لائن ٹھگ بازیاں

پہلے دور میں ٹھگ باز نوسر بازی کے مختلف طریقوں سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُنھیں اُن کی پونجی سے محروم کر دیا کرتے تھے۔ آج کل جدید دور آ گیا ہے۔ فیس بک، واٹس اَپ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے لوگوں کو اس سلسلے میں بہت باخبر کر دیا ہے۔ اب […]

کبھی تکمیل تک نہ پہنچنے والے ’’ٹُو گنڈہاٹ‘‘

تحقیق و تحریر: مقبول ملک  معروف جرمن فلسفی ’’ارنسٹ ٹُوگنڈہاٹ‘‘ (Ernst Tugendhat) تریانوے (93) برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ یہ جرمن مفکر عہدِ حاضر کے لسانیاتی تجزیاتی فلسفے کے علم بردار اہم ترین فلسفیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کا انتقال جنوبی جرمن شہر فرائی بُرگ میں ہوا۔ ’’ارنسٹ ٹُوگنڈہاٹ‘‘ کا نظریہ یہ تھا […]

دو اہم معاشرتی مسائل

آج ہم روایت سے ہٹ کر دو ایسے نازک معاشرتی مسائل پر لکھنا چاہتے ہیں، جو بظاہر بہت ہی بے ضرر اور معمولی محسوس ہوتے ہیں…… لیکن اگر ان کا بغور جائزہ لیا جائے، توکچھ واقعات میں یہ مسائل بہت سنگین نتائج پیدا کرتے ہیں۔ سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے […]

کیا دانش وروں کا اپنے سکھائے ہوئے علم پر عمل ہوتا ہے؟

ایک مرتبہ ایک جناب نے مجھ سے گفت گو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ زیادہ پڑھتے ہیں یا جس چیز کا پرچار کرتے ہیں، ان کا اس پر عمل نہیں ہوتا۔ مطلب یہی کہ جو بھی دانش ور لوگ ہوتے ہیں، ان کا اپنے سکھائے علم پر عمل نہیں ہوتا۔ کیا ایسا واقعی […]