امجداسلام امجدؔ اور عربی شاعری کے تراجم

تحقیق و تحریر: محمد افتخار شفیع امجد اسلام امجدؔ نے شاعری، ڈراما نگاری اور کالم نویسی کے میدان میں شہرت حاصل کی، لیکن عام طورپرایک مترجم کے طور پر اُن کے اوصاف نمایاں نہ ہوسکے۔ امجد اسلام امجدؔ شعرا کی اُس محدود تعداد میں شامل ہیں جنھوں نے محمد کاظم کی معاونت سے براہِ راست […]

احساسِ حق داریت

مجھے ایک ’’ای میل‘‘ موصول ہوئی جس میں لکھنے والے نے ایک خاتون کا رویہ بیان کیا اور مجھ سے پوچھنا چاہا کہ آخر یہ رویہ کیا ہے اور وہ ایسا کیوں کررہی ہیں؟ ویسے کسی کا بھی رویہ ہوبہو معلوم کرنا وہ بھی بِنا اُس انسان سے بات کیے، ممکن نہیں…… البتہ کچھ رویے […]

دانت درد جیسے لوگ (عربی ادب سے ترجمہ شدہ نثر پارہ)

ترجمہ: توقیر احمد بُھملہ جب آپ کے کسی دانت میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہوجاتا ہے۔ علاج کے باوجود راحت نہیں ملتی، تو صبر اور برداشت کی حد کو توڑتی درد کی ٹیسیں، آپ کی سوچ کو صرف ایک نقطے پر لا پھینکتی ہیں۔ اور وہ سوچ، اذیت دینے والے اس دانت کو نکالنے کی […]

کتاب ’’فکری روایات‘‘ کا اجمالی جائزہ

اردو یا پشتو میں کسی کتاب کا مطالعہ کروں…… اور صرف کیے گئے وقت کو بامعنی پاؤں، تو دوہری خوشی ہوتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کو پڑھنے کے بعد بھی کچھ ایسے ہی احساسات ہیں۔ مصنف جمشید اقبال نے صرف کسی کتاب پر اپنا نام کندہ کرنے اور مصنف کہلائے جانے کے چکر میں اُردو […]

علمیات (Epistemology)

تحریر: میثم عباس علیزی ’’علمیات‘‘ (Epistemology) فلسفہ کی ایک شاخ ہے، جس میں علم کے بارے میں بحث ہوتی ہے لیکن کس طرح……؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہم سوالات کے ذریعے سمجھتے ہیں کہ ’’علمیات‘‘ کا تعلق کن سوالات سے ہوتا ہے۔ جیسے : ٭ علم بذاتِ خود کیا ہے، یعنی خود علم کی […]

ضرب المثل شعر جس کا مصرعِ ثانی غلط لکھا اور پڑھا جاتا ہے

پرسوں ماہ نامہ اُردو ڈائجسٹ (مئی 2023ء) کو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ صفحہ نمبر 173 پر ’’دوانہ مرگیا‘‘ کے زیرِ عنوان درج تھا: ’’راجا رام نرائن موزوںؔ زیادہ تر فارسی میں شعر کہتے تھے۔ شیخ علی حزیںؔ اُن کے استاد تھے۔ نواب سراج الدولہ کے دامنِ دولت سے وابستہ رہے۔ ایک الزام میں ملزم قرار […]

’’ایک فکشن نگار کا سفر‘‘ (تبصرہ)

ترجمہ: رضوان الدین فاروقی  ضیا فاروقی کا شمار اُردو اَدب کے اُن قلم کاروں میں ہوتا ہے، جن کی پشت پر تقریباً نصف صدی کے تجربات کے نقوش کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اُن کے ادبی سروکار کا معاملہ ہے، تو یہ اُردو زبان و ادب کے اُن شہ سواروں میں […]

شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ’’میرے ہم نوا‘‘ کا مختصر سا جائزہ

اُبھرتے ہوئے نوجوان ادیب اور نثر نگار سجاد حسین سرمد کی شخصی خاکوں پر مشتمل دُوسری کاوش ’’میرے ہم نوا‘‘ گذشتہ دنوں شائع ہوئی، جس میں 12 شخصیات پر خاکے تحریر کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان شخصیات میں چار زندہ شخصیات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی ہے، جو کہ ایک […]

ٹیبولا راسا

تحریر: میثم عباس علیزی  کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی شخصیت کیسے بنتی ہے، آپ کے جذبات و احساسات کا دارومدار کس چیز پر ہے، یا آپ جو سوچتے ہیں وہ کیوں سوچتے ہیں، آپ کے رجحانات، تمایلات اور عقائد کیسے تشکیل پاتے ہیں، آپ کا ذہنی ڈھانچا کیسے تیار ہوتا ہے……؟ […]

سب سے قیمتی پھل (بلغارین لوک کہانی)

ایک باپ کے تین بیٹے تھے۔ وہ چوں کہ کافی ضعیف العمر ہوچکا تھا، چناں چہ مرنے سے پہلے تینوں بیٹوں میں سے کسی ایک کو اپنی پوری وراثت دینا چاہتا تھا، لیکن وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ تینوں میں سے کون زیادہ حق دار ہے؟ لہٰذا ایک دن اُس نے تینوں کو […]

مہاتما بدھ کا آخری وعظ

تحریر: اسلم انصاری  میرے عزیزو! مجھے محبت سے تکنے والو! مجھے عقیدت سے سننے والو! میرے شکستہ حروف سے اپنی من کی دنیا بسانے والو! میرے الم آفریں تکلم سے انبساطِ تمام کی لا زوال شمعیں جلانے والو! بدن کو تحلیل کرنے والی ریاضتوں پر عبور پائے ہوئے…… سُکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگو……! […]

زاہدہ حنا کے ناولٹ ’’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ کا تنقیدی جائزہ

1996ء میں لکھا گیا یہ وہ ناولٹ ہے جو زاہدہ حنا کے افسانوی مجموعے ’’راہ میں اجل ہے‘‘ میں شامل ہے…… مگر اسے افسانوں سے علاحدہ ’’ناولٹ‘‘ ہی کی حیثیت دے کر باعزت مقام عطا کیا گیا ہے۔ زاہدہ حنا کے بارے میں ادیب سہیل صاحب لکھتے ہیں: ’’زاہدہ حنا کی تحریروں کا خمیر بغاوت، […]

ایک سچا اور ایک جھوٹا لڑکا (ناروے کی لوک کہانی)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک بیوہ رہتی تھی۔ اُس کے دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام ’’سچا‘‘ اور دوسرے کا نام ’’جھوٹا‘‘ تھا۔ سچا لڑکا بہت ایمان دار اور ثابت قدم تھا، جب کہ دوسرا لڑکا بہت بدطینت اور جھوٹ کا پتلا تھا۔ اس لیے کوئی […]

غریب لڑکا اور شمالی ہوا (ناروے کی لوک کہانی)

ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے)  ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بیوہ عورت تھی، جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ عورت اب بے حد کم زور اور لاغر ہوچکی تھی۔ ایک روز اس نے اپنے بیٹے سے کہا، جاؤ اور اَناج کی کو ٹھری سے آٹا لے آؤ،تاکہ میں روٹیاں پکا لوں۔ لڑکا جوں […]

"ڈینڈی بوائے” (شخصی خاکہ)

بچپن کی بات ہے، ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھی اماں ہوا کرتی تھی۔ اس کے لخت جگر کا نام حنیف ہوا کرتا تھا۔ وہ جب بھی اُسے اُونچی آواز دے کر پکارتی، تو ہمیشہ اپنی سادگی اور بھول پن کی وجہ سے نحیف کہتی تھی…… یعنی ’’وے نحیف…… وے نحیف پتر!‘‘ مگر ہمارا دوست حنیف […]

وہ ضرب المثل شعر جو غلط کوٹ ہوتا ہے

کسی کے آنے سے ساقی کے ایسے ہوش اڑے شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں قارئین کرام! مجھے یقین ہے کہ آپ نے بھی درجِ بالا شعر الفاظ کی اِسی ترتیب سے سنا ہوگا۔ مَیں نے اِس حوالے سے اپنی چھوٹی سی ذاتی لائبریری میں پڑے شعری مجموعوں سے گرد اُڑائی، تو شعر جوں […]

ذم کا پہلو

میر انیسؔ برسرِ منبر تھے۔ انھوں نے یہ مصرع پڑھا: بحرِ نبی کے گوہرِ یکتا حسین ہیں لفظ ’’بحرِ‘‘ میں ذم کا پہلو تھا، ’’بہرے‘‘ سمجھا جاتا تھا۔ کسی نے ٹوکا، تو میر انیسؔ نے یہ لفظ بدل دیا اور کہا: کانِ بنی میں کے گوہرِ یکتا حسین ہیں لفظ ’’کانِ‘‘ میں بھی ذم کا […]

خان فضل الرحمان خاں کا ناولٹ ’’غالب اور ڈومنی‘‘

’’غالبؔ‘‘ نام ہی ایسا ہے جسے پڑھنے کو جی چاہے ۔ جسے کسی گرے ہوئے بندے کو تھپکی دیتے ہوئے ادا کیا جائے، تو وہ اُٹھ کر کھڑا ہو جائے۔ غالبؔ کی زندگی میں ڈومنی کا کردار، اُن کا قمار خانہ چلانا اور خود جوا کھیلنا، پنشن کی اُمید پر لوگوں سے لمبا اُدھار اُٹھا […]

روزے کے سماجی فوائد

رومی ہوں یا کلٹی، بابلین ہوں یا اشوری…… سب روزے کا اہتمام کرتے تھے۔ فلاسفرز ہوں یا ملحد، فلسفۂ صبروقناعت کے داعی ہوں، فیثاغورث کے مقلد ہوں یا افلاطونیت کے پیروکار…… سبھی روزے کی تائید کرتے ہیں۔ ہندو ازم، جین مت، کنفیوشیت، یہودیت، عیسائیت اور پارسی سبھی کے ہاں روزے کی روایت موجود رہی ہے۔ […]

سوانح نگاری

تحریر: پروفیسر عبدالحفیظ  سوانح نگاری کا فن بڑا ہی نازک اور بہت دشوار فن ہے۔ کسی بھی شخصیت کی سوانح مرتب کرنا اور پوری طرح سے اس سے عہدہ برآ ہوجانا ایسا ہی ہے، جیسے کوئی تلوار کی دھار پر چل کر سلامت اُتر جائے۔ سوانح نگاری میں مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جاتا […]

آپ بیتی

لفظ آپ بیتی دو لفظوں ’’آپ‘‘ ا ور ’’بیتی‘‘ کا مرکب ہے۔ آپ کے معنی ہیں ’’خود‘‘ اور بیتی ’’گزرے ہوئے حالات‘‘ کو کہتے ہیں۔ اپنے آپ یا خود پر گزرے ہوئے حالات کو قلم بند کرنے یا تحریر کرنے کو آپ بیتی کہتے ہیں۔ اصطلاح میں اپنے حالاتِ زندگی خود تحریر کرنے یا اپنی […]